نسلوں کی بربادی سے ہاتھ کھینچ لیں

علامہ خادم حسین رضوی مرحوم کی علمیت یا سوچ سے ایک سو ایک اعتراضات و اختلافات کے باوجود یہ ماننا پڑتا ہے کہ ان کی خطابت میں بلا کا ابلاغ تھا اور پھر ان کا ٹھیٹھ عوامی انداز۔ کیا دبنگ شخص تھا کہ ان کا بدترین مخالف بھی ان کی بات سنتا تو لمحے بھر کیلئے وہیں ٹھہر جاتا اور کھرے پن سے محظوظ ہوئے بغیر نہ رہ پاتا۔

کسی بھی شخصیت کے مقام کا تعین کرتے وقت پیرو کاران کی سوچ اور ذہنی سطح کو ضرور پیش نظر رکھا جانا چاہئے ۔ اس پر بھی غور ہونا چاہئے کہ مذہبی الذہن غریب، لاچار دبے ہوئے طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ اتنی بڑی تعداد میں ان کے گرد کیسے اور کیونکر جمع ہو گئے تھے کہ ان کا جنازہ پاکستان کی تاریخ کاسب سے بڑا جنازہ قرار پایا ۔ مابعد ان کے اصحاب یا ساتھیوں میں سے کچھ نے جانشینی یا نیابت کی کاوشیں کیں لیکن معتقدین نے روایتی نسلی قرابت کی بنیاد پر ان کے بیٹےکو ان کی گدی پر لا بٹھایا ۔

فرانس کے ساتھ توہین آمیز کارٹونوں کا معاملہ بڑے رضوی صاحب کی زندگی میں ہی بھڑک چکا تھا اور یہ مطالبہ انہی کی طرف سے اٹھایا گیا تھا کہ فرانسیسی سفیر کو ان کے ملک واپس بھیجتے ہوئے فرانس سے سفارتی تعلقات ختم کئے جائیں۔اس روایتی مذہبی پس منظر میں ان کے جانشین اور پیروکاران کا اپنے اس مطالبے پر بضد ہونا قابل فہم ہونا چاہئے۔ البتہ حکومت پاکستان کا یہ فرض بنتا تھا کہ وہ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر ذمہ دارانہ موقف اپناتے ہوئے دیگر مذہبی طبقات بالعموم اور  اپوزیشن کو بالخصوص اعتماد میں لیتی ۔ یہ امر باعث حیرت ہے کہ ماقبل ٹی ایل پی سے تحریری معاہدہ کرتے ہوئے صورتحال کی حساسیت کو کیوں سامنے نہیں رکھا گیا ؟

آج حکومتی ذمہ داری پر فائز شخص یہ کہہ رہا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے ان کا تو کچھ نہیں بگڑے گا البتہ پاکستان کو بڑا معاشی نقصان ہوگا اور یہ محض پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے، پورے عالم اسلام کا ایشو ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ کی حکومت تحریک لبیک کی قیادت سے یہ تحریری معاہدہ کر رہی تھی کہ ہم اس مسئلے کو نہ صرف یہ کہ پارلیمینٹ میں بحث کیلئے لائیں گے بلکہ فرانسیسی سفیر کو اسلام آباد سے نکال باہر کریں گے۔ اس معاہدے پر آپ کے وزراء نے باقاعدہ دستخط کر رکھے ہیں۔ اس وقت آپ کو اس کے مضمرات کا ادراک کیوں نہ ہوا ؟ جس دین کے حوالے دیتے ہوئے آپ کا گلا خشک نہیں ہوتا ہے، وہ تو یہ کہتا ہے کہ’’ لاایمان لمن لاعہد لہُ‘‘ اس کا ایمان نہیں جس میں عہد کی پاسداری نہیں۔ حکومتی عہدنامہ کوئی مذاق نہیں ہوتا جس سے آپ جب چاہیں مکرجائیں ۔

ٹی ایل پی نے احتجاج کا جو اسلوب اپنایا، کوئی بھی راست فکر اس کی تائد نہیں کر سکتا۔ اس نوع کا احتجاج تو غیر ملکی قابض قوتوں کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے والوں کیلئے بھی جائز قرار نہیں دیا جا سکتا چہ جائیکہ اپنی ہی حکومت کے خلاف اپنے ہی ملک کی پولیس کے خلاف اس نوع کا کریک ڈاؤن کیا جائے۔ جیسے کہ نشری تقریر میں حکومتی ہیڈ کی طرف سے بیان کیا جا رہا ہے کہ چار پولیس والے شہید کر دیے گئے، آٹھ سو کے قریب زخمی کئے گئے، چالیس کے قریب گاڑیاں جلائی گئیں ۔ایسے خونی اور پرتشدد احتجاج کو کوئی بھی شخص کیسے قبول کر سکتا ہے ؟

یہی وجہ ہے کہ ان نقصانات کے بعد ٹی ایل پی کے خلاف عوام میں شدید غم وغصہ اور اضطراب پایا جاتا تھا۔ جس طرح قانون کے رکھوالوں کو پکڑ پکڑ کر بہیمانہ طریقے سے مارا پیٹا جا رہا تھا، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ اگر حکومتی ذمہ داریوں پر فائز لوگ اناڑی ہیں تو یہ احتجاج کرنے والے بھی کوئی مختلف نہیں ہیں ۔ یہاں سیاسی احتجاجی تحریکیں چلتی رہی ہیں اور اب بھی چل رہی ہیں مگر ان میں تشدد سے ہر ممکن حد تک گریز کیا جاتا ہے۔ افسوس یہاں طرفین نے کسی بھی اصول یا اخلاقی ضابطے کا خیال نہیں کیا ۔

مابعد حکومت کی طرف سے جس طرح تحریک لبیک کے احتجاجی کارکنان پر سیدھی گولیاں برسائی گئی ہیں۔ ان کے کتنے غریب نوجوان جاں بحق ہوئے ہیں ان کی توصحیح تعداد بھی نہیں بتائی جا رہی۔ میڈیا پر جس نوع کی بندشیں ان دنوں عائد کی گئی ہیں ان کا کیا جواز تھا ؟ آپ نے جس شتابی سے تحریک لبیک کو کالعدم قرار دیا، اسی شتابی سے مابعد ان کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے۔ یہ قطعی غیر ذمہ دارانہ اور گئے گزرے لوگوں والا رویہ تھا۔ یوں لگا جیسے حکومت نہیں چوں چوں کا مربہ ہے۔ کسی کو ہوش ہی نہیں کب کیا کرنا ہے۔ تانگے کے آگے گھوڑا باندھنا ہے یا گھوڑے کے آگے تانگہ۔

کالعدم تحریک لبیک والے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ جب آپ لوگ حکومت کی بجائے اپوزیشن میں تھے تب آپ کو ہمارے موقف اور طریق کار سے کوئی اختلاف نہیں تھا۔ تب ہمارے دھرنوں کی حوصلہ افزائی اور پرموشن کیلئے تن من دھن ایک کئے ہوئے تھے۔ اس وقت کی حکومت کو دھمکیاں دیتے تھے کہ اگر آپ نے استعفیٰ نہ دیا تو پورا ملک تحریک لبیک بن جائے گا۔ تب آپ لوگوں نے خود احتجاج کا جو اسلوب اپنایا تھا، جس طرح پارلیمینٹ اور ٹی وی اسٹیشن پر حملے کر رہےتھے ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر تو دیکھیں۔

پاکستانی عوام اپنے حکمرانوں سے یہ پوچھ رہے ہیں کہ آپ لوگ اتنی لمبی لمبی کیوں چھوڑتے ہیں؟ “مغرب کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا ہے۔ میں ان لوگوں کو کہتا ہوں کہ توہین کے ملزمان کو ہماری طرح سزائیں دیں۔ میں تمام اسلامی ممالک کا بلاک بنايؤں گا۔ میں ان سب کو اس مسئلے پر اکٹھا کروں گا۔ اور پھر یورپ کے بالمقابل کھڑے کروں گا”۔ اوبھائی بس کردیں اب، شہتیروں کو جپھے مارنے والی کی سی حرکتیں نہ کریں۔ انسان کیا کسی جانور کو بھی اتنا ہی ہڈ اٹھانا چاہئے جتنےجوگا وہ ہو۔ اتنے لمبی چوڑی چھوڑنے سے پہلے اپنی حیثیت کا کچھ تو احساس و ادراک کر لو۔ آج اقوام کی حیثیت یا ان کا وزن ان کی معاشی طاقت سے ماپا جاتا ہے جو خیر سے تباہ حال ہے۔ قومی یکجہتی پارہ پارہ ہے۔ حالت یہ ہے کہ ملک میں ہونے والی اس حالیہ پرتشدد تباہی کے باوجود آپ بجائے اپنی اپوزیشن کو اپنے ساتھ ہم آہنگ کرتے، الٹے سوکنوں جیسے طعنے دے رہے ہیں۔یورپ کی تہذیبی اقدار پر آپ نے کون سی کتاب لکھی ہے یا ریسرچ آرٹیکل تحریر کر رکھا ہے؟ وہاں محض رہنے یا نائٹ کلبوں کے چکروں سے اتنے لمبے چوڑے دعوے ناقابل فہم ہیں۔ یہاں ہمارے اپنے بہت سے لوگ مل جائیں گے جو ساری زندگی یہاں گزار دیتے ہیں لیکن انہیں اپنی تہذیبی اقدار یا تاریخ کا کچھ علم نہیں ہوتا۔ بہرحال یہ ایک الگ موضوع ہے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ نے اپنے سماج کو عالمی برادری کے معیار پر دیکھنا ہے تو پھر یہاں طاقت کے جو اصل مراکز ہیں ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وقتی و ہنگامی مفادات سے اوپر اٹھیں۔ اپنی نئی نسلوں کو یوں برباد کرے کا وتیرہ یا طرز عمل چھوڑدیں۔ اندھی جذباتیت کا انجام اپنی نسلوں کو سوائے کھائیوں میں گرانے کے اور کیا ہو سکتا ہے؟ قیادت کا کام قوم کی شعوری و فکری رہنمائی ہوتا ہے نہ کہ بھیڑ چال اور وقتی مفادات کیلئے قومی بربادی کا کاروبار۔  آپ کا اور ان کا ’’مشن ایک ہے محض طریق کار کا تھوڑا سا فرق ہے”۔  بس کر دیں سرکار بس کر دیں، اپنی نسلوں کے ساتھ کھلواڑ اب بس کر دیں۔

 ان نونہالوں کے تعلیمی نصاب کو جدید عالمی انسانی تقاضوں کی مطابقت میں بدلیں۔ اندھی جذباتیت کی جگہ سوچ بچار، آزادی اظہار اور شعور کو آنے دیں۔ اے ملک کے اصل حکمرانو! اب اس قوم کی حالت پر رحم فرماؤ۔ اتنی تباہی کے بعد تو دشمن بھی ترس کھا لیتے ہیں ان کا ضمیر بھی زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے آواز دینے لگتا ہے۔ خدا کیلئے آپ مزید بربادیوں سے ہاتھ کھینچ لیں قوم کو انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے فیضان کا کچھ تو ادراک ہونے دیں۔