بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ
- جمعرات 15 / اپریل / 2021
- 8690
حکومت پنجاب نے جلد سے جلد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
روزنامہ ڈان کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں کو ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے مقدمات میں بیانات ریکارڈ کروانے کی اجازت دینے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا ہے کہ خصوصی عدالتیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مقدمات تاخیر کا شکار نہ ہوں اور ہر کیس کے فیصلے کے لیے ایک مخصوص ٹائم فریم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی قوم کا اثاثہ ہیں اور ان کے مسائل حل کرنا حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو انصاف کی فراہمی میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سمیت عدلیہ کے کردار کو سراہا۔ گورنر نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے اور گورنر ہاؤس میں ان کے کیسز کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کی۔
پنجاب کی ایڈیشنل چیف سیکریٹری ارم بخاری نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ تمام صوبائی محکمے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں خصوصی عدالتوں کے قیام سمیت کسی بھی تعاون کے لیے تیار ہیں۔ اس موقع پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ او پی سی کے وائس چیئرمین، متعلقہ عہدیداروں کے ساتھ سیکریٹری لا سے ملاقات کریں گے اور خصوصی عدالتوں کے قیام سمیت اقدامات سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دیں گے۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ ہمیں کورونا وائرس کے بحران کے باوجود پاکستان کی معاشی طاقت میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے کردار پر فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ اور عدلیہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی طور پر کام کر رہی ہے لیکن خصوصی عدالتوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے قانون میں ترمیم سمیت تمام اقدامات کیے جائیں گے۔