امریکہ 11 ستمبر تک افغانستان سے تمام فوجی نکال لے گا

  • بدھ 14 / اپریل / 2021
  • 3690

امریکہ نے 11 ستمبر 2021 تک افغانستان سے اپنے تمام فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ کیا ہے جس کا باقاعدہ اعلان صدر جو بائیڈن کریں گے۔

حکومت کے ایک ذمہ دار اہلکار نے منگل کو بتایا کہ صدر جو بائیڈن سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں 20 برس سے جاری جنگ کا خاتمہ امریکہ کے مفاد میں ہے اور اس سے متعلق وہ بدھ کو اہم اعلان بھی کریں گے ۔ یاد رہے کہ امریکہ میں 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا۔ جس کے بعد واشنگٹن نے افغانستان پر حملہ کردیا تھا۔

سینئر امریکی اہلکار نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ عسکری طاقت سے افغانستان کے اندرونی سیاسی چینلجنز پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ اس سے افغانستان کے اندرونی تنازعات کا خاتمہ بھی ممکن نہیں۔ لہٰذا ہم افغانستان میں ملٹری آپریشنز ختم کر رہے ہیں جس کے بعد ہماری توجہ سفارتی کوششوں پر ہو گی۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران صدر بائیڈن کے افغانستان سے افواج کے انخلا کے منصوبے کی تصدیق کی ۔ ان کے بقول صدر بائیڈن کا خیال ہے کہ ہم افغانستان میں طویل عرصے سے ہیں اور اس مسئلے کا عسکری حل نہیں ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان گزشتہ برس ہونے والے امن معاہدے کے تحت تمام غیر ملکی افواج کو یکم مئی تک افغانستان سے انخلا کرنا ہے۔ تاہم صدر بائیڈن کے منصوبے کے تحت افغانستان میں موجود امریکہ کے تین ہزار فوجی یکم مئی کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی وہاں موجود رہیں گے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں طالبان کے ساتھ امن معاہدہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوا تھا جس کے تحت طالبان نے غیر ملکی افواج کو نشانہ نہ بنانے اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں سے روابط نہ رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

صدر بائیڈن کے افغانستان سے فوجی انخلا کے ممکنہ اعلان کی خبر ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب اسی روز امریکی نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر آفس نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ افغان مسئلے پر امن معاہدہ آئندہ برس ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ طالبان افغانستان کی منتخب حکومت کے دشمن ہیں اور میدانِ جنگ میں ایک مرتبہ پھر مضبوط ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر اتحادی ممالک افغان حکومت کی حمایت سے دست بردار ہوتے ہیں تو اس صورت میں کابل حکومت طالبان پر قابو پانے کے لیے اپنے تئیں جدوجہد شروع کر دے گی۔  بعض تجزیہ کار اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد مقامی شہریوں کو اس کے بھیانک نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی انخلا کے بعد کی صورتِ حال سے متعلق اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ کابل حکومت اور افغان عوام کی مدد جاری رکھے گا یا نہیں۔

دوسری جانب ترکی نے افغانستان سے متعلق 10 روزہ امن کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا ہے جس میں افغان تنازع کے فریقین اور دیگر ملکوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والی امن کانفرنس 24 اپریل سے چار مئی تک جاری رہے گی۔