لاہور واقعے پر اہلسنت علما کی کال پر جزوی ہڑتال، کئی شہروں میں کاروبار بند

  • سوموار 19 / اپریل / 2021
  • 6690

وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان سے پنجاب حکومت کے مذاکرات کا پہلا دور کامیاب رہا ہے اور دوسرے دور میں امید ہے کہ معاملات طے پا جائیں گے۔

دوسری طرف مفتی منیب الرحمٰن کی ملک گیر ہڑتال کی کال پر کراچی سمیت مختلف شہروں میں جزوی ہڑتال ہے اور سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم ہے۔ شیخ رشید نے پیر کی علی الصباح جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں بتایا ہے کہ کالعدم ٹی ایل پی نے یرغمال بنائے گئے 11 پولیس اہلکاروں کو مذاکرات کے بعد چھوڑ دیا ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ کے مطابق ٹی ایل پی کے خلاف اتوار کو لاہور میں ہونے والے آپریشن کے مقام سے پولیس پیچھے ہٹ چکی ہے اور کالعدم جماعت کے کارکن بھی مسجد رحمت اللعالمین کے اندر چلے گئے ہیں۔  شیخ رشید نے امید ظاہر کی کہ کالعدم ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات خوش اسلوبی کے ساتھ طے پا جائیں گے۔

یاد رہے کہ لاہور کے علاقے یتیم خانہ چوک کے قریب 'کالعدم تحریکِ لبیک' کا مرکزی دفتر واقع ہے جہاں تنظیم کے کارکن گزشتہ ایک ہفتے سے دھرنا دیے بیٹھے تھے۔ اتوار کی صبح پولیس اور رینجرز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی جس پر کالعدم جماعت کے کارکن مشتعل ہو گئے اور طرفین کے درمیان دن بھر جھڑپیں ہوتی رہیں۔

کالعدم ٹی ایل پی کے کارکنوں نے ایک تھانے پر حملہ کر کے 11 اہلکاروں کو بھی یرغمال بنایا۔ بعد ازاں اتوار کی شام تنظیم کے امیر سعد رضوی کا جیل سے ایک مبینہ تحریری پیغام سامنے آیا جس میں اُنہوں نے کارکنوں سے پرامن رہنے اور تمام راستے کھولنے کی اپیل کی۔ تاہم مبینہ بیان کے کچھ دیر بعد تنظیم کے نائب امیر علامہ شفیق امینی نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ سعد رضوی کے بیان سے متعلق مختلف میڈیا چینلز پر چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔

شفیق امینی کا کہنا تھا کہ جب تک سعد رضوی دھرنا ختم کرنے سے متعلق اعلان ان کے سامنے آ کر نہیں کر لیتے اس وقت تک دھرنا جاری رہے گا۔  سیکیورٹی فورسز اور کالعدم ٹی ایل پی کے درمیان جھڑپوں کے دوران متعدد

حکومت کے کالعدم ٹی ایل پی کے خلاف آپریشن پر سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمٰن نے  گرفتار کارکنوں کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اتوار کی شب دارالعلوم امجدیہ میں اہلسنت مکتبِ فکر کی تنظیموں کے قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتی منیب نے کالعدم ٹی ایل پی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ حکومت نے ٹی ایل پی اور ناموسِ رسالت کے نام لیواؤں پر ظلم ڈھایا ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ مفتی منیب کے بقول وفاقی وزرا نے ٹی ایل پی کی قیادت کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اس کی توثیق وزیرِ اعظم عمران خان نے ٹیلی ویژن پر آکر کی تھی۔

مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق نے مفتی منیب کی ہڑتال کی کال کی حمایت کی ہے۔  مفتی منیب الرحمن صاحب کے مؤقف اور مطالبات و اعلانات کی حمایت کرتے ہیں۔

کراچی کی اہم تاجر تنظیموں، مارکیٹ ایسوسی ایشنز، ٹرانسپورٹ اتحاد اور سی این جی پمپس مالکان کی تنظیموں نے مفتی منیب الرحمٰن کی کال پر کاروبار بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ تاجروں کی ہڑتال کی حمایت کے بعد کراچی کے تجارتی مراکز میں سناٹا اور سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم دکھائی دے رہا ہے۔ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں جزوی ہڑتال ہے جب کہ سکھر، میرپور خاص اور نواب شاہ میں بھی چند تجارتی اور کاروباری مراکز بند ہیں۔

اسلام آباد اور راول پنڈی میں لاہور واقعے کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال پر جزوی ہڑتال ہے۔ کالعدم ٹی ایل پی کی طرف سے اسلام آباد کی جانب مارچ کے خدشات کے پیشِ نظر اسلام آباد شہر کو سیل کیا جا رہا ہے۔ فیض آباد سمیت اہم مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات  ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں کسی کو بھی احتجاج اور دھرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ بدقسمتی سے کئی مرتبہ سیاسی اور مذہبی جماعتیں اسلام کو غلط استعمال کرتی ہیں جس سے وہ اپنے ملک کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ان کے بقول اس عمل سے دوسروں کو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اپنے ملک اور لوگوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ وہ یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگ پیغمبرِ اسلام سے پیار کرتے ہیں۔ ہم سب کا مقصد ایک ہے لیکن افسوس ہوتا ہے کئی مرتبہ اس پیار کو غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ پیغمبر اسلام سے کون کتنی محبت کرتا ہے اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ کیا کسی کے دل کو کسی نے چیر کر دیکھا کہ نبی سے کون زیادہ پیار کرتا ہے۔