پیپلز پارٹی نے نئی مردم شماری کرانے کے منصوبے کو مسترد کردیا
- بدھ 14 / اپریل / 2021
- 3310
پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک میں تازہ مردم شماری کرانے کے حکومتی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک اور دھوکا ہوگا۔
پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کوئی بھی عقل والا اس حکومت پر اعتماد نہیں کرسکتا۔ ایک ہی مسئلے پر سندھ دو بار دھوکا کھانے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت انتخابی دھوکے سے اقتدار میں آئی ہے اور اس کے ریکارڈ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستانی عوام کے خلاف ہر طرح سے فراڈ کرنا چاہتی ہے۔
مشترکہ مفادات کونسل نے 2017 کی مردم شماری کے نتائج کی توثیق کی تھی۔ اس فیصلے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بات ناقابل یقین ہے کہ سی سی آئی، سندھ کے عوام کے صحیح گنتی کے حق کے خلاف ایک دھوکے کی توثیق کرسکتی ہے۔ سینیٹر تاج حیدر نے یاد دلایا کہ سینیٹ میں تمام فریقین نے پانچ فیصد آبادی کے بلاکس میں دوبارہ گنتی اور مردم شماری کے اعداد و شمار کی اصلاح کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
اس معاہدے میں سینیٹر اعظم سواتی کے دستخط بھی ہیں جو اُس وقت پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر تھے۔ سینیٹر تاج حیدر نے افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ حکومت اس معاہدے پر عمل درآمد کرانے کے بجائے تازہ مردم شماری کرانا چاہتی ہے جو ایک اور فریب ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ نے بار بار سی سی آئی کے دیگر ممبران کو یاد دلایا تھا کہ دوسرے صوبوں سے آنے والے تارکین وطن کو دھوکے سے سندھ کے بجائے ان کے اصل صوبوں میں ہی شمار کیا گیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے سینیٹر نے کہا کہ سندھ کی اصل آبادی ڈی فیکٹو طریقہ کار سے بین الاقوامی سطح پر منظور شدہ مختلف سروے میں تقریباً 6 کروڑ 20 لاکھ ہے نہ کہ 4 کروڑ70 لاکھ۔ اس دھوکہ دہی کی وجہ سے سندھ کے عوام کو نمائندگی اور وسائل کی تقسیم کا نقصان ہوتا ہے۔