پاک ہند ماضی کی تدفین
پچیس فروری کو جموں کشمیر کی خونی لکیر پر پاک بھارت افواج کے درمیان فائر بندی کے اعلان کے کچھ دن بعد پاکستانی آرمی چیف آف سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان ماضی کو دفن کر کے آگے بڑھیں۔
اس طرح کا اعلان دنیا میں کوئی پہلا اعلان نہیں۔ دنیا کی تاریخ سب کے سامنے ہے۔ پہلی جنگ عظیم سے لے کر افغان وار تک کے تاریخی حقائق اس بات کا ثبوت ہیں کہ قابض قوتوں کا مقبوضہ خطوں میں کوئی مستقبل نہیں ہوتا ۔ برطانوی و فرانسیسی امپائر کا خاتمہ ، سلطنت عثمانیہ اور سوویت یونین کا انہدام اور جاپان پر پہلا امریکی ایٹم بم گرانے کے باوجود دشمنیاں دوستیوں میں بدل گئیں اور قابضین کو بالآخر اپنے ہی سیاسی و اقتصادی مفادات کی خاطر واپس اپنے اپنے ملکوں کو جانا پڑا۔
فرق یہ ہے کہ سنجیدہ قومیں ماضی سے تھک ہار کر صرف اسے دفن کرنے کے رسمی اعلانات نہیں کرتیں بلکہ تلخ ماضی سے سبق سیکھ کر بہتر مستقبل کے لیے راہیں ہموار کرتی ہیں۔ یورپی یونین اس کی تازہ مثال ہے جس کے رکن ممالک پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں ایک دوسرے کے خونی دشمن تھے مگر پھر ان کو عقل آئی جس کے نتیجے میں انہوں نے چھوٹے بڑے کا فرق مٹا کر ایک دیر پا حل کے لیے چھوٹی یورپی ریاستوں کی حیثیت کو بھی کھلے دل سے قبول کر کے ان پر اہنے ناجائز فیصلے مسلط کر کے برتری قائم رکھنے کی ہوس ختم کی۔ یونین میں سب کو برابری کا حق دیا نہ کہ بڑی ریاستوں نے چھوٹی ریاستوں میں اپنے پٹھو تلاش کر کے مصنوعی اتحاد قائم کیا ۔
جموں کشمیر میں اگر واقعی امن قائم کرنا ہے تو پھر تمام غیر ملکی افواج کا انخلاء لازمی ہے۔ ریاست جموں کشمیر کے عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے بھارت کو 5 اگست 2019 اور پاکستان کو گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنانے کے اعلانات فوری طور واپس لینے ہوںگے۔ کسی بھی بات چیت میں ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی کے نمائندے بھی صرف وہ لوگ ہو سکتے ہیں جنہوں نے اس کے لیے جد و جہد کی نہ کہ وہ کشمیری سیاستدان جنہوں نے اقتدار کی خاطر قابضین کے ہاتھ مضبوط کئے۔ وہ جو خفیہ اداروں کی بی ٹیم ہیں۔ اس کے لئے بعض آزادی پسندوں کو بھی خود پسندی کے حصار سے نکلنا ہو گا۔
یہ تو ہے ایک آئیڈیل، منصفانہ اور دیر پا حل کی تجویز لیکن آئیے اب جائزہ لیں کہ کیا واقعی ہندوستان اور پاکستان اپنا خونریز ماضی دفن کرنے جا رہے ہیں۔ اور کیا وہ واقعی جموں کشمیر کو اس کا حق دیںگے ؟ اس کے لیے دیکھنا ہے کہ یہ فائر بندی کیوں کس طرح اور کس کے ایما پر ہوئی۔ اور اس فائر بندی کا اصل مقصد کیا ہے؟ اس سے کون کیا فائدہ حاصل کرنا چاہتا یے؟ کشمیریوں کو تو صرف اتنا فائدہ ہے کہ وقتی طور پر آر پار گولہ باری کے نتیجے میں کچھ بے گناہ انسانی جانیں بچ جائیں گی۔ لیکن کشمیریوں کے لئے کوئی مستقل حل نظر نہیں آ رہا۔ ورنہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے اندر بھارتی افواج کی کارروائیوں میں تیزی نہ آتی۔ اور پاکستان کی کشمیر پالیسی میں بھی کوئی مثبت اشارے ملتے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس فائر بندی کی بڑی وجہ چین کے ساتھ بھارتی جنگی تناؤ یے۔ بھارتی فوج دونوں محازوں پر تناؤ نہیں چاہتی۔ دوسرا مودی حکومت اور عمران حکومت کو بھی اندرونی مسائل کا سامنا ہے۔ پاک بھارت بیک چینل مذاکرات میں عرب امارات کے کردار کی بھی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ لیکن بھارت نے تو ماضی میں ہمیشہ کسی تیسری قوت کی ثالثی کی مخالفت کی ہے اب اگر عرب امارات کوئی کردار اداکر رہا ہے تو اس میں یقیناً بھارت کا اپنا ہی مفاد ہو گا۔
یہ امر بھی اہم ہے کہ اس وقت عرب امارات پاکستان کی نسبت بھارت کے زیادہ قریب ہے۔ ان حالات میں ریاستی عوام کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہو سکتے۔ بلکہ انہیں بھی ماضی کی تاریخ سے سبق حاصل کر کے ریاستی بیانیہ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔