آئی اے رحمن: سیکولر اقدار کے علمبردار
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 16 / اپریل / 2021
- 10180
ممتاز دانشور، صحافی اور استاد آئی اے رحمن 90سالہ بھرپور زندگی گزارنے کے بعد آج راہی ملک عدم ہوئے ہیں تو ان کی زندگی کے حالات و واقعات ذہنی کینوس پر نمودار ہو رہے ہیں۔
آپ یکم ستمبر 1930 کو ہریانہ کی رند بلوچ فیملی میں پیدا ہوئے مگر رحمن صاحب کا لب ولہجہ بڑا نستعلیق، تہذیبی آداب کے ساتھ دہلوی تھا۔ دراصل گڑ گاؤں ایک طرح سے دہلی کا ہی حصہ ہے اور پھر ان کی گریجواشن علی گڑھ یونیورسٹی سے تھی۔ پارٹیشن کے نتیجے میں مہاجرت کا صدمہ سہنے کے بعد اگلی تعلیم انہوں نے جی سی لاہور سے مکمل کی۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز پاکستان ٹائمز میں رپورٹنگ سے کیا۔ بعدازاں اسی اخبار کے چیف ایڈیٹر بھی رہے یوں فیض احمد فیض کی شخصیت و فکر سے فیضیابی کا شرف بھی حاصل رہا ۔
کوئی ربع صدی قبل جب ان سے شرف ملاقات حاصل ہوا تو رحمن صاحب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے تھے اور محترمہ عاصمہ جہانگیر کے بہت قریب خیال کئے جاتے تھے۔جن کے ساتھ مل کر دیگر احباب کی معاونت سے یہ ادارہ تشکیل پایا۔ مابعد 2008سے 2016 تک آپ اس ادارے کے سیکرٹری جنرل رہے ۔آپ پاک ہندفورم برائے امن وجمہوریت کے بانیان میں سے تھے۔ ہر دو ممالک میں غلط فہمیاں مٹانے اور انہیں قریب لانے کیلئے ان کی وسیع خدمات ہیں۔ ہندوستان سے امن اور اچھے تعلقات کیلئے ان کی بھاونائیں بھرپور تھیں۔ پاکستان میں انسانی حقوق بالخصوص غریب اور دبے ہوئے طبقات اقلیتوں اور خواتین کیلئے ان کی توانا آواز تھی۔ ان کی انگریزی تحریریں بیرون ملک بھی ریفرنس کی حیثیت سے پڑھی جاتی تھیں۔ وہ ایک ایسے متحرک انسان تھے کہ درویش کسی بھی فورم یا مجلس میں گیا محترم آئی اے رحمن کو وہاں حاضر و موجود پایا۔ ان سے محبت کرنے والوں کی کہیں کمی نہ تھی ۔
پاکستان میں انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ جمہوریت اور شہری آزادیوں کیلئے بھی ان کے قلم کی جولانی میں کبھی نقاہت آئی نہ زبان میں لکنت، جب جب یہاں آمریتیں مسلط ہوئیں آئی اے رحمن ان کے خلاف متحرک پائے گئے ۔ بنگالیوں سے لے کر بلوچوں تک فاٹا سے لے کر ہزارہ اقلیتی فرقے تک کہیں کوئی سستی یا کوتاہی نہیں ہوئی ۔مسئلہ جبری گمشدگیوں کا ہو یا جبری مشقت کا، مذہبی جبر کا ہو یا سیاسی آمریت کا، رحمن صاحب نے الفاظ کا بہترین چناؤ ہی نہیں کیا، پیرانہ سالی کے باوجود ایسی ہر تحریک میں پیش پیش رہے۔ کچھ عرصہ قبل تک لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ بزرگ تھک بھی جاتے ہوں گے ۔ان کے سراپے میں کیا بزرگانہ شفقت و اپنائیت تھی۔ مسکراتے چہرے کے ساتھ چھوٹوں بڑوں سب پر مہربان۔ ایک تہذیبی ر کھ رکھاؤ کے ساتھ، ایک وقار اور ساتھ ہی بلا کی سادگی و عاجزی۔
اگست1997میں ’’زندگی‘‘ کیلئے ان کا انٹرویو کرتے ہوئے لکھا ’’وطن عزیز کے قدآور دانشور، رحمن صاحب ، سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے اپنی بات طریقے سلیقے اور مہذب انداز سے پیش کرتے ہیں جس میں منطقی استدلال اور تدبر جھلکتا ہے‘‘ ۔ جب یہ سوال کیا کہ رحمن صاحب! آپ کی نظر میں پاکستان کا بنیادی مسئلہ کیا ہے ؟ تو کیا خوب گویا ہوئے ’’میری نظر میں پاکستان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے یہاں جمہوری نظام اور اسلامی معاشرت کو ہم آہنگ کرنے کا الجھاؤ دور نہیں کیا ۔ ہمارے ہاں بالعموم عوامی سطح پر روایت ایک ایسے اسلام کی رہی ہے جو حالات، زمانے اور سماجی تقاضوں کے ساتھ اپنی روز کی تشریح کرتا رہا ہے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ لبرل روایت کو آگے بڑھانے کا کام نہیں ہوا اور جمہوری نظام کو جانچنے پر بھی کام نہیں ہوا۔ جمہوری نظام کو کھلے اور چھپے ہائی جیکروں نے ہائی جیک کرلیا، خواہ وہ وردی میں تھے یا سول لباس میں۔ ہمارے ملک کے سیاست دان بھی آمرانہ نظام کے قائل رہے ہیں اور اب بھی وہی روایت چل رہی ہے۔
دوسری طرف لبرل اسلام کے داعی مثلاً علامہ اقبال جیسے خیالات رکھنے والے لوگ اپنے کام سے غافل ہو کر بیٹھ گئے اور سارا میدان ایسے عناصر کے لئے کھلا چھوڑ دیا جنہوں نے اپنی فقہ کو چھ سو سال پہلے منجمند کر دیا تھا۔ اقبال کا جو نقطہ آغاز تھا کہ ہم ایسا ملک بنائیں جس کے ذریعے اس منجمند فقہ سے آزادی حاصل ہو۔ اس کے برعکس ہم اور پیچھے چلے گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں جمہوریت اور عقیدہ دونوں متنازع ہوگئے‘‘۔ مذہبی لٹریچر سے متعلق ایک سوال پر بولے ’’میں ایک دفعہ داتا دربار مارکیٹ گیا جہاں یہ کتابیں چھپتی ہیں۔ دو ایک کتابیں دیکھیں تو کانوں کو ہاتھ لگایا۔ ایک دوسرے کے خلاف مغلظات و خرافات سے پر تھیں۔ ٹاؤن شپ میں ایک جگہ دو مساجد ہیں جن میں دس سال سے مقابلہ چل رہا ہے۔ یہ کام سیکولر لوگ تو نہیں کر رہے ہیں خود مذہبی لوگوں نے لاؤڈ سپیکر لگائے ہوئے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف فتویٰ جاری کرتے ہیں۔ ایک مسجد میں کوئی نماز پڑھ لیتا ہے تو اسے کہتے ہیں کہ آپ کی نماز نہیں ہوئی۔ میں اسی شہر میں رہتا ہوں میں آپ کو دکھا سکتا ہوں کہ مسجد کے دروازے پر لکھا ہوا ہے کہ یہ فلاں فرقے کیلئے مخصوص ہے۔ یہ کام سیکولرازم نے تو نہیں کیا‘
اسلامی ریاست کے تصور پر آئی اے رحمن صاحب کیا خوب بولے: ’’میں یہ بات کہنے کیلئے تیار ہوں کہ اسلام میں کسی مذہبی ریاست کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اسلام وقت اور انسانی شعور کے ساتھ چلتا ہے۔ فقہ کا بنیادی اصول ہے کہ زمان و مکاں کی تبدیلی سے حکم بدل جاتا ہے۔ اسلامی ریاست کی اصطلاح ایک سلوگن ہے کیونکہ مذہب ایک زندہ ہستی کے عقیدے اور اس پر عمل کا نام ہے جبکہ ریاست ایک باڈی ہے کارپوریٹ باڈی مذہب کا مظہر نہیں ہو سکتی۔ لیکن اس پر زیادہ توجہ نہیں دی گتی۔ میرا موقف بالکل واضح ہے نمبر 1اسلام کی رو سے مذہبی ریاست کا قیام ہمارے لتے لازم نہیں ہے ۔ نمبر2 اگر آپ مذہبی ریاست بنائیں گے تو خون وفساد ہوتا رہے گا۔ نمبر3معاملات عقل و شعور کے ساتھ طے کرنے کا کہا گیا ہے یہیں سے اجتہاد و اجماع کا نظریہ نکلا ہے ...دراصل گزشتہ سو سالوں سے ہماری سوچوں میں بڑا فرق آیا ہے۔ پہلے کہتے تھے کہ جمہوریت اور جدید سائنسی ترقی کی بنیاد اسلامی علوم ہیں۔ آج کہتے ہیں کہ جمہوریت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ الگ نظام ہے۔ اب کٹھ ملاؤں نے جمہوریت اور سائنس کو مغربی سوچ وفکر کا نام دیتے ہوئے انہیں غیر اسلامی قرار دے دیا ہے۔ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کوٹ پتلون کو بھی غیر اسلامی قرار دیتے ہیں کہ یہ آنحضرتؐ نے استعمال نہیں کی .... سیکولر ازم کا مطلب ایک سماج میں عقیدے کی مکمل آزادی ہے۔ اقبال نے کہہ رکھا ہے کہ مذہبی تجربہ اپنی اعلیٰ ترین منزل پر پہنچ کر سیکولر بن جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا مستقبل بالآخر سیکولرازم میں ہے‘‘۔