میرے مولا! بنا دے مدینہ یہاں

مدینہ ہماری آنکھوں  کا نُور اور دل کا سرور ہے اور ہم  برِ صغیر کے مسلمان پچھلے سینکڑوں سالوں سے قوالوں کے کندھوں پر سوار ہو کر  مدینہ جانے کی آرزو میں تڑپتے رہے ہیں۔  اور ہنوز خواہش کا یہ سفر ذوق و شوق سے جاری ہے ۔

ہم میں سے بہت سے صاحبانِ استطاعت متعدد بار مدینے گئے ہیں  اور جیسے گئے تھے شاید ویسے کے ویسے واپس لوٹ آئے ہیں۔ کچھ صاحبانِ مال و دولت ہر سال حج کرتے ہیں  اور سال میں دو دو تین تین عمرے کرتے ہیں  لیکن جب وہ واپس آتے ہیں تو نہ کوئی بلالؓ بن کر اُفقِ پاکستان پر طلوع ہوتا ہے اور نہ ہی ابو زرغفاریؓ بن کر شریعت کے قوانین کی پاسداری اور دفاع کرتے ہوئے جلا وطن ہوتا اور کسمپرسی میں مرتا ہے۔  اول درجہ کے بیشتر مومن مسلمان اپنے اکاؤنٹ سوئٹزر لینڈ، لندن اور دوبئی میں رکھتے ہیں ۔ غریب عوام کے نام پر بین الاقوامی استعماری اداروں سے قرض لیتے ہیں اور اُس میں سے اپنی کمیشن وصول کر کے اور اُس قرض کو عوام کے نام پر چھوڑ کر اپنی اپنی راہ لیتے ہیں۔ وہی دوبئی، لندن اور امریکہ۔

لین دین میں کمیشن کی وصولی جسے عرفِ عام میں دلالی کہا جاتا ہے، ہمارے دیسی معاشرے میں  ہر سطح پر رائج ہے ۔ یہاں انسانی تعلقات کی  نوعیت کچھ ایسی کاروباری ہے کہ ڈاک خانے کا راستہ بتانے تک  کو بھی  احسانِ عظیم سمجھا جاتا ہے  اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی یہ بات بتائی جاتی ہے اور اگلی نسلیں بھی اُس شخص کی اولاد کو جسے ڈاک خانے کا پتہ بتایا گیا تھا، اپنامقروض سمجھتی ہیں۔ چندے کے نام پر دی گئی بھیک اور خیرات کو باقاعدہ دستاویزی شکل دی جاتی ہے اور اپنی بھیک کے پاؤں میں  گھنگرو باندھ کر میڈیا کے کوٹھوں پر نچایا جاتا ہے۔  اور ہم  یہ سب عشقِ رسول ؐ میں کرتے ہیں۔

دفتر کا بابو ہو، مسجد کا مُلّا ہو یا سیاستدان کا کرپشن شریک  بھائی صحافی، سب تنخواہ کے علاوہ فضلِ ربی پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ کرتے ہوئے انشا اللہ، ماشا اللہ، سبحان اللہ اور الحمد للہ کی گردان نہیں بھولتے ۔ اللہ رکھے کیسے سچے اور کھرے ہیں ہم مسلمان۔ مگر ہماری زندگی کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ ہم گالیاں بھی بڑے ذوق شوق سے دیتے ہیں، پگڑیاں اُچھالنے اور ٹانگیں کھینچنے  میں بھی کسی سے کم نہیں۔ اور غیبت، بہتان تراشی اور ایک دوسرے سے نفرت کرنے میں بھی کنجوسی سے کام نہیں لیتے۔ یہ سب کچھ کرتے ہوئے مدینے کی طرف گامزن رہتے ہیں، مگر کیا مونہہ لے کر؟

ہمارے روز مرہ مکالموں، دوطرفہ گفتگو اور آپس کی بات چیت میں وہ عجز و انکسار اور ترحم  نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ہم مدینے کو جانے والے قافلے کے مسافر ہیں۔  مسافرانِ مدینہ تو خلقِ محمدی  کے سفیر ہوتے ہیں  جنہیں گالیاں سُن کر دعا دینے کا ہُنر آتا ہے ، وہ کمزوروں پر مہربانی کے اصول پر قائم ہوتے ہیں  مگر ہمارا  قومی سیاسی منظر نامہ کسی اور سمت اشارہ کر رہا ہوتا ہے۔ جب ہمارے سیاستدانوں کی پریس کانفرنسوں، ٹاک شوز میں کی گئی گفتگو اور سیاسی بیانات کی زبان  کا زہر سماعتوں کو آلودہ کرتا ہے تو بد زبانوں کے حق میں دلوں سے  بد دعا نکلتی ہے ۔ گالی کا جواب گالی سے دینا اُس  طوفانِ بد تمیزی کو ہوا دینا ہے  جو اسیاسی اختلافات کے نام پر برپا ہے۔

 ایک جھوٹ کے مقابلے میں ایک بہت بڑا جھوٹ بول جھوٹ کو نابود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ ہوا کے رُخ  پر تھوکنے کے مترادف ہے۔ وہ لعابِ دہن تھوکنے والے  کے اپنے مونہہ کو آلودہ کرتا ہے۔ یہ عمل باہمی  تنازعے کی جلتی پر تیل کا کام کرتا ہے جس سے فتنہ فساد کی آگ مزید بھڑکنے لگتی ہے۔ سیاسی اختلافات کے نام پر گالی گلوچ  کی جو ہزار طرفہ جنگ جاری ہے  وہ ہمارے سیاستدانوں کے فکری، عقلی اور اخلاقی قدوقامت کی چُغلی کھاتی ہے کہ یہ بونے  طلائی کھُسوں کے پنجوں پر کھڑے ہو کر اپنا قد بڑھانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں جو بجائے خود ایک مضحکہ خیز عمل ہے۔

 وہ تمام سیاست دان جو سوشل میڈیا کے غُنڈے کرائے پر لیتے ہیں، اپنے نا اہل ہونے کا  مونہہ بولتا ثبوت ہوتے ہیں۔ بے چارے غریب عوام ان غُنڈوں کے ہاتھوں  ذہنی عذاب سہ رہے ہیں۔  خُدا غارت کرے اس سوشل میڈیا وائرس کو  جو کان کھا رہا ہے، آنکھوں کی بینائی چھین رہا ہے  اور ہر کس و ناکس کا باطنی سکون غارت کر رہا ہے۔ تُف، تُف، تُف!