اشرافیہ کب تک خیر منائے گی

بات پرانی ہے مگر  آج بھی تازہ  ہے۔  شاید اس لئے کہ  زمینی حقائق نہیں بدلے۔  درجنوں کتابیں لکھی گئیں، ہزاروں مضامین   شائع ہو چکے،  لاکھوں  تقاریر ہو چکیں مگر   وسائل کی تقسیم  میں عدم مساوات بڑھتی چلی  جا رہی ہے۔  نتیجہ  یہ ہے  کہ  ملک میں معاشی ناہمواری اور علاقائی تفاوت وقت کے ساتھ ساتھ کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی چلا گیا۔

 چند سال قبل غربت شماری کا  اہتمام کیا جاتا تھا مگر  اس کے نتائج پر ہونے والی سیاست اور مختلف عالمی اشاریوں میں اس کے بار بار حوالے سے  ہونے والی خفت سے جان چھڑانے کے لئے یہ سالانہ اہتمام بھی ختم ہو چکا۔  غربت کی  تعریف میں تبدیلی اور اعدادوشمار کے کرشمے  کی مددسے  گزشتہ ہر حکومت نے کم از کم  سرکاری طور پر غربت میں کمی  ثابت کی،  اور اس کمی کا بھرپور کریڈٹ بھی لیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اخبارات میں آئے روز غربت کے ہاتھوں  خودکشیوں اور گھریلو جھگڑوں  میں اضافے کی خبریں اب بھی تواتر سے چھپتی ہیں۔   مگر بھلا ہو  اجتماعی  مزاج کا، سیاست اور سیاسی تعصبات ہی  روزمرہ  کے سب سے اہم موضوع ہیں  اور اسی پر سارا زورِ بیان رہتا ہے۔ معاشی موضوعات پر سنجیدہ بحث  خال خال ہی سننے کو ملتی ہے۔  

غربت ہمارے سماجی  اور معاشی منظر نامے کا مستقل حصہ ہونے کے سبب شاید اب  ہم سب  کے لئے  ایک   ٌ معمول  ٌ   بن گیا ہے۔ اس کے بارے میں  احساس  کب کا  بے حسی کی چادر اوڑھ چکا۔  غریب اور غربت  پر  علمی اور تحقیقی  میدان میں گفتگو  اور کام کچھ  لوگوں کو صرف بائیں بازو کی شرارت لگتا ہے اور کچھ کے خیال میں معاشرے میں اونچ نیچ تو ایک  لازوال حقیقت ہے، اس پر  کیا سر  کھپانا۔ ایسے میں گزشتہ ہفتے   یو این ڈی پی کی  جاری کردہ سالانہ  ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ نے ایک مختلف زاویے  سے اس موضوع  کو اجاگر کیا ہے۔   یو این ڈی پی کی ایک  سینئیر عہدیدار نے  اس رپورٹ  کی لانچ پر وزیر اعظم  سے بھی گفتگو کی۔ اس ادارے کی پہنچ عالمی سطح کی ہے، اس لئے اس  رپورٹ کے  نتائج کو عالمی اور مقامی میڈیا میں خوب  کوریج ملی۔  رپورٹ پر جس تحقیقاتی ٹیم نے کام کیا، انہوں نے نہایت محنت سے  اس موضوع  کے  کچھ نئے گوشوں کا احاطہ کیا۔  اس رپورٹ کے نمایاں نکات ہمارے سماجی، معاشی، سیاسی اور گورننس  کے بنیادی ڈھانچے میں  ملکی کی اشرافیہ کی ہمہ گیر گرفت  کا  خلاصہ ہیں۔

معروف  اکونومسٹ،  ما ضی کی کئی حکومتوں  اور   اقوام متحدہ   کے اداروں  کا حصہ رہنے والے   ڈاکٹر حفیظ پاشا  اس رپورٹ کے  لیڈمصنف ہیں۔  پاکستان میں عدم مساوات اور معاشی اور معاشرتی تفاوت پر انہوں نے پہلے بھی کافی قابل قدر کام کیا ہے۔ اس رپورٹ میں انہوں نے  بہت سے دھندلے  حقائق اور اندازوں کو  اعدادوشمار  کا چہر ہ دے کر اس اہم موضوع  کو  منفرد انداز میں سامنے لا کھڑا کیا ہے۔  اس رپورٹ کے نمایاں نکات اس قدر چونکا دینے والے مگر سادہ ہیں کہ ایک عام آدمی بھی آسانی سے سمجھ لے۔

اس رپورٹ نے عدم مساوات یعنی  کو تین  مختلف زاویوں سے دیکھا ہے،  اقتدار،  عوام اور پالیسی یعنی

  Power, People & Policy

اس رپورٹ کے مطابق ملک کی اشرافیہ کے زیرِ تصرف  معاشی  استحقاق  اور استثنیات یعنی

  Economic Privelages 

کا حساب کتاب جوڑا جائے تو   اس کا  سالانہ میزانیہ  ساڑھے سترہ ارب ڈالر کے لگ بھگ  بنتا ہے۔ پاکستان کی کل  سالانہ جی ڈی پی کا  حجم 315 ارب ڈالرز کے لگ بھگ ہے۔ یوں ملک کی  اشرافیہ کو  حاصل مالیاتی استحقاق ملک کی کل جی ڈی  پی کا  6% بنتا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق  کارپوریٹ سیکٹر کا حصہ ان  فوائد میں سب سے بڑا ہے یعنی  پونے پانچ  ارب ڈالرز کے لگ بھگ۔ دوسرے  نمبر پر وہ  مالدار اشرافیہ ہے جو آبادی کا فقط ایک فی صد ہوتے ہوئے  مجموعی ملکی آمدن کے  نو فیصد  پر تصرف رکھتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر بڑے زمین دار اور جاگیر دار ہیں جو  ملکی آبادی کا  1.1 % ہونے کے باوجود  ملک کے  کل قابل کاشت رقبے کے 22 % پر  تصرف رکھتے ہیں۔  مالدار اور زمیندار اشرافیہ کی  سیاست اور  پارلیمنٹ  میں عمل داری ہے جس کے سبب پالیسیوں اور  انتظامی فیصلوں   کے زیادہ تر فوائد انہی کی جھولی میں آ گرتے ہیں۔ یہ مسلسل عمل ان  کی دولت  اور رسوخ میں اضافے کا  خودکار  اہتمام ہے۔  ایک ہاتھ سے وہ عوامی مفادات کے لئے  کچھ اقدامات کرتے ہیں تو دوسرے ہاتھ سے ان اقدامات  سے فوائد سمیٹتے چلے جاتے ہیں۔

ملک کے   بیس  فی صد  مالدار  قومی آمدن کے  تقریبا ٌ  آدھے  یعنی 50%  پر تصرف رکھتے ہیں جبکہ  غریب ترین بیس  صد   لوگوں  کو  قومی آمدن  کے صرف  سات فی صد پر گزارہ کرنا پڑتا ہے۔  امرا   اور  غربا کے درمیان کبھی جو ایک درمیانہ  طبقہ   یا مڈل کلاس تھی، چکی کے دونوں پاٹ کے درمیان پستے پستے کم ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق  مڈل کلاس  2009  میں آبادی کا  42 % تھی  جو  2019 میں گھٹ کر  36% رہ گئی۔  تفصیلات مزید بھی ہیں اور وہ بھی اسی طرح چشم کشا اور حیران کن مگر  کالم کا دامن    مزید تفصیلات کی اجازت نہیں دیتا۔

 اقتدار،  گورننس  اور پالیسیوں پر   اشرافیہ کی  منظم   گرفت  کے سبب  وسائل  اور دولت کی  یہ تقسیم کیا رنگ دکھا رہی ہے، اسی رپورٹ کا ایک پیرا اس کا  خلاصہ یوں بیان کرتا ہے:  مالدار اور غربا  بظاہر الگ الگ ملک میں رہ   رہے ہیں جہاں   تعلیمی معیار،  صحت  کی سہولیات  اور   عمومی  معیار زندگی   میں اس قدر دوری ہے جیسے دونوں الگ الگ  قطب کے  باشندے ہوں۔

 یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا  تو سماج اور معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟  ملک کی سیاست، معاشرت اور اکونومی کا  ڈھانچہ اب کچھ ایسا ترتیب پا چکا ہے کہ زیادہ تر پالیسیاں اور انتظامی اقدامات  بالواسطہ یا بلاواسطہ  اشرافیہ  ہی کے مفادات پر مامور دکھائی دیتی ہیں۔ یہ تسلسل سماج کو کمزور کرنے، بکھرنے اور تفریق  کا باعث  بن  رہا ہے۔  بہتر معیار زندگی سے محرومی کی وجہ سے معاشرے کے  ایک بڑے حصے میں  غم و غصہ،  اشتعال، قسم ہا   قسم کی انتہا پسندی اور  تشدد پسندی  بلا وجہ تو نہیں ہے۔