ٹی ایل پی اور میرا مقصد ایک لیکن سفیر واپس بھیجنا مسئلے کا حل نہیں: عمران خان
- سوموار 19 / اپریل / 2021
- 5980
وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پیغمبرِ اسلام کی توہین کے معاملے پر کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان اور حکومت کا مقصد ایک ہی ہے تاہم فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجنا مسئلے کا حل نہیں۔
پیر کو قوم سے اپنے مختصر خطاب میں عمران خان نے کہا کہ فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنے اور تعلقات ختم کرنے سے پاکستان کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان اپنی ٹیکسٹائل مصنوعات کا 50 فی صد یورپی ممالک کو برآمد کرتا ہے۔ اگر فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجا تو اس سے نہ صرف ملک کو معاشی نقصان پہنچے گا بلکہ بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ پیغمبرِ اسلام کی توہین کے معاملے پر مسلمان ممالک کے سربراہان اقوامِ متحدہ اور دیگر پلیٹ فارمز پر دنیا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کریں گے۔ عمران خان نے کہا کہ 50 مسلمان ملکوں میں سے کہیں بھی ایسے مظاہرے نہیں ہو رہے اور نہ ہی سفیر واپس بھیجنے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔
ٹی ایل پی سے مذاکرات کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے کہا کہ اُن کے ساتھ حکومت کے مذاکرات چل رہے تھے۔ لیکن ہمیں پتا چلا کہ وہ اسلام آباد کی جانب مارچ کا منصوبہ بنا چکے ہیں اور یہیں سے مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹا۔ حالیہ پرتشدد مظاہروں کے دوران پولیس کی 40 گاڑیوں کو جلایا گیا ہے۔ لوگوں کی املاک کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔ چار پولیس اہل کار ہلاک جب کہ 800 سے زائد زخمی ہوئے۔
عمران خان نے کہا کہ مظاہروں کے دوران سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں چلتی رہیں۔ اُن کے بقول چار لاکھ ٹوئٹس میں سے 70 فی صد فیک اکاؤنٹس سے کی گئی تھیں جن میں بھارتی اکاؤنٹس بھی شامل تھے جو پاکستان میں خانہ جنگی کے ٹرینڈز چلا رہے تھے۔ وزیرِ اعظم نے حزبِ اختلاف کی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے کالعدم تحریکِ لبیک کا ساتھ دے رہی ہیں۔
ادھر تحریک لبیک کے خلاف کریک ڈاؤن کے معاملے پر پیر کو ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جس کے بعد اسپیکر نے اجلاس جمعرات تک کے لیے ملتوی کر دیا۔ قبل ازیں قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے امید ظاہر کی ہے کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ جاری مذاکرات کے نتیجے میں مذہبی جماعت اپنے احتجاج کو ختم کردے گی اور ملک میں امن و امان کی صورتِ حال خراب نہیں ہو گی۔