قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری پر بحث کا فیصلہ
- منگل 20 / اپریل / 2021
- 5420
قومی اسمبلی میں ایک قرار داد منظور کی گئی ہے جس میں ملک سے فرانس کے سفیر کو نکالنے کے معاملہ پر بحث کا فیصلہ کیا گیا۔ پیپلز پارٹی نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
یہ قرار داد کالعدم تحریک لبیک پاکستان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے بعد پیش کی گئی تھی جس کے لئے قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا گیا۔ قرار حکومتی پارٹی کے ایک رکن نے پرائیویٹ طور پر پیش کی تھی جسے اکثریت رائے سے منظور کیا گیا۔ حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی نے اجلاس میں شرکت نہیں کی جب کہ مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ قرارداد پر اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
منگل کو پیش کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کے لیے قومی اسمبلی میں بحث کی جائے۔ قرارداد کے مطابق تمام یورپی ممالک بالخصوص فرانس کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے گا۔ اور مسلمان ممالک کے ساتھ بھی اس معاملے پر سیر حاصل بات کی جائے گی۔
قرارداد میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے اس معاملے کو عالمی فورمز پر اُٹھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی معاملات ریاست کو ہی طے کرنے چاہئیں اور کوئی فرد، گروہ یا جماعت بے جا غیر قانونی دباؤ نہیں ڈال سکتا۔ صوبائی حکومتیں احتجاج کے لیے جگہ مختص کریں تاکہ عوام کے روزمرہ معمولاتِ زندگی میں کوئی رکاوٹ نہ پڑے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو شیڈول تھا۔ تاہم پیر کی شب لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید کالعدم تحریکِ لبیک کے سربراہ سعد رضوی کے ساتھ مذاکرات کے بعد اسے منگل کی سہ پہر کے لیے ری شیڈول کیا گیا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو رکن قومی اسمبلی امجد علی خان نے فرانس سے متعلق قرارداد پیش کی۔ وزیرِ پارلیمانی اُمور علی محمد خان نے اس معاملے پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کی کمیٹی بنانے کی تحریک پیش کر دی جسے ایوان نے منظور کر لیا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے قرارداد پیش کرنے کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس معاملے پر اپوزیشن سے کوئی مشاورت نہیں کی۔ اس معاملے پر متفقہ قرارداد ایوان میں پیش کی جانی چاہیے۔ لہذٰا اس قرارداد کا جائزہ لے کر اس پر ردِعمل دیں گے۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر خصوصی کمیٹی کے بجائے پورے ایوان کی کمیٹی تشکیل دی جائے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک ٹوئٹ پیغام میں کہا کہ کسی بھی سطح پر پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اب پی ٹی آئی پارلیمان کے پیچھے چھپنا چاہتی ہے۔ انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم یہ آپ کا پھیلایا ہوا گند ہے۔ خود صاف کریں یا گھر جائیں۔
اسپیکر اسد قیصر کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کو بھی ہوا تھا جس کے دوران کالعدم ٹی ایل پی کے خلاف کریک ڈاؤن کے معاملے پر بحث کے دوران ہنگامہ آرائی کے بعد اسے جمعرات تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس ایسے موقع پر ری شیڈول کیا گیا ہے جب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے منگل کی صبح جاری اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ حکومت اور کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے درمیان مذاکرات کے بعد معاملات طے پا گئے ہیں۔
شیخ رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم ٹی ایل پی ملک بھر سے دھرنوں کو ختم کرے گی اور خاص طور پر لاہور کی مسجد رحمت للعالمین سے بھی دھرنا ختم ہو گا جس کے بعد حکومت اور مذکورہ تنظیم کے درمیان بات چیت و مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے گا۔
وزیرِ داخلہ کے مطابق کالعدم ٹی ایل پی کے جن لوگوں کے خلاف مقدمات درج ہیں انہیں خارج کر دیا جائے گا اور ان خارج ہونے والے مقدمات میں فورتھ شیڈول مقدمات بھی شامل ہوں گے۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وہ کالعدم ٹی ایل پی سے ہونے والے مذاکرات کی مزید تفصیلات منگل کی شام یا بدھ کو پریس کانفرنس میں بتائیں گے۔
کالعدم ٹی ایل پی کا لاہور کے علاقے ملتان روڈ پر یتیم خانہ کے قریب احتجاج اور دھرنا جاری ہے۔ ٹی ایل پی کا کہنا ہے کہ حکومت جب تک فرانسیسی سفیر کو ملک سے بے دخل کرنے کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش نہیں کرتی وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ ٹی ایل پی کے نائب امیر شفیق امینی کا کہنا ہے کہ حکومتی ٹیم کے ساتھ اُن کے سات گھنٹے طویل مذکرات ہوئے ہیں۔ جس کے دوران حکومتی ٹیم نے ایک مرتبہ پھر وعدہ کیا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ یہ پورا کب اور کیسے ہوتا ہے۔
شفیق امینی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جب تک حکومت اپنے وعدے کے مطابق فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش نہیں کرتی اُن کا لاہور کے علاقے یتیم خانہ میں احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔ اِس سے قبل حکومتی ٹیم نے کالعدم ٹی ایل پی کے امیر سعد حسین رضوی کے ساتھ طویل مذاکرات کیے تھے۔
یاد رہے کہ سعد رضوی اس وقت حراست میں ہیں۔ ان سے ملاقات کرنے والی حکومتی مذاکراتی ٹیم میں وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید، وفاقی وزیرِ مذہبی امور نورالحق قادری، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور وزیرِ قانون پنجاب راجہ محمد بشارت شامل تھے۔ حکومتی ٹیم سے قبل پنجاب قرآن بورڈ کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کی سربراہی میں علما کے ایک وفد نے بھی کوٹ لکھ پت جیل میں سعد رضوی سے ملاقات کی تھی۔
جیل ذرائع کے مطابق یہ ملاقات پانچ گھنٹے طویل تھی جس میں علما نے سعد رضوی سے دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔ ٹی ایل پی کے احتجاجی دھرنے کے باعث ملتان روڈ پر یتیم خانہ چوک کے اطراف تمام کاروباری مراکز بند ہیں۔