لاہور میں کالعدم تحریک لبیک کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں، پولیس افسر اغوا
- اتوار 18 / اپریل / 2021
- 6310
حکومتِ پاکستان کی جانب سے حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی مذہبی جماعت تحریک لبیک اور پولیس کے درمیان لاہور میں پھر جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ان میں ہلاکتوں اور کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
پنجاب پولیس کے ایک بیان کے مطابق اتوار کی صبح تنظیم کے کارکنوں نے لاہور کے نواں کوٹ تھانے پر حملہ کیا جہاں پولیس اور رینجرز کے اہل کار محصور ہو کر رہ گئے۔ اس دوران ٹی ایل پی کے کارکن ڈی ایس پی نواں کوٹ کو اغوا کر کے انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ پولیس کے مطابق شرپسند 50 ہزار لیٹر کے ایک پیٹرول ٹینکر کو بھی اپنے ہمراہ چوک یتیم خانہ کے قریب واقع اپنے مرکز لے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک ڈی ایس پی کے علاوہ متعدد پولیس اہلکار اور رینجرز کے سپاہی شرپسندوں کے قبضے میں ہیں۔
پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلح شرپشندوں نے اس دوران پولیس پر پیٹرول بم بھی برسائے جس کے جواب میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تھانے کا کنٹرول حاصل کیا۔ پولیس کے مطابق یہ ساری کارروائی اپنے دفاع میں کی گئی جب کہ پولیس نے کسی مدرسے یا مسجد کے خلاف منصوبہ بندی کے تحت کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔
خیال رہے کہ کالعدم تحریکِ لبیک کا مرکزی دفتر لاہور کے علاقے یتیم خانے کے قریب واقع ہے اور گزشتہ ایک ہفتے سے وہاں کارکنوں کا احتجاجی دھرنا جاری تھا۔
دوسری جانب تحریکِ لبیک کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس اور فورسز نے اتوار کی صبح آٹھ بجے تحریک کے مرکز پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد کارکن ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔ کالعدم ٹی ایل پی کی مرکزی شوریٰ کے رہنما علامہ شفیق امینی نے کہا کہ جب تک فرانس کے سفیر کو ملک بدر نہیں کر دیا جاتا اس وقت تک وہ آج کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین نہیں کریں گے۔
خیال رہے کہ تحریکِ لبیک پاکستان نے رواں ہفتے کے دوران ملک کے کئی شہروں میں احتجاج کرکے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا تھا۔ اس دوران پولیس اور تنظیم کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کے علاوہ متعدد کارکن اور پولیس اہل کار زخمی بھی ہوئے تھے۔
پرتشدد مظاہروں کے باعث حکومتِ پاکستان نے تحریک لبیک کو انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم جماعت قرار دیا تھا۔ تحریک کے سربراہ سعد رضوی پہلے ہی پولیس کی تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف قتل، دہشت گردی، توڑ پھوڑ کی دفعات کے تحت مقدمہ بھی درج ہے۔