ایک چراغ اور بجھا
- تحریر سلمان عابد
- منگل 20 / اپریل / 2021
- 5200
اٹھتے جاتے ہیں اس بزم سے ارباب نظر
گھٹتے جاتے ہیں میرے دل کے بڑھانے والے
آئی اے رحمان (ابن عبدالرحمن) کیا کمال کے فرد تھے۔ ایک فرد جو اپنی ذات میں خود ایک ادارے کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ روشنی کا ایک ایسا مینار تھے جو لوگوں کو فلاح اور رواداری سمیت جمہوری معاشرے کا درس دینے میں پیش پیش ہوتے تھے۔
معروف دانشور، مصنف، صحافی، تجزیہ نگار،ایڈیٹر اورانسانی حقوق کی جدوجہد سے جڑا ایک بڑا معتبرنام آئی اے رحمان 90برس کی عمر میں اللہ تعالی کو پیارے ہوگئے انااللہ علیہ والیہ راجعون۔یہ دنیا عارضی ہے اور مجھ سمیت جو بھی دنیا میں آیا ہے اسے ایک دن اللہ تعالی کی عدالت میں جانا ہے۔لیکن اچھی بات یہ ہے کہ آئی اے رحمان جو عملی زندگی میں جدوجہد کا استعارہ تھے وہ نیک نامی کے ساتھ ایک بڑی بھرپور زندگی گزار کر رب کے حضور پیش ہوئے ہیں۔
آئی اے رحمان بنیادی طو رپر صحافی تھے۔مگر ان کا راستہ روائتی صحافی یا حکمرانوں سے تعلقات جوڑنا او راسے اپنے مفاد میں استعمال کرنے والوں میں نہیں تھا۔ وہ ایک نظریاتی صحافی تھے او رایسے لوگ عمومی طور پر آسان کی بجائے مشکل راستہ اختیار کرتے ہیں۔یہ راستہ کٹھن بھی ہوتا ہے او رمشکل بھی۔ اس سفر میں مصائب بھی ہیں اور بے روزگاری سمیت مالی بدحالی بھی۔ لیکن کچھ لوگ اپنے خیالات و افکار یا سوچ یا فکر میں روائتی افراد سے مختلف ہوتے ہیں۔ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ہی لوگ معاشرے کا حقیقی حسن اور سرمایہ ہوتے ہیں اور ان ہی افرادکی بنیاد پر معاشروں کی سیاسی، علمی وفکری ساکھ بھی ہوتی ہے۔آئی اے رحمان نے ایک اخباری کارکن سے عملی طور پر ایڈیٹر کا سفر بڑی شان و شوکت سے طے کیا جس میں دیانت، محنت، جدوجہد، مستقل مزاجی، بردباری، استقامت، جرات، انکساری اور ہر سطح پر غالب نظر آتی تھی۔
آئی اے رحمان کے لیے صحافت محض روزگار نہیں تھا بلکہ صحافت اور قلم کو انہوں نے معاشرے میں محروم اور کمزور طبقات، جمہوریت، قانون کی حکمرانی، بنیادی انسانی حقوق، ادارتی استحکام، پارلیمانی اور سیاسی نظام کی مضبوطی، مزدور سیاست، آزادی اظہار، میڈیا پر موجودہ ریاستی پابندیوں، لاپتہ یا گمشدہ افراد، اقلیتوں اور خواجہ سراؤں، بچوں اور عورتوں کے حقوق اور سول سوسائٹی کی مضبوطی کی جنگ بڑی جرات سے لڑی۔اس جنگ میں ان کی حیثیت ایک سپاہی سے قائد تک کی تھی۔ملنساری اور عاجزی ان کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ اپنے حامیوں کے علاوہ فکری سطح پر موجود مخالفین میں بھی احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ انہوں نے پاکستان میں آمریت کے خلاف ایک بڑی جنگ میں نہ صرف خود حصہ لیا بلکہ اپنے قلم کی مدد سے بہت سے لوگوں کو جدوجہد کے سفر میں روشنی اور امید کا راستہ بھی دکھایا۔
70برسوں پر محیط آئی اے رحمان کا صحافتی سفر ایک نظریاتی صحافی کا تھا اور عمرکے آخری حصہ میں بھی وہ تواتر سے انگریزی اخبارات میں اپنا سیاسی مقدمہ بڑے مدلل انداز میں پیش کرتے تھے۔ انگریزی کے معروف اخبار ”پاکستان ٹائمز“کے ایڈیٹر ہونے کا اعزاز بھی ان کو حاصل تھا۔وہ سیاست، ادب، جمہوریت، انسانی حقوق اور محروم طبقات پر خوب لکھتے اور مختلف پہلوؤں سے معاملات کا جذباتیت کی بجائے عقلی اور فکری بنیادوں پر پوسٹ مارٹم کرتے۔ ان کا تجزیہ محض تنقیدی نکتہ نظر تک محدود نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ مسئلہ کا حل بھی پیش کرتے او ربلاوجہ ماتم کرنا بھی ان کی ذات کا شیوہ نہیں تھا۔ وہ ماضی او رحال کا تجزیہ کرکے مستقبل کی طرف پیش قدمی کرتے اور یہ پہلو کواجاگر کرتے کہ ہمیں پرامن اور علمی و فکری بنیاد پر اپنی جنگ لڑنی ہے اور نتائج سے ہٹ کر جدوجہد کو اپنا راستہ بنانا ہے۔
وہ ان چند لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے 1971میں سابق مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کی مخالفت کی تھی۔ اسی طرح جنرل ضیا الحق کی آمریت میں ان کی قلمی جدوجہد کو یقینی طور پر تاریخی حروف میں لکھاجائے گا۔اس تحریک میں وہ پابند سلاسل بھی ہوئے او رملازمت سے برطرفی کا بھی سامنا کیا،لیکن اپنے اصول پر سمجھوتہ نہیں کیا۔وہ واحد پاکستانی صحافی اور انسانی حقوق کے راہنما تھے جو مدبر وکیل کے طور پر اپنی شاخت رکھتے تھے اور بلاتفریق ہر محاذ پر انہوں نے پیچھے ہٹنے کی بجائے آگے بڑھنے کو ترجیح دی۔میں نے انہیں کبھی بھی مایوس نہیں دیکھا۔ وہ مجھے کہا کرتے تھے کہ جب فرد مکمل طور پر مایوس ہوجائے تو اسے اپنا کام ختم کردینا چاہیے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ زندگی کے آخری سانس تک اپنے فکری نظریات کی بنیاد پر جنگ لڑتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے۔
وہ پاکستان میں انسانی حقوق کے معروف ادارے ہیومین رائٹس کمیشن کے ساتھ کئی دہائیوں تک وابستہ رہے۔ اسی طرح ملکی اور علاقائی سیاست میں امن کی بحالی کے لیے پاک انڈیا فورم سمیت کئی فورمز کا حصہ رہے۔ان کی خدمات پر ان کو نیورمبرگ سٹیز انٹرنیشنل ہیومین رائٹ ایوارڈ جبکہ 2004میں میگسے ایوارڈ فار پیس سے نوازا گیا۔پا ک بھارت تعلقات کی بہتری کے بڑے داعی تھے اور وہ دونوں ملکوں کی سطح پر لوگوں کے باہمی رابطوں کے سفیر تھے۔ ان کے بقول دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کی کنجی لوگوں کے باہمی رابطوں سے جڑی ہوئی ہے اور یہ ہی رابطے اس خطہ کو امن، ترقی و خوشحالی کی طرف لے جاسکتے ہیں۔آئی اے رحمان کی خاص بات یہ تھی کہ وہ اپنی بات کا اظہار کرتے ہوئے تنقید اور تضحیک کے بنیادی فرق کو سمجھتے تھے او گفتگو میں ایسے لفظوں سے گریز کرتے جو کسی کی تضحیک یا دل آزاری کا سبب بنے۔ وہ بنیادی طور پر مکالمہ کے آدمی تھے۔شخصیات سے الجھنے کی بجائے وہ ایشوز کی بنیاد پر اپنا مقدمہ پیش کرتے اور مباحث کو ایک نئی جہت دیتے تھے۔1990سے میرا آئی اے رحمان سے تعلق تھا اور آخری سانس تک رہا او ران سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا جو عملی زندگی میں بہت کام آیا۔
آئی اے رحمان کی خوبی یہ تھی کہ وہ گفتگو میں سے ہمیشہ کوئی ایسا نیا نکتہ بیان کرتے جو بحث کا سبب بنتا اور اہم بات یہ کہ وہ مکالمہ سے گھبرانے کی بجائے اسے اپنی طاقت سمجھتے تھے۔ہر طبقہ فکر کے لوگ ان کے اردگرد موجود ہوتے او ران سے ملنا بہت آسان ہوتا تھا۔ وہ وقت دینے میں کنجوسی کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے۔کئی فورمز پر ان کے ساتھ بات چیت کا موقع ملتا تو یہ میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں تھا۔ دلچسپ بات یہ کہ وہ کبھی بھی اپنی بات دوسروں پر مسلط نہیں کرتے تھے۔وہ واقعی جمہوریت او رانسانی حقوق کی ایک توانا آواز تھے اور ان جیسے حقیقی دانشور کا جانا جمہوری جدوجہد کے لیے بھی اچھا شگون نہیں۔
آئی اے رحمان نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف مقدمہ بڑی جرات سے خوب لڑا۔تعلقات کو نبھانا، دوستی کرنا او راسے لے کر چلنے کا فن بھی رحمان صاحب کو خوب تھا۔وسیع المطالعہ آئی اے رحمان دنیا میں ہونے والی سیاسی، سماجی تبدیلیوں اور دنیا میں جاری تحریکوں کا خلاصہ خوب پیش کرتے ۔بات کرنے کا سلیقہ بھی خوب آتا او ر کڑوی سے کڑوی بات اس انداز سے کرتے کہ دوسرے نالاں نہ ہوتے۔ ان کے بڑے بیٹے اشعر رحمان خود صحافتی دنیا کا اہم نام ہے اور جس انداز سے انہوں نے اپنے والد کے صحافتی اثاثہ کو برقرار رکھا ہوا ہے، وہ قابل تعریف ہے۔ آئی اے رحمان کا خلا مشکل سے پورا ہوگا اور ان کے چاہنے والوں کے سامنے اب ان کا فکری اثاثہ ہے او ریہ ہی ہم سب کا سرمایہ بھی ہے:
اب تو یاد رفتگان کی بھی ہمت نہیں رہی
پیاروں نے بہت دور بسائی ہیں بستیاں