چار ماہ تک منت سماجت سے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی: نور الحق قادری

  • سوموار 19 / اپریل / 2021
  • 6360

وفاقی وزیر برائے مذہبی نور الحق قادری نے لاہور میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان اور پولیس کے مابین چھڑپوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق کہا ہے کہ گزشتہ 4 مہینے سے مذاکرات اور منت سماجت سے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی گئی۔

 سانحہ یتیم خانہ چوک پر جتنا افسوس اپوزیشن اراکین اسمبلی کو ہے، اتنا ہی درد حکومتی بینچ پر موجود اراکین کو بھی ہے۔  اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس کے دوران نور الحق قادری مذکورہ معاملے پر پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ شیخ رشید نے مختصر انداز میں پالیسی بیان دے دیا ہے۔ کوئی بھی جمہوری حکومت سانحہ یتیم خانہ چوک کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

وفاقی وزیر مذہبی امور نے بتایا کہ حکومت نے گزشتہ 4 ماہ کے دوران اس معاملے کو مذاکرات اور منت سماجت کے ذریعے حل کرنے کی بھرپور کوشش کی تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔  ہم نے معاملے کو بہتری کے ساتھ سلجھانے کے لیے بالواسطہ یا بلاواسطہ کوششیں کیں۔  ہم نے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا ہوا تھا اور وہ یہ تھا کہ معاہدے کی رو سے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لانے کے پابند ہیں۔

نور الحق قادری نے کہا کہ آپ آجائیں اور اسپیکر قومی اسمبلی پارلیمانی کمیٹی نامزد کرے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی موجود ہو۔  کمیٹی کے سامنے وہ اپنا مؤقف پیش کریں اور وزارت خارجہ اور خارجی امور کے ماہرین اپنی رائے بھی دے دیں گے۔  وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم علمائے کرام کا اخترام کرتے ہیں لیکن خارجہ پالیسی کا تعین حکومت وقت اور پارلیمنٹ کا کام ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں کمیٹی کو قائل کرنے اور ڈرافٹ پیش کرنے کا کہا تھا۔ کمیٹی جو فیصلہ کرے گی حکومت کو من و عن قبول ہوگا۔  وفاقی وزیر نے بتایا کہ ہمارے ان کے ساتھ معاملات یہاں تک پہنچے تھے کہ اس دوران ایک ویڈیو کے ذریعے 20 اپریل کی کال دے دی گئی۔ اس لیے حکومت کی ذمہ داری تھی کہ شاہراہوں کو کھلا رکھا جائے اور معمولات زندگی متاثر نہ ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری پالیسی مذاکرات پر مبنی ہے، مفاہمت کے دو دور ہوچکے ہیں جبکہ آج  تیسرا دور نماز تروایح کے بعد ہوگا۔  نور الحق قادری نے اُمید ظاہر کی کہ کوشش کریں گے کہ پارلیمنٹ اور عوام کی خواہش کے مطابق مذاکرات کے ذریعے معاملے کو حل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ناموس رسالت ﷺ کو جتنا تحفظ وزیر اعظم عمران خان نے فراہم کیا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت عمران خان کے حصے میں لکھی ہے۔

اس سے قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ ناموس رسالت ﷺ کے حوالے سے ہم کالعدم تحریک لبیک سے پیچھے نہیں ہیں اور ساری اسمبلی عاشق رسول ﷺ ہے۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، آج صبح 3 بجے اجلاس ختم ہوا جبکہ کچھ دیر بعد دوبارہ اجلاس شروع ہوگا اور اچھی خبریں آئیں گی، بہتری کی خبریں ہوں گی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں ہم ناموس رسالت ﷺ پر کسی صورت میں بھی کالعدم تحریک لبیک سے پیچھے نہیں ہیں لیکن پاکستان کی حفاظت کے لیے، اس پاکستان کے دفاع اور سالمیت کے لیے آج وزیراعظم ایک پالیسی بیان دیں گے۔