سیاحت کی ترقی سے ملک کے سارے قرضے ادا ہوجائیں گے: عمران خان

  • جمعہ 23 / اپریل / 2021
  • 6140

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سیاحت اس ملک کا مستقبل ہے اور اگر ہم سیاحت کو ترقی دیں تو بیرون ملک کے تمام قرضے واپس کر سکتے ہیں۔

مری میں پنجاب ہاؤس کو کوہسار یونیورسٹی میں تبدیل کیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے یونیورسٹی کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہاں اتنی آبادی ہو چکی ہے لیکن کوئی ہسپتال نہیں ہے، نتھیا گلی میں ایک بنیادی صحت کا مرکز ہے اور وہاں صرف ایک ڈاکٹر ہے لیکن یہاں بہت زیادہ سیاح آتے ہیں جن کے لیے وہ ناکافی ہے۔

عوام کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ایک حکومت ان کی صحت کا دھیان رکھے اور تعلیم فراہم کرے کیونکہ تعلیم سے ہی ایک شخص ترقی کرتا ہے۔ کوہسار یونیورسٹی یہاں کا مستقبل ہے، وہی قوم عظیم بنتی ہے جو آگے کا سوچتی ہے اور تعلیم کے بغیر قوم آگے نہیں بڑھتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس ملک میں سیاحت سے اتنا پیسہ کما سکتے جو ہمارے برآمدات اور ترسیلات زر سے زیادہ ہو گا اور ہم سیاحت سے ہی اپنے قرضے واپس کر سکتے ہیں ۔لیکن ہماری سیاحت مری میں آ کر رک جاتی تھی۔ ہمارے ملک میں اگر آپ خیبر پختونخوا اور شمالی علاقے جات کی طرف جائیں تو کئی علاقے مری اور نتھیا گلی بن سکتے ہیں لیکن ان پر توجہ نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اب پاکستان بدلنے والا ہے اور یہ سارے علاقے ترقی کریں گے کیونکہ ہماری سیاحت ہر سال دوگنی ہو رہی ہے۔ ابھی بیرون ملک سے لوگ نہیں آ رہے بلکہ اندر سے ہی سیاحت بڑھتی جا رہی ہے جس کی بڑی وجہ موبائل فون ہیں کیونکہ جو بھی گھومنے جاتا ہے وہ موبائل سے تصویر لے لیتا ہے اور فیس بک پر لگاتا ہے۔ لوگ اسے دیکھ کر وہاں پہنچ جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاحت اس ملک کا مستقبل ہے، اگر ہم نے سیاحت کو ترقی دیں تو اپنے بیرون ملک کے قرضے واپس کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر عمران خان نے سوئٹزرلینڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سوئٹزرلینڈ ہمارے شمالی علاقہ جات کا نصف بنتا ہے اور وہاں ہمارے شمالی علاقہ جات کے مقابلے میں بہت کم خوبصورتی ہے کیونکہ دنیا کے 10 سے 12 اونچے پہاڑوں میں سے آدھے ہمارے شمالی علاقوں میں ہیں لیکن سوئٹزرلینڈ نے سیاحت کو ترقی دی اور اسے سائنس بنایا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دنیا کے جتنے بھی خوشحال ملک ہیں، ان میں سب سے نمایاں چیز یہ ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کرتے ہیں اور انہوں نے اپنے ملک میں غربت کم کرنے بہت محنت کی۔ اسی لیے وہ خوشحال ہیں. آج اگر غیرمسلم ملک ہم سے آگے نکل گئے ہیں تو اس کی ایک بڑی  وجہ یہ ہے کہ انہوں نے وہ کام کیے اور ان اصولوں کو اپنایا جو مدینہ کی ریاست کے اصول بنائے گئے تھے۔ جو بھی کام ان اصولوں پر چلے گی وہ ترقی کرے گی۔