حکومت کے پاس اپنی رٹ قائم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا: شیخ رشید
- اتوار 18 / اپریل / 2021
- 5310
وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کسی صورت میں اپنے ایجنڈے سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں، اس لیے حکومت کے پاس اپنی رٹ قائم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ہم نے 2-3 ماہ مذاکرات کئے لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ کالعدم تنظیم نے ملک بھر میں 192 مقامات کو بلاک کیا تھا جس میں سے یتیم خانہ چوک کے علاوہ سب جگہوں کو بحال کرلیا گیا ہے۔ یتیم خانہ چوک میں مسجد رحمتہ للعالمین ہے اور وہاں تحریک لبیک کا مرکز بھی ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وہاں حالات کچھ کشیدہ ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جب کسی تنظیم کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے تو اس کے عہدیداروں کے اکاؤنٹس منجمد ہوتے ہیں، ان کے شناختی کارڈ بلاک کردیے جاتے ہیں اور ان کی نقل و حمل پر پابندی عائد ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ 3 روز کا نوٹس دیا جاتا ہے جس پر انہیں ایک مہینے کے اندر اندر جواب دینا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کو تحلیل کرنے کے لیے وزارت قانون، فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل فار پاکستان کام کررہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت مذاکرات کا کوئی عمل جاری نہیں ہے اور نہ ایسی کوئی بات میرے نوٹس میں ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ کل وزیراعظم عمران خان نے زبردست بیان دیا ہے۔ ہم کسی صورت ناموس رسالت پر بات نہیں آنے دیں گے۔ ہمیں گستاخی رسول ﷺ کسی طور قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بادل ناخواستہ ایسے قدم اٹھانے پڑے کہ جن کے لیے ہم ذہنی طور پر تیار نہیں تھے۔ اس گروہ پر پابندی لگانا پڑی۔ پولیس فورس کے بھی کچھ جوان شہید ہوئے، دوسری جانب سے بھی کچھ لوگ جاں بحق ہوئے تو یہ سلسلہ ان کی جانب سے 20 تاریخ تک جاری ہے اس وقت تک حکومت اس جماعت کو تحلیل کرنے کا بھی فیصلہ کرلے گی جسے کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔
20 تاریخ کو ٹی ایل پی کے احتجاج کے باعث راولپنڈی، اسلام آباد میں سڑکیں بند ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی تمام سڑکیں کھلی ہیں، انشا اللہ 20 تاریخ کو بھی کھلی رہیں گی۔ خیال رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ شروع ہوا جو 3 روز تک جاری رہا۔
ان دھرنوں میں مختلف مقامات پر صورتحال سخت کشیدہ بھی ہوئی جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت کچھ افراد جاں بحق اور سیکڑوں کی تعداد میں زخمی ہوئے۔ بعدازاں حکومت پاکستان کی جانب سے ٹی ایل پی پر پابندی عائد کرنے اعلان کیا تھا۔ اس دوران ملک کے مختلف احتجاجی مقامات کو کلیئر کروالیا گیا تھا تاہم لاہور کے یتیم خانہ چوک پر مظاہرین موجود ہیں جہاں اتوار کی صبح سے حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے۔