لَبّیک رنگ
- تحریر مسعود مُنّور
- جمعرات 15 / اپریل / 2021
- 11410
بربریت ، ظُلم ، دہشت اور جفا آزاد ہے
اب خُدا کی بستیوں میں ہر بلا آزاد ہے
باؤلے کُتّوں سے بے قابو الاؤ ، آگ کے
آندھیاں ، طوفان ، زہریلی ہوا آزاد ہے
سُنتا رہتا ہوں میں تفسیروں کی بجتی بیڑیاں
کون کہتا ہے یہاں حرفِ خُدا آزاد ہے
کوچہ و بازار میں پھرتے ہیں وحشی بھیڑیے
مسجدوں میں سخت زندیقی نوا آزاد ہے
ایڈز ، کینسر ، آتشک ، ڈینگی کرونا وائرس
اپنے پاکستان میں ہر اک وبا آزاد ہے
بیچ ڈالیں گے خُدا کا مُلک ڈالر کے عوض
ہر تجارت کے لیے کھوٹا کھرا آزاد ہے
کاسہ این جی او کا لے کر لُوٹتا ہے قوم کو
اہلِ سرمایہ کا پروردہ گدا آزاد ہے
عشق کے ایوان میں کرتے ہیں رانجھے سازشیں
ہاں ، وفا کے نام پر ہر بے وفا آزاد ہے
وہ کلب میں جا کے ناچے یا کسی پب میں پیے
آج کل شیخِ حرم بعد از عشا آزاد ہے
ہیر اور سوہنی کی سُنّت ، کون کرتی ہے ادا
ازدواجی جیل میں ہر گل قبا آزاد ہے
گو حیا کے نام پر مسعود ہیں کچھ قدغنیں
پھر بھی اُس کی بزم میں ناز و ادا آزاد ہے