حکومت ہر قیمت پر امن و امان بحال رکھے گی: وزارت داخلہ

  • منگل 13 / اپریل / 2021
  • 5390

وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج و دھرنوں اور قانون شکن سرگرمیوں سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر داخلہ شیخ رشید کی زیر صدارت اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال پر اہم اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری، چیف کمشنر اور آئی جی نے شرکت کی جبکہ چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں ٹی ایل پی کی جانب سے احتجاج اور دھرنوں کے نتیجے میں ملک بھر میں پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

حکام نے فیصلہ کیا کہ قانون توڑنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا اور بند راستوں کو کھلوانے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔ جس شہر میں حالات خراب ہوں گے وہاں 24 گھنٹے کے لیے موبائل انٹرنیٹ سروس بند کردی جائے گی۔

لاہور میں صوبائی وزیر قانون راجا بشارت کی زیر صدارت بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں احتجاج کی وجہ سے بند کیے گئے راستے کھولنے کے لیے حکمت عملی وضع کی گئی۔ صوبے بھر کی ضلعی انتظامیہ کو اپنے اپنے علاقے میں بند سڑکیں کھلوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پنجاب کے وزیر قانون راجا بشارت نے کہا کہ ذرائع آمد و رفت بحال کرکے عوام کی مشکلات دور کی جائیں گی۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر تشدد کرنے والوں پر فوری مقدمات قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

انہوں نے اپیل کی کہ مظاہرین احترامِ رمضان کے پیش نظر پرتشدد احتجاج فوری روک دیں اور ماہ مقدس میں مظاہروں کی بجائے خود اور دوسروں کو آزادانہ عبادت کرنے دیں۔ صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ تشدد اور توڑ پھوڑ دین اسلام کی پر امن تعلیمات کے برعکس ہے۔ مظاہرین رمضان کی حرمت کے پیش نظر عوام کے لیے مشکلات پیدا نہ کریں اور مظاہرے ختم کردیں۔

صوبائی حکومت کے اجلاس میں اس بات کی بھی منظوری دی گئی کہ حالات زیادہ خراب ہونے پر فوج کی خدمات لی جاسکتی ہیں لیکن کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صورتحال کے پیش نظر پنجاب بھر میں پولیس ملازمین اور افسران کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں ٹی ایل پی کے کارکنان اور حامیوں نے احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے دیا تھا جس کی وجہ سے متعدد اہم شہروں میں ٹریفک جام ہو گیا تھا۔ احتجاج کے دوران 2 افراد ہلاک جبکہ پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

حکومتی اعلانات کے باوجود مظاہروں کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔ پولیس نے درجنوں افراد کو حراست میں لیا ہے۔  ٹی ایل پی کا پیر سے شروع ہونے والے احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ منگل کو بھی جاری ہے۔ جس کے باعث ملک کی کئی اہم سڑکیں بند ہیں اور ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہے۔

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے مطابق احتجاج کے باعث لاہور سے راولپنڈی جانے والی ہائی ویز 10 مقامات پر بند ہیں جب کہ لاہور سے ساہیوال جانے والا جی ٹی روڈ بھی پانچ مختلف مقامات پر بند ہے۔

ٹی ایل پی کے احتجاج کے باعث پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں آکسیجن سلینڈروں کی کمی کا سامنا ہے۔ سیکرٹری صحت پنجاب نبیل اعوان کے مطابق شہر کی مختلف سڑکیں اور راستے بند ہونے سے سرکاری اسپتالوں کو آکسیجن سلینڈروں کی سپلائی میں مشکل پیش آ رہی ہے۔​

ٹی ایل پی کے کارکنوں کی جانب سے پنجاب کے مختلف شہروں میں پولیس اہل کاروں پر تشدد اور املاک کو نقصان پہنچانے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ میں دکھائی جانے والی ایک ویڈیو میں ڈیرہ غازی خان میں مشتعل افراد ایک پولیس اہل کار کو تشدد کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

وزیرِ اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی حافظ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ لوگوں کو مارنا اور راستے بند کرنا کسی طور مناسب نہیں۔ تشدد اور توڑ پھوڑ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس کے بجائے بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے چاہئیں۔

وائس آف امریکہ نے اِس سلسلے میں تحریکِ لبیک پاکستان سے رابطہ کیا تو اُنہوں نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے گزیز کیا۔ تاہم اُن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں سعد حسین رضوی کی گرفتاری کی مذمّت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے ان کے حوصلے پست نہیں کرسکتی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ لانگ مارچ ضرور ہو گا جب کہ سعد حسین رضوی کی گرفتاری پر تحریک لبیک پاکستان  نے پاکستان بھر میں کارکنان کو اپنے اپنے شہروں میں اکٹھا ہونے کی ہدایت دی ہے۔