گدھے اور جمہوریت
- تحریر مسعود مُنّور
- بدھ 21 / اپریل / 2021
- 14590
نوٹ: (یہ باقاعدہ کالم نہیں بلکہ میرے پریشاں افکار کا زائچہ ہے۔ پاکستان کی موجودہ صورتِ حال میں کچھ کہنے سے ڈر لگتا ہے اور بھلا ہو میرے کمپیوٹر کا جو کسی مریل گدھے کی طرح اڑی کر رہا ہے اور بازار بند ہیں جہاں اس کے شافی علاج کا بندو بست ہو سکے۔ لہٰذا تاخیر سے کالم عرض کرنے پر معذرت خواہ ہوں۔)
آج پاکستان کو علامہ اقبال کا یومِ وفات درپیش ہے اور ساتھ ہی مُغنیہ اقبال بانو کی برسی بھی منائی جا رہی ہے۔ یعنی سازو آواز کی مشترکہ برسی۔ ان دونوں کے لیے حرفِ تعزیت حالانکہ اس وقت قوم جس طرح فرانس کے سفیر کی ملک بدری اور قومی اسمبلی میں لفظی جوتم پیزار میں اُلجھی ہوئی ہے ، برسیوں کے لیے وقت نکالنا آسان نہیں ہوتا۔ مگر اسمبلی میں لفظی جوتے میں جمہوریت کی دال بانٹنے کا اعزاز ایک سابق وزیر اعظم کو حاصل ہوا ہے تو اس پر علامہ اقبال کو یاد نہ کرنا قلمی بد دیانتی ہو گی۔ فرماتے ہیں:
جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
اب یہاں سُخن گسترانہ بات یہ آن پڑتی ہے کہ بندے کی تعریف کیا ہے؟ یعنی رب کا بندہ یا بندہ کُبندہ۔ اقبال کو یہی لگا کہ جمہوریت میں بندے اور بندر میں زیادہ فرق نہیں ہوتا بس ہ او رے کا فرق ہوتا ہے، چنانچہ وہ جمہوری بھیڑ کو بندروں کی منڈلی ہی سمجھتے ہیں اور فرماتے ہیں:
گریز از طرزِ جمہوری، غُلامے پُختہ کارے شو
کہ از مغزِ دو صد خر فکر انسانی نمی آید
یعنی اسمبلیوں میں بیٹھے دو تین سو گدھے انسانی فکر کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو مگر پاکستان کی اسمبلیوں میں تو بڑے بڑے صاحبِ حیثیت لوگ، جاگیردار، سرمایہ دار، علماء اور دانشور بیٹھے ہیں۔ اُنہیں گدھا کہنا گدھوں کی توہین ہے کیونکہ گدھے کم از کم اداکاری اور منافقت نہیں کرتے، بلکہ خالص گدھے ہی رہتے ہیں ، انسانوں کے بے دام غُلام بن کر رہتے ہیں۔ اور تو اور بکروں، دنبوں اور مینڈھوں کی جگہ کھانے کے کام بھی آتے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ گدھا بڑا کام کا جانور ہے اور برے وقتوں میں انسانوں کے طرح طرح سے کام آتا ہے۔ اب اچھے کی مناسبت سے کیا اہی اچھا گدھا یاد آیا۔ ملا نصرالدین کا گدھا ۔
روایت ہے کہ ایک شخص مُلا نصرالدین کے ہاں حاضر ہوا اور بولا کہ سفر پر جانے کا ارادہ ہے اور سوچ رہاں ہوں کہ گدھے پر سوار ہو کر جاؤں۔ مُلا نے تالی بجائی اور فرمایا کہ کیا اچھا ہم سفر تلاش کیا۔ زندگی کے سفر میں گدھے سے اچھا ساتھی تو کسی قسمت والے کو ہی میسر آ سکتا ہے۔ اس پر ملاقاتی نے گزارش کی کہ اگر آپ مجھے اس سفر کے لیے اپنا گدھا مستعار دے سکیں تو بہت بڑی انسانی خدمت ہوگی۔ اس پر ملا نے معذرت کی اداکاری کرتے ہوئے کہا کہ بھائی تم دیر سے آئے ہو، میرا گدھا تو کوئی پہلے ہی مانگ کر لے جا چکا ہے۔ ابھی یہ بات ہو رہی تھی تو طویلے کی جانب سے گدھے کی ڈھنیچوں ڈھینچوں سنائی دی تو ملاقاتی نے کہا کہ ملا جی، گدھا تو یہیں ہے، آپ کہہ رہے تھے کہ وہ یہاں نہیں ہے۔ اس پر مُلا جی نے کہا کہ بد بخٹ آدمی تو انسان کی زبان پر اعتبار نہیں کرتا جس نے کہا ہے کہ گدھا نہیں ہے اور ایک گدھے کی زبان پر اعتبار کر رہا ہے کہ وہ ہے۔ میں نے جب کہہ دیا کہ گدھا نہیں ہے تو نہیں ہے۔ یہ انسانی زبان کا اعتبار اور احترام ہے۔ چل بھاگ یہاں سے۔
ملا کا گدھا انسانی تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ ایک بار ملا اپنے گدھے پر سوار گاؤں کی مسجد تشریف لے گئے اور ، گدھے کو مسجد کی چوکھٹ سے باندھا ا اور خُود نماز کے لیے اندر تشریف لے گئے۔ مُلا نے گدھے کو مسجد کے دروازے پر دیکھا تو مُلا جی سے کہا کہ اس بد آواز جانور کو آپ ساتھ مسجد میں لے آئے ہیں۔ اب اگر اس نے اپنے بے سُرے راگ کا الاپ شروع کر دیا تو نمازیوں کی توجہ میں خلل پڑ سکتا ہے۔ اس پر مُلا نے کہا کہ حضور! میرا گدھا بڑا صاحب ِ مرتبہ ہے۔ یہ چالیس برس سے اپنی پیٹھ پر مقدس دینی کتابیں لادے میرے ساتھ ہے اور چار بار حج پر بھی میرے ساتھ جا چکا ہے۔
تب مجھے یاد آیا کہ قرآن میں بے عمل یہودیوں کے بارے میں یہ استعارہ رقم ہے کہ وہ ایسے گدھے ہیں جن پر تورات لدی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے جمہوریت کے گدھوں پر پاکستان کا آئین اور ملکی قوانین کی دستاویزات لدی ہیں جو اُنہیں جمہوریت نواز نہیں بنا سکیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم قانون کو اپنا ذاتی موبائل سمجھتے ہیں جس کو جس طرح چاہیں استعمال کریں۔ یہ رویہ قدیم سے ہی ہمارے مزاج میں شامل ہے۔ پڑانے پنجابیوں کی ایک کہاوت ہے:
ڈاڈھیاں دا ستیں وینہہ سو ہونا اے، یوں ہی جس کی لاٹھی اُس کی بھینس ہماری جمہوریت کا بنیادی فارمولا ہے۔ عدالتوں سے اسمبلیوں تک اور مسجدوں سے مذہبی جماعتوں تک ہر جگہ طاقت کا فارمولا چلتا ہے۔ بے چارے قانون کو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ بلکہ یار لوگوں نے قانون کے چہرے سے قا کاٹ کر کہیں پھینک دیا ہے اور نون کو اپنے پاس رکھ لیا ہے۔ اور جس کے پاس نون وہی افلاطون۔ نون ایک بڑا جادوئی اور طلسمی حرف ہے جس سے نواز کا نام آغاز ہوتا ہے اور عمران کا نام اس پر ختم ہوتا ہے۔ عمران سے یہ نون ترین تک منتقل ہوتا ہے جس سے چینی کا بازار متاثر ہوتا ہے اور لوگ اس رمضان میں جس میں نون موجود ہے چینی کے لیے ترس رہے ہیں کیونکہ چینی میں نون بیچ میں پڑتا ہے اور ہم چین سے چینی درآمد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کیونکہ چینی سے زیادہ کوویڈا ویکسین کی ضرورت ہے اور ویکسین میں نون عمران اور ترین کی طرح آخر میں موجود ہے۔
لیکن حیرت ہے کہ ان سب کو نظر انداز کر کے شیخ رشید کی برطرفی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جس نام میں اور اس کی لال حویلی سے لے کر وزارتِ داخلہ تک میں کہیں بھی نون کے ہونے کا شائبہ اور اندیشہ تک نہیں۔ لیکن بہت سی توپوں کا رُخ شیخ رشید کی طرف ہے۔ اوراگر شیخ رشید کی قربانی سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو اس کارِ خیر میں دیر نہیں ہونی چاہیے لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ فرانس میں بھی نون موجود ہے اور نون نفرت کا اشارہ بھی ہے۔ اور آپ جب کہ ا کیس اپریل کو سورج دائرۃ البروج کے برج ثور میں داخل ہورہا ہے جو اپنے نحس اثرات سے غیظ و غضپ اور آویزش کو ہوا دینے کی قدرت کا حامل ہے اور یہ مہینہ پاکستان کی سیاست اور اہلِ سیاست پر بھاری پڑ سکتا ہے۔
اس مہینے مکے سے خیر کی خبر آنے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ فرانس کو سزا دینے اور سفیر کی دربدری کے معاملے میں پاکستان عالمِ اسلام میں اکیلا ہے اور اکیلے دُکیلے کا اللہ ہی بیلی ہوتا ہے۔ اور اللہ بے نیاز ہے، وہ چاہے تو کربلا میں خانوادہ حسین علیہ السلام کو دنیا بھر کے لیے قربانی کی مثال بنا دے تاکہ تاریخ کی شاہراہ پر ایک ایسا سنگِ میل نصب ہو جائے جو بھولے بھٹکے قافلوں کو راستہ دکھاتا رہے۔
اب آخر میں بابا نور والے علیہ رحمت کا ایک قول:
نفرت کو نفرت سے ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ نفرت کو صرف محبت ہی ختم کر سکتی ہے اور یہ ایک دائمی قانون ہے۔ ایک اٹل قانون۔