پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم کے تمام عہدے چھوڑنے کا اعلان کردیا

  • سوموار 12 / اپریل / 2021
  • 3450

پاکستان پیپلز پارٹی  نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے تمام عہدوں سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا ہے۔  کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی ڈی ایم کے شوکاز نوٹس کو مسترد کردیا۔

انہوں نے کہا کہ سیاست عزت اور برابری کے ساتھ کی جاتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی ڈی ایم شوکاز نوٹس پر پیپلز پارٹی اور اے این پی سے غیر مشروط معافی مانگے۔  بلاول بھٹو نے گزشتہ روز سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے دوران پی ڈی ایم کی جانب سے بھیجے گئے شوکاز نوٹس پھاڑ دیا تھا۔ اجلاس میں شریک ایک رہنما نے بتایا کہ چیئرمین نے پارٹی رہنماؤں کا مؤقف سننے کے بعد اور اپنا خیال پیش کرنے سے پہلے ہی وہ کاغذ پھاڑ دیا تھا۔

بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفے ایٹم بم کی طرح ہیں۔ یہ آخری ہتھیار ہونا چاہیے۔ ہمارا آج بھی یہی مؤقف ہے، کل بھی یہی مؤقف تھا۔ جس کو استعفیٰ دینا ہے دے دے لیکن کسی پارٹی کو ڈکٹیٹ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اے این پی کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ شوکاز دینے کی کوئی مثال پاکستان کی تحریکوں میں نہیں ملتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم دوسری جماعتوں کے کہنے پر ضمنی الیکشن کا بائیکاٹ کرتے تو ساری نشستیں پی ٹی آئی جیت جاتی۔  پنجاب میں سینیٹ کی 5 نشستیں پی ٹی آئی کو دی گئیں تو کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔  ’ہم پر کوئی اپنے فیصلے مسلط نہ کرے‘۔

انہوں نے بتایا کہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی  نے پی ڈی ایم کے شوکاز نوٹس کو مسترد کردیا ہے۔ ہم اپنی جدوجہد میں پیھچے نہیں ہٹ سکتے اور اے این پی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ فیصلے صلاح و مشورے سے کریں گے، ہم اپوزیشن کے خلاف اپوزیشن کی سیاست کی مذمت کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارے دروازے ہر اس پارٹی کے لیے کھلے ہیں جو حکومت کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ آخری موقعے پر لانگ مارچ کو استعفوں کے ساتھ منسلک کرکے اپوزیشن کو بہت نقصان پہنچایا گیا ہے لیکن ہم حکومت کے خلاف اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے مسلح افواج کی جان بوجھ کر تضحیک کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان پینل کوڈ اور ضابطہ فوجداری 1898 میں ممکنہ ترمیم کو بھی مسترد کیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت شہریوں کو ویکسین فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔  پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے وفاق پر زور دیا ہے کہ وہ  ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ ہماری پارٹی نے پاکستان تحریک انصاف اور عالمی مالیاتی ادارے کی عوام دشمن ڈیل کے خلاف ہے۔ یہ ڈیل پاکستان کے عوام اور معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔

اسٹیٹ بینک سے متعلق آرڈیننس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے پاکستان کے غریب عوام پر بوجھ پڑے گا۔ ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں اور ہماری پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ پاکستان کو اس اقدام سے باز رہنا چاہیے۔  پی ٹی آئی-آئی ایم ایف ڈیل سے خود کو الگ رکھنا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر ہم حکومتِ وقت کی متضاد پوزیشن  کے بھی خلاف ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور کشمیر کے عوام کا رشتہ، 3 نسلوں کا رشتہ ہے اور شہید ذوالفقار بھٹو سے لے کر آج تک ہم نے کشمیر کے عوام کے کاز پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر، پاکستان میں سب سے اہم مسئلہ ہے۔ کشمیری بہن، بھائی ایک تاریخی ظلم برداشت کررہے ہیں تو پاکستانی حکومت کا فرض تھا کہ ہم ان کی آواز بنتے۔