ڈڈیال جھنڈا کیس: اپیل خارج ہوگئی
تیرہ اپریل 2021 کو ڈڈیال جھنڈا کیس میں برطانوی کشمیری صحافی تنویر احمد اور ان کے ساتھی سفیر احمد کو مقبول بٹ شہید چوک ڈڈیال سے پاکستانی پرچم اتارنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اب سول کورٹ کی طرف سے دی گئی سزا کے خلاف دائر اپیل خارج کر دی گئی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج راجہ شمریز نے پچاس صفات پر فیصلے کا اعلان کرنے سے قبل راقم کی موجودگی میں وکلا سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ نے دلائل میں کوئی کمی نہیں چھوڑی لیکن اے پی سی 123 بی نے بحثیت جج ہاتھ با ندھے ہوئے ہیں۔ مجھے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگ اس قانون کو درست تسلیم نہیں کریں گے لیکن جب تک قانون موجود ہے عدالت کو اس کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ معزز جج نے قانون کی وہ کتاب ہمیں دکھائی جس میں 123بی کی تعریف لکھی ہوئی تھی ۔
ایڈیشنل سیشن جج نے تحریری فیصلے کو درست قرار دینے کے لیے طویل گفتگو کی۔ اس کیس میں سب سے اہم بات جو سامنے آئی ہے وہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا گھناؤنا کردار ہے جس نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آزاد ریاست جموں کشمیر کو بے اختیار کر کے خارجہ امور تو پہلے ہی پاکستان کے حوالے کر دیے تھے، اب ایسے ایسے قوانین بھی پاس کیے ہیں جو مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک منظور نہیں ہونے چاہئیں۔ یوں بھارتی مقبوضہ کشمیر اسمبلی جسیا کردار اختیار کیا گیا ہے۔
یہی نہیں بلکہ اس نام نہاد آزاد کشمیر کے فصلی بٹیروں نے آزاد کشمیر میں غیر ریاستی جماعتوں کی شاخیں قائم کر کے اور گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کو تبدیل کرنے کے حوالے سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔ اس طرح بھارت کے ہاتھ مضبوط کیے ہیں۔ اس سارے عمل میں تنویر احمد کا یہ موقف درست ثابت ہوا ہے کہ آزاد کشمیر آزاد نہیں ہے۔ میرے نزدیک جھنڈا ایک ثانوی اشو تھا۔ جب مسئلہ کشمیر حل ہو گا تو جھنڈے جیسے ثانوی اشوز خود بخود حل ہو جائیں گے۔ لیکن جب میں نے دیکھا کہ تنویر احمد نے جھنڈے کی بے حرمتی نہیں کی جو عدالت نے بھی تسلیم کیا مگر پھر بھی اسے مارا پیٹا گیا، گھسیٹا گیا اور تھانے میں ہی حل ہو جانے والے اس کیس کو عدالت تک پہنچایا گیا۔
ہماری کوششوں پر آزاد کشمیر حکومت نے توجہ دینے کی ہمت نہیں کی۔ اس طرح ہم پر واضح ہو گیا کہ تنویر احمد کو نشان عبرت بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے اس کی مدد کرنا ہمارا اخلاقی فرض تھا۔ اب ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی کے لیے جد و جہد کرنے والوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی صفیں درست کریں۔ جھنڈا کیس نے آزادی پسندوں کی حیثیت، اہلیت سوچ و فکر اور طرز عمل پر کئی سوالیہ نشان چھوڑے ہیں۔
یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے آزاد کشمیر کا جھنڈا پکڑ نے سے انکار کیا تھا جس پر کئی سوالات کھڑے ہوئے تھے۔ شاید یہ بھی ایک وجہ تھی کہ کچھ لوگوں نے ریاست جموں کشمیر میں ہندوستان، پاکستان اور چین کے جھنڈوں کی حیثیت پر سوچنا شروع کر دیا۔ بھارت نے تو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی جس کے خلاف آزاد کشمیر حکومت کوئی موثر کردار نہ ادا کر سکی۔ کیونکہ آزاد کشمیر کے اقتدار پرستوں نے آزاد کشمیر کی وہ حیثیت ہی نہ قائم رہنے دی جس کی بنیاد پر وہ پوری ریاست کی نمائندہ اتھارٹی کی حیثیت سے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اٹھا سکتی۔
حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تسلیم کرنا پڑے گا کہ مستقبل قریب میں آزاد کشمیر حکومت کا مسئ لہ کشمیر کے حل میں کوئی کردار نظر نہیں آتا جس کی وجہ سے بیرون ملک ریاستی باشندوں کو سفارتی محاذ اور اندرون ریاست آر پار آزادی پسند تنظیموں کو اپنے طرز عمل ہر غور کرنے کی ضرورت یے۔ وقتاً فوقتاً کسی کے انفرادی عمل ہر کوئی کمپین قائم کر لینا یا برسیاں منانا کا فی نہیں۔ بلکہ متحد ہو کر موثر لائحہ عمل مرتب کر نے کی ضرورت ہے۔