ڈپلومیسی کا محاذ
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 11 / اپریل / 2021
- 5670
پاک بھارت تناظر میں اصل جنگ سفارتی محاذ پر لڑی جاسکتی ہے۔ بنیادی بات داخلی اور خارجی محاذ پر اپنے بیانیہ کو تسلیم کروانا ہوتا ہے اور رائے عامہ میں اس نکتہ کو بیان کرنا ہوتا ہے کہ ہمارا موقف درست ہے۔
آج کی دنیا میں جنگیں ہتھیاروں کی بجائے ڈپلومیسی کے محاذ پر لڑی جاتی ہیں۔ دانشورانہ یا سفارتی انداز اختیار کرکے ہم اپنے علاقائی اور عالمی معاملات پر دنیا کو اپنے ساتھ جوڑتے ہیں تاکہ اپنے موقف کے لئے پزیرائی حاصل کرسکیں۔ڈپلومیسی براہ راست او رپس پردہ دونوں سطحوں پر جاری رہتا ہے او راس کی مقصد اپنے لیے زیادہ سے زیادہ سیاسی مواقع یا سازگار ماحول کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
پاک بھارت تعلقات ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ بداعتمادی کے سائے میں سفارت کاری آسان نہیں ہوتی اور خاص طو رپر ایسے موقع پر جب دونوں اطراف ایسے انتہا پسند موجود ہوں جو امن سے زیادہ جنگ کو سیاسی ہتھیار سمجھتے ہیں۔اس لیے سفارتی محاذ کے علاوہ ریاستی سطح پر ریاست کے اندر بھی ایک جنگ ان لوگوں سے لڑنی پڑتی ہے جو پر امن کی کوششوں میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ بنیادی بات دو طرفہ مضبوط سیاسی کمٹمنٹ کی صورت میں ہونا چاہیے کہ دونوں اطراف سے امن کی خواہش موجود ہو۔ جب خواہش موجود ہو تو فہم و فراست، تدبر او رافہام وتفہیم کی مد د سے امن تلاش کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان او ربھارت کے درمیان مختلف ادوار میں بیک ڈور چینل سے سفارت کاری کا محاذ گرم رہا ہے۔ اس تناظر میں ہمیں کبھی کبھی اچھے نتائج بھی ملے ہیں، لیکن یہ نتائج اپنا تسلسل برقرار نہیں رکھ سکے۔ اس کا نتیجہ بداعتمادی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ آخری با ر بیک ڈور چینل کا سلسلہ 2018میں بھی ہوا۔ دونوں اطراف اور کچھ باہر کی قوتوں نے اس معاملے میں اپنا کردار ادا کیا۔ مقصد اس کا یہ ہی تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان توازن پر مبنی حکمت عملی اختیار کی جائے اور تعلقات میں سردمہری کم ہوسکے۔ خیال تھا کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا ڈیڈ لاک توڑا جائے ۔ پاکستان تواتر سے بھارت کو او ر دنیا کو بتا رہا تھا کہ وہ مذاکرات چاہتا ہے۔ بقول وزیر اعظم عمران خان کے اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھے گا تو ہم تین قدم آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔
بدقسمتی سے بھارت او رپاکستان کے درمیان بیک ڈور چینل کا جو سلسلہ 2018میں کسی نہ کسی شکل میں جاری ہو وہ 2019میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوگیا۔ ان مشکل حالات میں بھی مواصلت کے امکانات موجود ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ ان برے حالات میں بھی پاکستان او ربھارت کے درمیان بیک ڈورڈپلومیسی کے محاذپر کچھ نہ کچھ دیکھنے کو ملتا رہا ہے۔دونوں اطراف کے لوگ مختلف مقامات پر ملے او رمعاملات میں بہتری پیدا کرنے کے لیے کچھ بااثر ممالک نے بھی اپنا خا ص کردار ادا کیا۔
یہ ہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی بدترین صورتحال کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان کچھ خاطر خواہ نتائج ہمیں آج دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ پاکستان او ربھارت کے باڈرز پر کشیدگی میں کمی پر اتفاق خود ایک بڑی کامیابی ہے۔دونوں اطراف کے جو لوگوں نے بیک ڈور ڈائیلاگ میں بڑے مثبت انداز میں سازگار ماحول کو یقینی بنانے میں اپنا ابتدائی کردار خوب نبھایا۔پاکستان نے بھی مقبوضہ کشمیر میں کی صورتحال اور مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی تبدیلی پر بات چیت کی اور بھارت نے بھی اس پر مزید بات چیت کا عندیہ دیا۔
یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ اگر بھارت او رپاکستان کے درمیان حالات سازگار ہوتے ہیں تو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرکے حالات کی بہتری کے کچھ بڑے فیصلوں کی طرف پیش رفت کرسکتے ہیں۔پاکستان بھارت کو یہ باور کرواچکا ہے او رمزید اس بات پر اعتماد میں بھارت کو لیا جارہا ہے کہ وہ کسی بھی سطح پر غیر ریاستی عناصر، دہشت گر د یا دہشت گردی کی حمایت نہیں کرے گا۔
2020میں جاری بیک ڈور چینل کی مدد سے جاری گفتگو کا ایک عملی نتیجہ 2021میں ہمیں کچھ مثبت خبروں کی صورت میں دیکھنے کو ملا ہے۔مثال کے طور پر سیز فائر معاہدہ ہے۔ اسی طرح بھارت کی طرف سے ایک مثبت پیغام ہمیں کرونا ویکسین کی فراہمی کے اعلان کی صورت میں دیکھنے کو ملا۔
ایک بڑی خوشگوار پیش رفت ہمیں پاک بھارت تعلقات کی بہتری کی صورت میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے 23مارچ کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان کو تعلقات کی بحالی، بہتری کے حوالے سے لکھا جانے والا خط تھا۔ سفارتی او رڈپلومیسی کے محاذ پر نریندر مودی کے خط کو بارش کا پہلا قطرہ سمجھا گیا او راسی تناظر میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا جوابی مثبت خط بھی ہر سطح پر سراہا گیا۔ جو گفتگو اسلام آباد سیکورٹی کانفرنس میں وزیر اعظم او ر فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نیکی اس نے بھی عالمی سفارتی محاذ پر اور بھارت میں بھی پزیرائی حاصل کی۔
حالیہ دنوں میں پاک بھارت تجارت کا معاملہ درست طریقے سے ہینڈل نہیں گیا او ر اس کا نتیجہ کچھ بدمزگی کی صورت میں سامنے آیا۔لیکن اہم بات یہ ہے کہ پہلے سے جاری بیک ڈور چینل پر مثبت پیش رفت کی وجہ سے اس اہم مسئلہ پر بھارت کی جانب سے کوئی منفی ردعمل سامنے نہیں آیا۔پاکستان ہر سطح پر بھارت سے بہتر تعلقات کا خواہش مند ہے اور وہ اسے اپنی کمزوری نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے مفاد میں بھی اہمیت دیتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان تواتر کے ساتھ امن کی بحالی او ربہتر تعلقات کا بیانیہ ہر سطح پر پیش کررہا ہے۔ آگے بڑھنے کے لیے اہم بات یہ ہے کہ دونوں اطراف کشیدگی یا بداعتمادی و غط فہمی اور شکوک وشبہات کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی بجائے سازگار حالات کی بحالی میں مثبت پیش رفت کو ترجیحی ایجنڈا بنائیں۔بالخصوص بھارت کو تعلقات کی بحالی او رسازگار ماحول کو یقینی بنانے کے لیے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ایک بڑی پیش رفت دکھانا ہوگی۔
پاکستان داخلی، علاقائی پالیسی میں مقبوضہ کشمیر کو بنیادی اہمیت دیتا ہے او راس پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔یہ بات بھی پاکستان کئی بار کہہ چکا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جو بھی بہتری کا فیصلہ ہو وہ پاکستان او ربھارت سے زیادہ کشمیریوں کے مفادات سے جڑا ہونا چاہیے۔کیونکہ وہی بنیادی فریق ہیں او رہم ان پر اپنا ایجنڈا مسلط نہیں کرسکتے۔