شدت پسندی سے سختی سے نمٹنا ناگزیر
- تحریر مظہر چوہدری
- جمعرات 22 / اپریل / 2021
- 7430
یوں تو مملکت خدا داد پاکستان میں مذہبی معاملات کی بنیاد پر شدت پسندی کے واقعات کوئی نئی چیز نہیں تاہم ماضی کے مقابلے میں حالیہ شدت پسندی توہین مذہب کے کسی مقدمے میں سنائے جانے والے کسی ناپسندیدہ فیصلے کے ردعمل کی بجائے محض ایک مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ کی گرفتاری کے ردعمل کے طور پر دیکھنے میں آئی۔
اگرچہ دو سال قبل اسی جماعت کی جانب سے شدید قسم کی توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کے ردعمل میں حکومت نے کافی سخت ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جماعت اور اس کے قائدین کے خلاف وقتی طور پر سخت تادیبی کاروائیاں کی تھیں لیکن شدت پسندی کے حالیہ واقعات کے خلاف حکومتی وریاستی سطح پر اٹھائے جانے والے تادیبی اقدامات بظاہر انتہائی سخت دکھائی دے رہے ہیں۔حکومت نے مذہبی جماعت کے کارکنوں کی جانب سے سڑکوں کی بندش، جلاؤ گھیراؤ اور تشدد کے واقعات کی بنیاد پر نہ صرف مذہبی جماعت کے سربراہ سمیت سرکردہ رہنماؤں کے خلاف دہشت گردی اور قتل کے مقدمات درج کرکے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت کارروائی کا اعلان کیا بل کہ جماعت کے سربراہ سعد رضوی کا نام فورتھ شیڈول میں ڈالتے ہوئے تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دے کر ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اس کے علاوہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے دارالحکومت کے وسط میں جاری بڑے دھرنے کو ختم کرنے کے لئے پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن بھی کیا گیا۔آپریشن کے اگلے روز وزیراعظم پاکستان نے قوم سے خطاب میں واضح کیا کہ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی نہ ہونے بارے ان کی حکومت اورتحریک لبیک پاکستان کا مقصد یکساں ہے لیکن دونوں کے طریقہ کار میں فرق ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ بھی کہا کہ 50سے زائد مسلمان ملکوں میں سے کوئی بھی یہ مطالبہ نہیں کر رہا کہ فرانس کے سفیر کو واپس بھجوایا جائے۔انہوں نے کہا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے سے فرانس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن اس اقدام سے پاکستان متاثر ہوگا۔ان کے مطابق فرانس سے تعلقات منقطع کرنے کا مطلب یورپی یونین سے تعلقات منقطع کرنا ہے اور ایسا کرنے سے ہماری ٹیکسٹائل برآمدات آدھی رہ جائیں گی، بے روزگاری میں اضافہ ہوگا، روپے کی قدر کم ہو جائے گی اور مہنگائی بڑھے گی۔
حکومت کی کئی ایک حکمت عملیوں اور پالیسیوں کا ناقد ہونے کے باوجود میرے خیال میں وزیراعظم عمران خان کی حکمت عملی زمینی حقائق کے عین مطابق ہے۔گستاخانہ خاکوں یا کسی اور نوعیت کی توہین کے ردعمل میں اکیلے پاکستان کے بائیکاٹ سے مغرب کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔گستاخی یا توہین کے معاملے پر سارے اسلامی ممالک مل کر مغرب کا تجارتی و سفارتی بائیکاٹ کریں تو شاید مغربی ممالک آزادی اظہار رائے کے حق کو مشروط کرنے پر قانون سازی کر لیں لیکن دو تین مسلمان ملکوں کے احتجاج یا سفارتی و تجارتی تعلقات ختم کرنے کا مغرب پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔دوسرا طریقہ یہی ہے کہ سارے اسلامی ممالک مل کرمغرب کو اس بات پر قائل کرنے کی کوششیں کرتے رہیں کہ وہ ہولو کاسٹ کی طرح پیغمبر اسلام کے خلاف بھی کوئی منفی بات نہ کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے شہریوں کو یہ باور کرانا ہوگا کہ ملکی و عالمی سطح پر توہین مذہب یا توہین رسالت کے واقعے کو بنیاد بنا کر کسی فرد یا جماعت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ خود ہی مدعی اور منصف بن کر سڑکوں کی بندش اور جلاؤ گھیراؤ پر مبنی شدت پسندانہ کاروائیاں کریں یا مبینہ توہین کے کسی ملزم کو عدالتی کاروائی سے پہلے موت کے گھاٹ اتار دیں۔گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کے اعلی تعلیمی اداروں میں مبینہ توہین کے الزامات پر طالب علموں کے ہاتھوں طالب علم اور اساتذہ قتل ہو چکے ہیں۔گزشتہ دو سالوں کے اندر اندر صورت حال اتنی خراب ہو چکی ہے کہ مبینہ توہین کے مقدمے میں کسی ملزم کے بری ہونے یا عالمی سطح پر توہین مذہب کے معاملات میں کسی مغربی ملک کے سربراہ کے بیان کے ردعمل میں ہمارے ہاں ملکی و عوامی املاک اور حکومتی وریاستی اداروں کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی جاتی ہے۔ دو سال قبل توہین مذہب کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پرمذہبی جماعت کی جانب سے آنے والا ردعمل اتنا اشتعال انگیز تھا کہ فیصلے کے چند گھنٹوں بعدہی ملک کے وزیراعظم کو مختصر خطاب کے ذریعے حکومتی و ریاستی سطح پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کرنا پڑا تھا۔ویسے تو ہمارے ہاں سیاسی وسماجی رہنماؤں سمیت مختلف مکاتیب فکر کے افراد کے خلاف کفر واقتال کے فتوے جاری ہونا کوئی نئی بات نہیں لیکن کسی شدت پسند گروہ کی جانب سے ریاست کے دو طاقتور اور اہم ترین اداروں کے سربراہوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات پر مبنی فتوے جاری ہونا معمول سے بالکل ہٹ کر تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں معاشرے میں سرطان کی طرح پھیلی ہوئی شدت پسندی کو مختلف ادوار میں ریاست اور حکومت سمیت سیاسی جماعتوں کے تضادات نے سیاسی، انتظامی اور فکری طاقت مہیا کی ہے لیکن اب اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ریاست یا حکومت کی طرف سے شدت پسندی کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کی حمایت نہ کرتے ہوئے مخالفت برائے مخالفت کے روایتی موقف پر ہی کاربند رہا جائے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ گزشتہ دو سالوں سے حکومتی وریاستی سطح پرمذہب کے نام پر جلاؤ گھیراؤ اور عوامی وسرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی جماعت نے چند ہی سالوں میں ملک میں ایسی فضا بنا دی ہے کہ عوام کی اکثریت مبینہ توہین کے واقعات میں قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے جان لیوا حملوں کو شدت پسندی نہیں سمجھتی حالانکہ اپنے خیالات ونظریات کو دوسروں پر زبردستی ٹھونسنے کے لئے قوت، طاقت اور تشدد کا استعمال اصل میں شدت پسندی ہی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ شدت پسندی کی انتہائی صورت ملک میں لمبے عرصے کے لئے خانہ جنگی، سیاسی عدم استحکام، فرقہ واریت،مذہبی بنیاد پرستی اور شدت پسندی جیسے خطرات اور برائیوں کو جنم دینے کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پرہمارے لیے بے تحاشا مشکلات کھڑی کر سکتی ہے۔سماج میں سرایت کی ہوئی انتہا پسندی کوختم کرنے کے لئے ملک کے بڑوں کو ماضی کی غلطیوں کوکسی بھی قیمت پر نہ دوہرانے کا عزم کرتے ہوئے بیک وقت مختلف محازوں پر سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوں گے۔اعتدال پسند مذہبی علمائے کرام اور قد آور سماجی وادبی شخصیات کی مدد سے معاشرے میں یہ بیانیہ عام کرنا ہوگا کہ اپنے خیالات و نظریات کو دوسروں پر زبردستی ٹھونسنے کیلئے قوت، طاقت اور تشدد کا استعمال کسی بھی صورت جائز نہیں۔ نصابی کتب کے توسط سے ہمیں موجودہ نوجوان نسل کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کرناہو گی کہ شدت پسند عقائد و نظریات رکھنے والے افراد اپنی خوشیوں کے سب سے بڑے دشمن ہونے کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی ترقی اورخوشحالی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتے ہیں۔