سعد رضوی سمیت 210 مقدمات عدالتی کارروائی سے گزریں گے: وزیر داخلہ

  • بدھ 21 / اپریل / 2021
  • 3490

وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ 210 مقدمات عدالتی کارروائی کے عمل سے گزریں گے، اس میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کا مقدمہ بھی شامل ہے۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ایم پی او کے تحت گرفتار کیے گئے لوگوں کو بھی رہا کریں گے اور اس وقت تک 733 میں سے 669 افراد کو رہا کیا جاچکا ہے، ان میں زیادہ تر افراد جنوبی پنجاب، فیصل آباد ڈویژن میں رہا کیے گئے۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ پر تشدد مظاہروں کے دوران 30 گاڑیاں جلائی گئی ہیں اور ٹی ایل پی نے 5 گاڑیاں واپس کی ہیں جبکہ 12 یرغمالی پولیس اہلکاروں کو 19 اپریل کی رات ہی رہا کردیا گیا تھا۔ پنجاب پولیس کے زخمی اہلکاروں کو سی ون اور سی ٹو کے سرٹیفکیٹس اور 4 کروڑ روپے دیے جارہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دینے پر ان کی جانب سے 30 روز کے اندر اپیل ہوسکتی ہے جس میں وہ جواب دیں گے، اس پر ایک کمیٹی بنے گی جو اس کیس کا فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان بذات خود ناموسِ رسالت ﷺ کے معاملے پر مغربی ممالک کے حکمرانوں کو اعتماد میں لیں گے۔ ایسی سوچ پائی جارہی ہے کہ اس معاملے کی مسلمانوں کے لیے جو اہمیت ہے اس سے ساری دنیا کے انسانوں کو آگاہ کیا جائے۔

شیخ رشید نے کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 11 (بی) کے تحت ٹی ایل کو کالعدم قرار دیا گیا تھا اور 11 (سی) کے تحت انہیں اپیل کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتوار تک ہم بہت بہتر پوزیشن میں تھے لیکن اتوار کو بعض ملک دشمن قوتوں نے پروپیگنڈا کیا، ایسے لوگوں کی ویڈیو دکھائی جنہوں نے بعد میں خود اپنے مردہ ہونے کی تردید کی۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 700 پولیس والے زخمی ہوئے، ٹی ایل پی کے لوگ بھی جاں بحق ہوئے لیکن یہ ساری باتیں خوش اسلوبی سے اس لیے طے ہوگئیں کہ ملک کی خاطر، اسلام کی خاطر ناموس رسالت ﷺ کی خاطر ہم دوبارہ بیٹھے حالانکہ اس سے قبل ہماری تمام کوششیں ناکام ہوگئی تھیں۔

ٹی ایل پی نے بھی خوش اسلوبی سے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور جو قرار داد پیش کی گئی اس میں یہ شق شامل کی گئی ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کے معاملات ریاست کو طے کرنا ہیں، کوئی فرد، گروہ یا جماعت اس حوالے سے بے جا یا غیر قانونی دباؤ نہیں ڈال سکتا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی نے گرفتار افراد کی رہائی کی بات نہیں کی، یہ ہمارا سمجھوتہ تھا کہ ایم پی او اور فورتھ شیڈول کے لوگوں کو چھوڑا جائے گا تاہم سعد رضوی اس میں شامل نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کی سیکیورٹی، عید میلاد النبی کے جلوسوں، مساجد میں خطاب، مساجد اور مدارس کی رجسٹریشن کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک پالیسی لانا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی فتنہ انگیزی اور نفرت انگیز تقریروں کے خاتمے کے لیے سخت شکنجہ ڈالا جائے۔ ہم ایسا قانون لانا چاہتے ہیں کہ کوئی قانون کی گرفت سے بالا نہ ہو۔

شیخ رشید نے کہا کہ گزشتہ دنوں جو کچھ ہوا اس لڑائی میں سب سے بڑا ہتھیار سوشل میڈیا کا استعمال ہوا جس پر وزارت خارجہ نے اجلاس کیا ہے اور پاکستان کے حساس ادارے بھی سوشل میڈیا کے اس کردار کو دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اتوار کے روز بھارت، کوریا اور بڑی تعداد میں لوگ امریکا سے لانچ ہوئے جس کا مقصد پاکستان کے استحکام کو تباہ کرنا ہے۔

سوشل میڈیا کے کردار پر پوری تحقیق جاری ہے، ایک وقت میں بھارت سے 2، 2 لاکھ افراد آن لائن تھے، اس پر قانون سازی کرنے والے ہیں۔ ابصار عالم پر حملے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کیمروں کی مدد سے واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔