فرانسیسی شہریوں اور کمپنیوں کو پاکستان چھوڑنے کا مشورہ

  • جمعرات 15 / اپریل / 2021
  • 6740

فرانسیسی سفارت خانے نے تمام فرانسیسی شہریوں اور کمپنیوں کو عارضی طور پر پاکستان چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔

'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی سفارت خانے کی جانب سے یہ پیش رفت گزشتہ کئی روز سے پاکستان میں جاری پُر تشدد مظاہروں کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے ملک کے بڑے حصے کو مفلوج کر رکھا تھا۔ فرانسیسی شہریوں کو ارسال کردہ ای میل میں سفارت خانے نے کہا کہ 'پاکستان میں فرانسیسی مفادات کو لاحق سنگین خطرات کے باعث فرانسیسی شہریوں اور کمپنیوں کو عارضی طور پر ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا جاتا ہے'۔

دوسری جانب فرانسیسی سفارت خانے میں پریس اتاشی ویرونک وینگر نے اس بات کی تصدیق کی کہ ہم نے احتیاطی طور پر پاکستان میں موجود اپنے تمام شہریوں کو اگر ممکن ہو تو ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ احتجاجی مظاہروں نے فرانسیسی شہریوں کے لیے سیکیورٹی کے سنگین خطرات پیدا کردیے ہیں۔ سفارتخانہ ابھی بند نہیں ہوا لیکن محدود عملے کے ساتھ کام کررہا ہے۔

خیال رہے کہ ایک فرانسیسی میگزین کی جانب سے پیغمبر اسلام ﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر صدر ایمانوئیل میکرون کی حمایت کے بعد کئی ماہ سے پاکستان میں فرانس مخالف جذبات پائے جاتے ہیں۔ ملک بھر میں شہریوں نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم بھی چلائی تھی اور اس سلسلے میں مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔

دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں پر فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور فرانسیسی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس وقت بھی تحریل لبیک کے امیر سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک میں احتجاج جاری ہے۔