انسانی حقوق کے علمبردار آئی اے رحمٰن بھی رخصت ہوئے

ملک میں انسانی حقوق ،سیاسی آزادی اور اظہار رائے کی جداوجہد میں عملی اور تحریری حصہ ڈالنے والے مار کسسٹ ڈیموکریٹ آئی رحمان 90سال زنگی گزارنے کے بعد ہم سے بچھڑے گئے ۔

وہ کچھ سالوں سےشوگر اور بلڈ پریشر کے مر یض تھے ۔وہ بھارتی شہر ہریانہ میں 1930 کو پیدا ہوئے ۔علی گڑھ سے تعلیم حاصل کی ۔ ان کا خاندان قیام پاکستان کے بعد شچاع آباد (ملتان) منتقل ہوا۔ پھر لاہور آکر پنجاب یونیورسٹی سے ایم ایس سی فزکس کیا۔اپنی صحافتی زندگی کا آغاز  میاں افتخارالین کےباوقار اشا عتی ادارے پروگریسیو لمیٹڈ کے شعبہ فلم میں پاکستان ٹائمز میں بطور رپورٹر کیا ۔انہوں نے اپنی صحافتی کیرئیر میں ممتاز اخبارات اور رسا ئل میں لکھا ۔ جس میں ویو پوائنٹ ، اور ڈان جیسے معتبر جرید ے شامل ہیں۔ انہیں فیض احمد فیض ، مظہر علی خان ، طاہرہ مظہرعلی، سبط حسن، سجاد ظہیر ، عبداللہ ملک ، امین مغل، حسین نقی جیسی جید اور نام ور ترقی پسندو عہد ساز شخصیات کے ساتھ کام کر نے کا شرف حاصل تھا۔

ضیا الحق کے دور آمریت ان سب کو پی پی ایل سے نکال دیا گیا ۔۔وہ پاکستان ٹائمز میں1988 اور1990 میں چیف ایڈیڑ رہے ۔ صحافت چھوڑنے کے بعد وہ تسلسل کے ساتھ انسانی حقوق عورتوں ، اقلیتوں ، اور آزادی صحافت ، اور آئین وسول بالا دستی کے مو ضوعات  پر روزنامہ ڈان میں کالم لکھتے رہے ۔انہوں نے فریڈم آف پریس کے حوالہ سے قید وبند کی صعوبتیں بر داشت کیں۔انہیں کبھی اقتدار کے ایوانوں کے قریب رہنے کی خواہش نہی رہی۔ 

رحمٰن صاحب بنیادی طور پر مارکسسٹ ڈیمو کریٹ تھے ۔ مگر روائیتی بائیں بازو کے رہنماؤں کی طرح فکری و تحریری انتہا پسندی کا اظہار نہیں کیا۔ وہ کاٹ دار باتوں کو فیض احمد فیض کی شعریت کی طرح متوازن تحریروں میں ڈھال دیتے تھے ۔ وہ رواداری اور لبرل سوچ کے حامل تھے ۔ ہر کسی کی تنقید کو برداشت کرتے اور مناسب جواب دیتے تھے۔ وہ طویل عمری کے باوجود ان تھک انسان تھے۔ انسانی حقوق کے حوالہ سے ان گنت ملکی اور عالمی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ ان کا شمار صاحب فکرودانش اور قابل عزت کالم نگاروں میں ہوتا تھا جن کا قلم انسانی حقوق  کی سر بلندی کیلئے وقف تھا۔ شایدان کی روایات کے امین ضیاالدین ہی رہ گئے ہیں۔

رحمٰن صاحب ان تھک انسان تھے ۔وہ احتیاط سے کام لیتے تھے ۔وہ آمریت کے خلاف اورجمہوری تحریکوں ہمیشہ شامل رہے ۔کمیونسٹ پارٹی کے ممبر رہے اور عملی اور نظریاتی بیا نیہ ماڈریٹ رہا۔ کچھ عرصہ سیاسی حوالہ سے پیپلز پارٹی کے قریب رہے مگر یحی خان کے مشرقی پاکستان میں آپریشن کے بعد بھٹو کی سیاست سے لاتعلق ہو گئے۔ بعد ازاں فیض احمد فیض کے کہنے پر فلم اکیڈمی بنانے کے حوالہ سے بھٹو کے ساتھ کام کرنے کی حامی بھری مگر پی پی پی حکومت کی معزولی سے یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچا ۔

 میری ان کے ساتھ پہلی ملاقات روزنامہ پاکستان لاہور میں حمید جہلمی صاحب نے کروائی تھی۔ یہ نوجوان بائیں بازو کے فکر رکھتا ہےاور معیشت ، سماجی اور جمہوری حقوق کے بارے میں کالم لکھتا ہے۔  اکبر علی ایم اے کا شاگرد ہے۔ کہنے لگے میں اس کے مضامین پڑھ چکا ہوں ۔ یہ 1991 کادور تھا جب ملک کے نامور ترقی پسند لکھاری ڈاکڑ مہدی حسن، ڈاکٹر مبارک علی، قاضی جاوید ، سی آر اسلم اور دیگر روزنامہ پاکستا ن میں لکھتے تھے۔ اس طرح یہ روزنامہ امروز کی طرح ترقی پسند فکر کا حامل اخبار بن گیاتھا ۔ میری رحمٰن صاحب کے ساتھ ملاقاتوں سلسلہ لا متناہی ہے ۔جس میں انسانی حقوق کمیشن، پر ویز ونڈل کی تھاپ ، ذاہد اسلام کی سنگت فاؤنڈیشن ،الحمرا آرٹس کونسل اور دیگر جگہو ں پر ہونے والے سیمنار اور ورکشاپس شامل ہیں ۔ کبھی کبھی گفتگواور ملاقات  کا موقع فکشن ہاؤس ، بک ہوم اور نیرنگ خیا ل لائبریری میں مل جاتا تھا ۔میری ان سے آخری ملاقا ت انسٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے سیمنار اسلام آباد میں ہوئی تھی ۔ اس کے بعد علالت کی وجہ سے بستر پر ہوں اور صرف انٹر نیٹ ہی رابطہ رہ گیاہے۔

رحمٰن صاحب نے عاصمہ جہانگیر کے سا تھ مل کر انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی بنیاد رکھی اور اس کے مختلف عہدوں پر فائز رہے ۔ ڈاکڑ مبشر حسن کے ساتھ مل کر پاک انڈیا فورم بنایا۔ انہ وں نے اپنی تمام زندگی انسانی حقوق کے حصول کیلئے وقف کر رکھی تھی۔ اور ایک زندہ شخص کے طور زندگی گزاری۔ ان کی موت ایک عہد کی موت ہے۔  دکھ اس بات کا ہے کہ انکی فکری اور علمی روایات کے حامل نئے لوگ پیدا نہیں ہورہے ہیں۔

وہ درد دل رکھنے والے عظیم انسان تھے۔ یہاں ٹی وی ، اخبارات اور سوشل میڈیا پر خودسا ختہ خیالات بگھارنے والوں کا جنگل ہے جس میں کوئی آئی اے دحمن جیسادکھائی نہیں دیتا۔ میں نے ان کی خدمات کے اعتراف میں اپنی نئی کتاب  میرے فکری سفر کے پچاس سال کے ٹائیٹل پر ان کی تصویر لگائی ہے ۔