افغان جنگ میں دو لاکھ 41 ہزار اموات، 22 کھرب 60 ارب ڈالرز کے اخراجات ہوئے
- تحریر وائس آف امریکہ اردو
- اتوار 18 / اپریل / 2021
- 5930
افغانستان میں دو دہائیوں سے جاری جنگ کے بارے میں ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 20 برس کے دوران جنگ میں دو لاکھ 41 ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں امریکی بھی شامل ہیں۔
تحقیق کے مطابق یہ اموات براہ راست اس جنگ کی وجہ سے ہوئیں۔ جن میں 71 ہزار 344 عام شہری، دو ہزار 442 امریکہ کے فوجی اہلکار، 78 ہزار 314 افغان سیکیورٹی اہلکار اور 84 ہزار 191 مخالفین کی ہلاکتیں شامل ہیں۔ جمعے کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس جنگ پر اب تک امریکہ کے 22 کھرب 60 ارب ڈالرز خرچ ہوئے ہیں۔
امریکہ کی براؤن یونیورسٹی کے 'واٹسن انسٹیٹیوٹ' اور بوسٹن یونیورسٹی کے 'پارڈی سینٹر' کے مشترکہ ‘کوسٹ آف وار پروجیکٹ’ کے مطابق مالی اخراجات میں افغانستان اور پاکستان میں ہونے والے آپریشنز بھی شامل ہیں۔ خیال رہے کہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ رواں سال نائن الیون کی 20ویں برسی تک امریکہ کی افواج افغانستان سے نکل جائیں گی۔
امریکہ کے صدر کا کہنا تھا کہ یہ وقت ہے کہ ہمیشہ سے جاری جنگ کو ختم کیا جائے اور وہاں تعینات تین ہزار فوجیوں کو واپس بلایا جائے جس کا آغاز یکم مئی سے ہو گا۔
تحقیق کی شریک ڈائریکٹر اور براؤن یونیورسٹی کی پروفیسر کیتھرین لٹز کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار جنگی نقصانات کا ثبوت ہیں جن کا سامنا سب سے پہلے افغان عوام، پھر افواج اور امریکہ کی عوام کو کرنا پڑا۔ کیتھرین کے مطابق جنگ کا جلد سے جلد خاتمہ ہی منطقی اور انسانی حل ہے۔ بوسٹن یونیورسٹی کی پروفیسر اور تحقیق کی سربراہ محقق نیٹا کرافورڈ نے ان اعداد و شمار کو اخراجات کا صرف ایک حصہ قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق باقی مصارف میں جنگ کو جاری رکھنے کے لیے پینٹاگون کے بجٹ میں 443 ارب ڈالرز کا اضافہ، سابق فوجیوں کی دیکھ بھال کے لیے 296 ارب ڈالرز کی رقم، جنوبی ایشیائی ممالک میں فوجی تعیناتیوں کے لیے 530 ارب ڈالر قرض اور بیرون ملک ہنگامی فنڈز کی مد میں خرچ کیے جانے والے 59 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔
کرافورڈ کے مطابق افغانستان میں خرچ ہونے والے فنڈز میں جنگ کے پاکستان تک پھیلاؤ، لاکھوں مہاجرین اور بے گھر افراد، جنگجوؤں اور غیر جنگجوؤں پر ہونے والے اخراجات اور امریکی فوجیوں پر ہونے والے اخراجات شامل ہیں۔