جنسی تشدد کو جواز کیوں؟
- تحریر افضال ریحان
- سوموار 12 / اپریل / 2021
- 7490
ہمارے میڈیا میں کچھ دنوں سے خواتین، حجاب، پردہ اور جنسی تشدد کے متعلق تند و تیز بحث چھڑی ہوئی ہے جس کا آغاز اہم ذمہ داری پر فائز شخص کے ریمارکس سے ہوا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ جو شخص جتنے حساس یا اہم عہدے پر براجمان ہو اسے زبان کھولنے سے پہلے الفاظ کے چناؤ میں اتنا ہی ذمہ دار یا محتاط بھی ہونا چاہیے۔ ہماری قدامت پسند روایتی سوسائٹی میں پہلے ہی فکری انتشار الجھائو یا کنفیوژن کچھ کم نہیں، جسے مزید بڑھاوا دیا جائے۔ اصولی بات ہے اگر ہم انسان کو اشرف المخلوقات تسلیم کرتے ہیں تو پھر اولاد حوّا و آدم میں نسلی، جنسی یا مذہبی بنیادوں پر قائم امتیازی رویئے بھی اختتام پذیر ہونے چاہئیں۔ تمام انسان بلاتمیز و تفریق قابل شرف و عزت ہیں جب تک کہ کوئی از خود انسانیت سے گر نہ جائے۔ دوسرے انسانوں سے وحشت، کمینگی اور بداخلاقی کا غیر انسانی رویہ اختیار نہ کرے۔
ہیومن رائٹس کا مطلب ہی ہے کہ جو حقوق اور آزادیاں آپ اپنے لئے پسند کرتےہیں وہ دوسروں کے لئےبھی پسند فرمائیں۔ کسی بھی مقدس نظریے کو جواز بنا کر آپ دوسروں کے حقوق اور آزادیاں چھیننے یا ان میں رخنہ ڈالنے کا کوئی استحقاق نہیں رکھتے ہیں۔ حقوق نسواں کے حوالے سے آج ہم جس قدر بھی بلند بانگ دعوے کریں لیکن تاریخی طورپر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ نام نہاد اخلاقیات کے نام پر خواتین کے حقوق کا استحصال کیا جاتا رہا اور پوری ڈھٹائی کے ساتھ صدیوں تک مختلف النوع بہانے تراشتے ہوئے اس مقدس استحصال کو جواز بخشا جاتا رہا جس کی بہت سی مضبوط و محفوظ ظالمانہ پاکٹس آج بھی ہماری سوسائٹی کو یرغمال بنائے رکھنے پر بضد ہیں۔
قدیم زمانوں کی تو سمجھ آتی ہے کہ انہیں اپنی آن بان شان، حکمرانی و سطوت کوقائم کرنے اور قائم رکھنے کے لئے جسمانی طور پر طاقتور جنگجوئوں کی ضرورت تھی۔ عورت اپنی جسمانی ساخت کے لحاظ سے ان کے اس معیار پرپوری نہیں اترتی تھی اس لئے وہ اسے محض اپنی شہوانی خواہشات کی تکمیل کا ذر یعہ ہی سمجھتے تھے یا پھر بچے پیدا کرنے والی مشین۔ اس لئے اس معصوم کو انہی دو حوالوں سے دیکھا جانچا اور پرکھا جاتا رہا ۔ اسے ناقص العقل ہی نہیں اور بھی بہت کچھ قرار دیا جاتا رہا۔ قبائلی ذہنیت میں اسے مردوں کی پراپرٹی خیال کرتے ہوئے اس کی حفاظت اور ناموس کا نظریہ گھڑا گیا۔ آج زمانہ بدل چکا ہے آج انسانی برتری کا معیار جسمانی یا حیوانی طاقت نہیں شعوری عظمت ہے، کوئی جتنا بڑا پہلوان ہو اسے ایک کلاشنکوف بردار معمولی آدمی یا عورت تہس نہس کرسکتے ہیں۔ سائنسی و تکنیکی ترقی نے بالفعل قدیمی نظریات کو فارغ کردیا ہے مگر اس خطۂ ارضی کے جن خطوں میں شعوری روشنی پوری طرح حاوی نہیں ہوسکی، وہی جہالت و جنونیت کی قدیمی اپروچیں یا سوچیں اپنی بالادستی کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہیں اور کہیں کہیں لڑ مر بھی رہی ہیں۔
آج جب درویش یہ سوال اٹھاتا ہے کہ تم لوگ وعظ کرتے نہیں تھکتے ہو کہ عورت مرد کے جوڑے بنائے گئے ہیں لیکن کیا جوڑے کا مطلب سمجھتے ہو؟ اس میں محض دو افراد آسکتے ہیں ، آپ نے ایک چار کی ریشو کہاں سے نکال لی ہے؟ آپ عورت مرد کی برابری یا مساوات پر باچھیں کھولے دعویدار بن کر کھڑے ہو جاتے ہو، مغرب اور مغربی اقدار پر بھونڈے الزامات عائد کرتے ہوئے ذرا شرم محسوس نہیں کرتے، مگر جونہی بات آئے گی عورت کو وراثت میں برابری کا حصہ دینے کی وہاں مخالفانہ حجتیں تلاش کرنے لگ جاؤ گے۔ نکاح، طلاق جیسے بنیادی انسانی معاملات سے لے کر زندگی کے کتنے متنوع ایشوز ہیں جہاں آپ کی سوچوں میں عورتوں پر مردوں کی برتری کا رجعت پسندانہ نظریہ کیوں حاوی ہو جاتا ہے ؟
ہماری سوسائٹی میں خواتین کے خلاف جرائم کی فہرست اتنی طویل ہے جس کا احاطہ کسی ایک کالم میں ممکن نہیں ہے۔ جنسی تشدد تو ان میں سے صرف ایک ہے۔ ہمارا سوال محض یہ نہیں ہے کہ اس غیر انسانی سوچ کی روٹس یا جڑیں کہاں سے پھوٹی ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ آج اکیسویں صدی میں ان ظالمانہ امتیازی سوچوں اور رویوں کو جواز بخشنے والے کس شعوری سطح کے لوگ ہیں؟ ایک عالم صاحب نےفرمایا تھا کہ اگر بلّے کے سامنے کھلا گوشت پڑا ہوگا تو وہ اسے کیوں نہیں کھائے گا؟ دوسرے نے کہا کہ اگر مکھن آگ کے پاس آئے گا تو وہ کیوں نہیں پگھلے گا؟ یہ کس ذہنی سطح اور قماش کے لوگ ہیں، ایسی بے سروپا ہانکتے ہوئے ان کے اندر کی انسانیت آخر کہاں چلی جاتی ہے؟ آج ایک شخص کہہ رہا ہے کہ ہماری سوسائٹی میں موجود جنسی تشدد کی وجہ فحاشی ہے۔ افسوس صد افسوس ایسے لوگوں کو فحاشی کے اصل معنی تک معلوم نہیں ہیں۔
فحاشی کا مطلب ہے بدتہذیبی، اگر آپ نے ساری زندگی لہو و لعب میں گزاری ہو، عقل شعور، فہم، تحقیق یا نالج کا اس میں کبھی گزر نہ ہوا ہو تو پھر کیسے معلوم ہوگا کہ تہذیب و شائستگی کس عظمت کا نام ہے؟ انسان اور بلّے میں کیا فرق ہے؟ پھر تو آپ ہر مجرمانہ ذہنیت، ہر قاتل کو یہ جواز دیں گے کہ مقتول کی کمزوری نے قاتل کو جارحیت کا جواز بخشا، ہر چیر پھاڑ کرنے والا کمزوروں کو کھا جائے گا اگر اصول و ضوابط نہ ہوں تو پھر انسان و حیوان میں فرق کیا رہے گا؟ ہماری سوسائٹی میں ناموس زن کا نگہبان یا ٹھیکیدار مرد کیوں ہے؟ ہم خواتین کو تعلیمی، مالی اور شعوری طور پر اتنا مضبوط ہوتے کیوں نہیں دیکھنا چاہتے ہیں جس میں وہ ناموس سمیت اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے کسی کی مرہون منت نہ رہیں۔
خواتین نے کون سے اور کیا کپڑے پہننے ہیں یہ ان کا ذوق اور ان کا حق ہے، آپ کون ہوتے ہیں ان پر ڈریس کوڈ ٹھونسنے والے؟ اگر کسی کے اپنے ذہن میں گندگی یا درندگی ہے تو وہ اپنی پراگندہ سوچ کی صفائی کا اہتمام کرے نہ کہ دوسروں کے لئے تلقین شاہ بنے۔ اگر خوش شکل خواتین کو دیکھ کر کسی انسان نما وحشی کو اپنے جذبات پر قابو نہیں رہتا تو اس کی جگہ اوپن سوسائٹی نہیں جیلخانہ جات بنتی ہے۔ جو لوگ جانوروں کے ساتھ کمینگی کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں قبرستانوں میں مردہ خواتین پر جنسی حملے کرتے ہیں کیا اس کی وجہ بے پردگی یا بے حجابی ہوتےہیں؟
ہمارے دینی مدارس میں معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ جو گھناؤنا کھیل کھیلا جاتا ہے، کیا اس کی وجہ ان کی بے حجابی ہے؟ یہ ’نیک‘ لوگ تو ہالی وڈ کیا بالی وڈ کی فلمیں بھی نہیں دیکھتے ہیں۔ اس تہذیبی سربلندی کے دور میں کسی جہالت و جنونیت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ پردے و حجاب کے مقدس الفاظ میں خواتین سے ان کی شناخت کا بنیادی انسانی حق چھیننے کی کوشش کرے۔