جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی عدالتی کارروائی براہِ راست نشر کرنے کی درخواست مسترد

  • منگل 13 / اپریل / 2021
  • 4890

سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے اکثریتی فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظرثانی کی درخواست پر عدالتی کارروائی کی براہ راست کوریج کے لیے دائر کی جانے والی درخواست مسترد کر دی ہے۔

10 رکنی بینچ میں سے چھ ججز نے درخواست گزار کے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کیا جبکہ چار ججز نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اس مؤقف کو تسلیم کیا ہے۔ یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی نظرِثانی درخواست کی عدالتی کارروائی کو براہِ راست نشر کیا جائے۔

سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یہ مؤقف پیش کیا تھا کہ اس مقدمے کی وجہ سے اُن کی شہرت اور ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور عدالتی کارروائی براہِ راست نشر ہونے سے عوام اُن کا مؤقف زیادہ واضح انداز میں جان سکیں گے۔

سپریم کورٹ کے جن ججز نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی متفرق درخواست کو مسترد کیا ہے ان میں بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس منیب اختر، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین اور جسٹس قاضی محمد امین شامل ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست کو مسترد کرنے والے ججز میں شامل جسٹس یحیٰی آفریدی نے اپنے اضافی نوٹ میں کہا ہے کہ عوام کا آئینی حق ہے کہ عوامی مفاد کے مقدمات کی نشریات دیکھ سکیں تاہم درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جو ریلیف مانگ رہے ہیں وہ ایک جج کے اٹھائے گئے حلف کے منافی ہوگا۔  انہوں نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ رجسٹرار سپریم کورٹ براہ راست نشریات کے معاملے کو فل کورٹ میٹنگ میں پیش کریں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس یحیٰی آفریدی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق ان کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔ جن ججز نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اس مؤقف کو تسلیم کیا ہے ان میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منظور ملک اور جسٹس مظہر عالم خان شامل ہیں۔ جسٹس مقبول باقر اور جسٹس منصور علی شاہ ان ججز میں شامل تھے جنہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں ٹیکس کے معاملات ایف بی آر میں بھیجنے کی مخالفت کی تھی۔

اختلافی نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ عدلیہ سمیت تمام ریاستی اداروں پر لازم ہے کہ وہ معلومات تک عوامی رسائی کے لیے اقدامات کریں۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مفادِ عامہ کے مقدمات کی عدالتی کارروائی دیکھ سکیں۔ اختلافی نوٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رجسٹرار سپریم کورٹ عدالتی کارروائی کی براہ راست کوریج کے لیے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر لنک فراہم کریں۔

واضح رہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے پانچ دسمبر 2020 کو اپنے خلاف صدارتی ریفرینس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نظرِ ثانی کی درخواست دائر کی تھی۔  جسٹس فائز عیسیٰ اپنی نظرِ ثانی درخواست کے ذریعے چاہتے ہیں کہ ’19 جون 2020 کے فیصلے کے پیرا گراف دو تا گیارہ پر نظر ثانی کر کے اسے واپس لیا جائے۔‘

اُنہوں نے ایک اضافی درخواست میں مطالبہ کیا تھا کہ اس مقدمے کی کارروائی عوام کے لیے نشر کی جائے۔