تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگانے کا فیصلہ، وفاقی کابینہ منظوری دے گی
- بدھ 14 / اپریل / 2021
- 3760
ملک کے مختلف شہروں میں 3 روز سے جاری پُر تشدد احتجاج کے بعد وفاقی حکومت نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے بتایا کہ پابندی کی قرارداد حکومت پنجاب کی جانب سے آئی تھی جس کی سمری منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو ارسال کردی گئی ہے۔ ہم نے جو معاہدہ کیا اس پر قائم رہے ہیں لیکن جس مسودے کا تقاضا وہ کررہے تھے وہ اس ملک کو دنیا میں انتہا پسند ملک کا نام دیتا، جس کے لیے ہم تیار نہیں تھے۔ ہم شائستہ اور پارلیمانی زبان میں وہ قرار داد لا رہے تھے جو انہوں نے یکسر مسترد کردی۔
شیخ رشید نے کہا کہ احتجاج کے دوران ایمبولینسز کو روکا گیا، کووِڈ 19 کے مریضوں کے لیے منگوائی گئی آکسیجن روکی گئی۔ اس وقت جی ٹی روڈ، موٹرویز بحال ہیں۔ پر تشدد احتجاج کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ 340 زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ مظاہرین نے کچھ اہلکاروں کو اغوا کر کے ہم سے مطالبات کیے جو اب واپس اپنے تھانوں کو پہنچ چکے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر سڑکیں بلاک کرنے اور بد امنی کے پیغامات دینے والوں کا قانون پیچھا کررہا ہے۔ ہم آج بھی اس بات پر قائم ہیں کہ قومی اسمبلی میں ناموس رسالت سے متعلق ایسا بل پیش کریں جس سے نبی ﷺ کا جھنڈا بلند ہو۔ اس سلسلے میں ٹی ایل پی سے متعدد مرتبہ مذاکرات کیے گئے اور جب یہ اجلاس میں آتے تھے تو گھروں میں پیغامات ریکارڈ کروا کر آتے ہیں کہ فلاں فلاں سڑک بند کرنی ہے۔۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہماری آخری حد تک یہ کوشش رہی کہ باہمی اتفاق رائے سے اسمبلی میں قرار داد پیش کرنے کے لیے ان کو راضی کرلیں لیکن ہماری کوششیں ناکام ہوئیں۔ تمام کوششوں کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ ہر صورت میں فیض آباد چوک اسلام آباد آنا چاہتے تھے۔ ان کی پوری تیاری تھی جسے روکنے کے لیے پولیس نے بہت زبردست کام کیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ جو لوگ اس جماعت کا میڈیا چلا رہے ہیں، میں ان سے کہوں گا سرینڈر کردیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ٹی ایل پی والے ایسا مسودہ چاہتے تھے کہ تمام یورپی ممالک کے لوگ ہی یہاں سے فارغ ہوجائیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ جو مقدمات درج ہیں ان پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ عدالتیں سب کے لیے کھلی ہیں جو چاہے ان سے رجوع کرے۔
ٹی ایل پی نے فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں پر رواں سال فروری میں فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور فرانسیسی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے لئےاحتجاج کیا تھا۔ حکومت نے 16 نومبر کو ٹی ایل پی کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا تھا کہ اس معاملے میں پارلیمنٹ فیسلہ کرے گی۔ 16 فروری کی ڈیڈ لائن آئی تو حکومت نے سمجھوتے پر عملدرآمد کے لیے مزید وقت مانگا۔ ٹی ایل پی 20 اپریل تک احتجاج مؤخر کرنے پر رضامند ہوگئی تھی۔
گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اتوار کے روز سعد رضوی نے ایک ویڈیو پیغام میں ٹی ایل پی کارکنان کو کہا تھا کہ اگر حکومت ڈیڈ لائن تک مطالبات پورے کرنے میں ناکام رہتی ہے تو احتجاج کے لیے تیار رہیں۔ جس کے بعد حکومت نے انہیں دو روز پہلے گرفتار کرلیا تھا۔
واضح رہے کہ سعد رضوی ٹی ایل پی کے مرحوم قائد خادم حسین رضوی کے بیٹے ہیں۔ ٹی ایل پی سربراہ کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے شروع ہوگئے جنہوں نے بعض مقامات پر پر تشدد صورتحال اختیار کرلی۔
اس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد جاں بحق جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔ سڑکوں کی بندش کے باعث لاکھوں مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔