وزیراعظم سے جہانگیر کو ملاقات کا وقت دینے کی درخواست
- اتوار 11 / اپریل / 2021
- 4310
پاکستان تحریک انصاف کے ناراض رہنما جہانگیر خان ترین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے والے اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی نے باضابطہ طور پر وزیر اعظم عمران خان سے درخواست کی ہے کہ وہ جہانگیر ترین سے ایک نکاتی ایجنڈے پر ملاقات کرلیں۔
ہفتے کو سیشن کورٹ میں پیشی سے قبل پی ٹی آئی کے دو صوبائی وزرا سمیت دیگر ایم این ایز اور ایم پی ایز نے جہانگیر ترین کے عشائیہ میں شرکت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا واحد ایجنڈا اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جہانگیر ترین کو ہدف نہ بنایا جائے۔ جہانگیر ترین نے خود متعدد مرتبہ بیان دیا ہے کہ وہ کسی بھی تفتیش سے خوفزدہ نہیں ہیں لیکن انوسٹی گیشن ٹیم غیرجانبدار ہو اور بیک ڈور ہدایت پر عمل پیرا نہ ہو۔
پی ٹی آئی کے 31 ایم این ایز اور ایم پی ایز نے وزیر اعظم کو اجلاس کے لیے ارسال کی گئی تحریری درخواست پر دستخط کئے ہیں۔ صوبائی وزیر زراعت ملک نعمان احمد نے اس کی تصدیق کی ہے۔ پارٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کسی دباؤ کا شکار نہیں ہوں گے۔ قبل ازیں پی ٹی آئی کے متعدد ایم پی ایز نے عثمان بزدار کی زیر قیادت حکومت پنجاب کے خلاف اپنے تحفظات کے اظہار کے لیے وزیر اعظم سے ملاقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن وزیر اعظم نے انہیں موقع نہیں دیا تھا۔
ارکان اسمبلی کا کہنا ہے کہ ہم جہانگیر ترین کے خلاف درج مقدمات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات چاہتے ہیں اور اس کے علاوہ کوئی اور ایجنڈا نہیں ہے کہ ان پر پارٹی مخالف ہونے کا الزام لگے۔ جہانگیر ترین، وزیراعظم کے اچھے دوست ہیں جنہوں نے ہر آزمائش میں عمران خان کی مدد کی۔
جہانگیر ترین کی ممکنہ گرفتاری سے متعلق سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ اگلی سماعت کی تاریخ میں ایک ہفتہ ہے۔ جہانگیر ترین کے ساتھ رابطے میں رہنے والے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ پنجاب میں حکومتی کارکردگی پہلے ہی مایوس کن ہے۔ اگلے انتخابات کے دوران داخلی سطح پر جھگڑا پارٹی کے مسقتبل کے لیے خطرناک ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر عبدالحئی دستی نے کہا ہے کہ اہم عہدوں پر فائز غیر منتخب لوگ پارٹی کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور وزیر اعظم کو اس صورتحال کا احساس کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیرترین نے خود کو پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت سے ثابت کیا۔
دوسری جانب گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور یا پی ٹی آئی کی حکومت جہانگیر ترین کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کررہی۔ پی ٹی آئی کی حکومت ’دو نہیں ایک پاکستان‘ کا وعدہ پورا کررہی ہے جہاں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ جہانگیر ترین وزیر اعظم عمران خان کے قریبی دوست رہے ہیں اور انہوں نے پارٹی میں اہم ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ وزیر اعظم یا حکومت کی جانب سے جہانگیر ترین کے خلاف کسی انتقامی کارروائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
انہوں نے زور دیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں ہے اور نہ ہی وفاقی یا پنجاب حکومت کو کوئی خطرہ ہے۔