11 ستمبر تک تمام امریکی اور اتحادی فوجی افغانستان چھوڑ دیں گے: صدر بائیڈن
- جمعرات 15 / اپریل / 2021
- 6150
امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے گیارہ ستمبر تک امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ پر نائن الیون کے دہشت گرد حملے کے 20 سال بعد امریکی فوج کے افغانستان میں رہنے کا کوئی جواز نہیں۔
صدر بائیڈن نے کہا کہ افغان جنگ کے اہداف حاصل کیے جا چکے ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں قوم سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ افغانستان میں القاعدہ منتشر ہو چکی ہے اور اسامہ بن لادن کو کیفر کردار تک پہنچایا جا چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کی اس طویل ترین جنگ کو انجام تک پہنچایا جائے۔
صدر بائیڈن نے کہا کہ میں افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کی نمائندگی کرنے والا چوتھا امریکی صدر ہوں۔ اس سے پہلے دو ری پبلکن اور دو ڈیموکریٹک صدر افغانستان کی جنگ کے خاتمے کی کوششیں کر چکے ہیں۔ اور اب یہ ذمہ داری پانچویں صدر کے پاس نہیں جانی چاہیے۔
صدر نے کہا کہ بطور نائب صدر افغانستان کے دورہ کے دوران میرا پہلے سے خیال پختہ ہو گیا تھا کہ افغانستان کے پائیدار سیاسی حل کے لیے افغان قیادت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ امریکی اور اتحادی افواج میں اضافہ افغانستان میں مستحکم حکومت قائم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے اتحادیوں، فوجی لیڈروں، قانون سازوں اور نائب صدر کاملا ہیرس سے مشاورت کے بعد اس سال گیارہ ستمبر کو افغانستان سے اپنی افواج کے انخلا کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے ساتھ بھی اپنے فیصلے پر مشاورت کی ہے۔
صدر بائیڈن نے اس بات پر زور دیا کہ اُن کی انتظامیہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیامِ امن سے متعلق بات چیت اور افغان فوج کی تربیت کے لیے بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان کو اس بات کے لیے جواب دہ ٹھہرایا جائے گا کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو کسی دہشت گرد گروہ کے استعمال میں نہ آنے کے وعدے کی پاسداری کریں۔
صدر جو بائیڈن نے طالبان کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے عمل کے دوران حملے کیے تو امریکہ اور اتحادی مل کر اس کا سخت اور پوری قوت سے جواب دیں گے۔ امریکہ کی سابق حکومت اور طالبان کے درمیان گزشتہ برس ہونے والے امن معاہدے کے تحت تمام غیر ملکی افواج کے افغانستان سے نکلنے کی حتمی تاریخ یکم مئی مقرر کی گئی تھی۔ تاہم صدر بائیڈن کے اس منصوبے کے تحت افغانستان میں موجود امریکہ کے تین ہزار فوجی اب یکم مئی کی ڈیڈ لائن کے مطابق نہیں، گیارہ ستمبر کی ڈیڈ لائن کے مطابق اپنا انخلا مکمل کریں گے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں طالبان کے ساتھ امن معاہدہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوا تھا جس کے تحت طالبان نے غیر ملکی افواج کو نشانہ نہ بنانے اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں سے روابط نہ رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
صدر جو بائیڈن نے اپنے تمام فوجیوں کے انخلا کے بارے میں منصوبے کا خاکہ پیش کرتے ہوئے افغانستان کو مستحکم کرنے میں خطے کے ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان سے تعاون طلب کیا۔ اس نئے منصوبے کے تحت 2 ہزار 500 امریکی اور 7 ہزار نیٹو اتحاد کے فوجی بتدریج افغانستان سے نکلیں گے۔ یہ منصوبہ یکم مئی سے شروع ہوگا اور 11 ستمبر 2021 کو اختتام پذیر ہوگا جو ستمبر 2001 میں امریکا میں ہونے والے حملے کی 20ویں برسی کا روز ہوگا جس کی وجہ سے افغانستان میں امریکا نے جنگ کا آغاز کیا تھا۔
صدر بائیڈن نے کہا کہ ہم خطے کے دیگر ممالک بالخصوص پاکستان، روس، چین، بھارت اور ترکی سے افغانستان کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنے کو کہیں گے کیونکہ افغانستان کے مستحکم مستقبل میں ان سب کا مفاد ہے۔
قبل ازیں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں کہا تھا کہ پاکستان تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اتفاق رائے کی بنیاد پر افغانوں کے زیر قیادت میں پُر امن افغانستان کے لیے ہمیشہ اپنی حمایت جاری رکھے گا۔
اسلام آباد سے جاری ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ سیکریٹری انٹونی بلنکن نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مستقل کوششوں کا اعتراف کیا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بڑھانے کا وعدہ کیا۔