کورونا ایس او پیز پر عمل نہیں ہورہا، علمائے کرام تعاون کریں: ڈاکٹر فیصل سلطان

  • سوموار 12 / اپریل / 2021
  • 6500

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے علمائے کرام سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا وائرس سے حفاظتی اقدامات کومؤثر بنانے اور ان پر عملدرآمد کے لیے کردار ادا کریں۔

اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں انہوں نے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر عملدرآمد کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں میری عوام سے اپیل ہے کہ ایس او پیز کو سنجیدگی سے لیں کیونکہ بیماری کا پھیلاؤ جاری ہے۔ اس نے ہمارے نظامِ صحت پر بہت شدید اثر ڈال رکھا ہے۔

ملک بھر میں یکم اپریل سے 11 اپریل تک کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ ایس او پیز پر عملدرآمد کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور ہسپتالوں کے سوا تمام شعبہ جات میں ایس او پیز پر عملدرآمد کی شرح تقریباً 50 فیصد رہی۔

احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کی سب سے کم شرح ٹرانسپورٹ کے شعبے میں دیکھی گئی۔  معاون خصوصی نے بتایا کہ این سی او سی کے اجلاس میں یہ بھی دیکھا گیا کہ کاروباری سرگرمیوں کی بندش والے دنوں میں بھی ایس او پیز پر پوری طرح عملدرآمد نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اندر بیٹھ کر کھانے یعنی انڈور ڈائننگ پر پابندی کے باوجود کچھ ریسٹورنٹس میں یہ سلسلہ جاری ہے۔ ماسک کا استعمال اتنا کم ہے کہ ہمارے لیے تشویش کا باعث ہے اور چند مقامات کے سوا اکثر جگہوں پر اس کا استعمال 5 فیصد بھی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ان احتیاطی تدابیر کو اپنائیں گے تو بیماری کے پھیلاؤ میں نمایاں اثرات نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔ انہوں نے علمائے کرام سے گزارش کی کہ وہ کردار ادا کریں تاکہ عوام میں آگہی پیدا ہو۔

معاون خصوصی نے کہا کہ 50 سال سے زائد عمر کے لوگ ویکسی نیشن کے لیے رجسٹریشن کروائیں اور 60 سال سے بڑی عمر کے افراد مقررہ تاریخوں پر جا کر ٹیکے لگوائیں۔ 65 برس سے زائد عمر افراد کے لیے واک ان ویکسی نیشن کی سہولت موجود ہے۔ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔

رواں ماہ کے آخر اور آئندہ 2 ماہ میں مزید لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں ویکسین موجود ہوں گی۔ ویکسی نیشن کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر کو اپنائے رکھیں کیونکہ اسی صورت یہ وبا کم ہوگی اور اپنے آپ کو اور اپنے پیاروں کو اس سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔