کوئٹہ ہوٹل پارکنگ میں ہونے والا حملہ خودکش تھا: وزیر داخلہ

  • جمعرات 22 / اپریل / 2021
  • 3660

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں ہوٹل پارکنگ میں ہونے والا حملہ خودکش تھا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ ہوٹل پارکنگ میں خودکش دھماکے کے لیے 60 سے 80 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔

خودکش حملہ آور گاڑی میں بیٹھا رہا جس کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ گاڑی کو فرانزک کے لیے بھیجا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل کے حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے۔ 6 زخمی ہسپتال میں ہیں جن میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اندر سے غیر مستحکم کرنے کی غیر ملکی کوشش جاری ہیں۔ دھماکے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ چیف سیکریٹری سے فوری تحقیقات کا کہا ہے اور حتمی رپورٹ تحقیقات کے بعد سامنے آئے گی۔

شیخ رشید نے کہا کہ گوادر اور بلوچستان ملک کی ترقی کا نام ہے، گوادر پاکستان کا مستقبل ہے۔ چین ہمارا آزمودہ دوست ہے اور ہماری چین سے دوستی کوہ ہمالیہ سے بھی بلند ہے۔ ایسی صورتحال میں دھماکے کا اصل مقصد پاکستان کے امن کو تہہ و بالا کرنا ہے اور اسے نقصان پہنچانا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ چین کے سفیر کئی روز سے کوئٹہ میں ہیں اور محفوظ ہیں۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے قبل دیگر شہروں کے حوالے سے انٹیلی جنس رپورٹس تھیں لیکن چونکہ کوئٹہ اب ایک پرامن شہر تھا اور ہم فرنٹیئر کور (ایف سی) کو یہاں سے نکالنے کا سوچ رہے تھے لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کوئٹہ کے زرغون روڈ پر سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہوگئے تھے۔ دھماکے کی نوعیت کا فوری طور پر تعین نہیں کیا جاسکا تھا۔

ادھر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں دھماکے کے وقت چینی سفیر ہوٹل میں موجود نہیں تھے۔ واقعے میں کوئی چینی شہری متاثر نہیں ہوا۔ صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ روز کوئٹہ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، حملے کے وقت چینی سفیر ہوٹل میں موجود نہیں تھے جبکہ کوئی چینی باشندہ حملے میں متاثر نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین تمام موسموں کے شراکت دار ہیں، حکومت چینی باشندوں کی حفاظت یقینی بنا رہی ہے۔