تحریک انصاف اراکین اسمبلی کا بڑا گروپ دوسری جماعتوں سے رابطے میں ہے: مریم نواز

  • ہفتہ 24 / اپریل / 2021
  • 5380

مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ تحریک انصاف کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کا بہت بڑا گروپ ہم سے بلکہ دوسری جماعتوں سے بھی رابطے میں ہیں۔

جاتی امرا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ سے دورہ کراچی منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں ذاتی طور پر کراچی جا کر وہاں کے عوام کو مسلم لیگ(ن) کے منشور کے حوالے سے آگاہ کرنا چاہتی تھی۔ لیکن میں محض سیاسی فوائد کے لیے کسی کی زندگی خطرے میں نہیں ڈال سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ(ن)  کراچی کی خدمت کرنا چاہتی ہے اور ماضی میں کراچی کے مسائل کو حل بھی کر چکی ہے۔ جس طرح سے پنجاب اور پاکستان کے دیگر حصوں میں ترقیاتی کام ہوئے ہیں، مسلم لیگ(ن) چاہتی ہے کہ اسی طرح کراچی کی بھی تقدیر بدلے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ 2018 کے الیکشن میں شہباز شریف کراچی سے کئی ہزار کی برتری سے جیت چکے تھے لیکن ووٹ چوروں نے پاکستان کی دیگر جگہوں کی طرح اس الیکشن پر بھی ڈاکا ڈالا اور دھاندلی کر کے شہباز شریف کو چند سو ووٹوں سے ہرایا گیا۔ آج بھی این اے-249 کا دل نواز شریف اور شہباز شریف کے ساتھ دھڑکتا ہے۔

مریم نواز نے این اے-249 کے عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ دھاندلی کے ذریعے جن کو آپ کے سروں پر مسلط کیا گیا ان کی کارکردگی بھی آپ نے دیکھی، انہوں نے مشکلات میں کبھی آپ کے پاس آ کر آپ کا حال نہیں پوچھا۔ خدمت تو دور کی بات دوبارہ اس حلقے کا رخ بھی نہیں کیا اور اس حکومت کی طرح عوام کی خدمت پر کوئی توجہ نہیں دی۔ کراچی کے ساتھ جو ہونا تھا ہو گیا، اب کراچی کے عوام کو اپنی تقدیر بدلنے کے لیے مسلم لیگ(ن)، نواز شریف اور ہمارے امیدوار مفتاح اسماعیل کے حق میں فیصلہ کرنا چاہیے۔

پیپلز پارٹی سے رابطوں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے معاملات کے بعد میرا کسی سے رابطہ نہیں ہوا۔ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ آج بھی اسی طرح کھڑی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے اس کا اجلاس 26اپریل کو اسلام آباد میں بلایا ہے۔ رمضان المبارک کے بعد پی ڈی ایم کیا حکمت عملی بناتی ہے اس کا فیصلہ اجلاس میں ہو جائے گا، اس تحریک کا مستقبل روشن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا جیل میں رہنا اور ہمت و استقامت سے جیل کاٹنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ آج بھی نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں اور نواز شریف کو چھوڑنے اور نقصان پہنچانے پر تیار نہیں ہیں۔ اور اگر وہ اس سلسلے میں ذرا سی بھی آمادگی ظاہر کرتے تو آج پاکستان کے وزیراعظم ہوتے، جیلوں میں نہ ہوتے۔

مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں نواز شریف کو جس طرح سے اشتہاری قرار دے کر راتوں رات کارروائی کی گئی وہ مضحکہ خیز بات تھی۔ انہوں نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دے کر ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع کیں۔ ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ تحریک انصاف کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کا جتنا بڑا گروپ نظر آیا ہے، دراصل گروپ اس سے بہت بڑا ہے اور وہ بہت پہلے سے ناصرف ہم سے بلکہ دوسری جماعتوں سے بھی رابطے میں ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان سب کو اپنے اپنے حلقوں میں واپس جانا ہے۔

ان اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو آپ نے سلیکٹرز سے دباؤ ڈلوا کر جوڑ کر 2018 کا الیکشن دھاندلی سے جیت تو لیا تھا لیکن اب ان کو حلقوں میں واپس جانا ہے، وہ الیکشن لڑنے والے لوگ ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ جب انہیں حلقوں میں جانا پڑا تو عوام ان کے گریبان پکڑیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کا اعلان ہونے دیں، یہ لوگ اپنے حلقوں میں مہم نہیں چلا سکیں گے۔ عوام کی نبض کا سب کو پتہ ہوتا ہے لہٰذا بہانہ تو جہانگیر ترین گروپ کا ہے، اصل بات یہ ہے کہ یہ تحریک انصاف کے ٹکٹ سے الیکشن نہیں لڑنا چاہتے۔ یہ عوام کے غیض و غضب کا سامنا اور عمران خان کی نالائقی اور نااہلی کا بوجھ نہیں ڈھونا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حکومت چاہتی ہے کہ میں یہاں سے چلی جاؤں لیکن جب تک یہ حکومت اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتی، میں یہیں ہوں اور ان کو یہ خوشی نہیں دوں گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جتنے بھی وزرا یا قلمدان تبدیل کر لیں، کچھ نہیں ہونے والا کیونکہ یہ میوزیکل چیئر ہے۔ تبدیلی اس ملک میں صرف اسی وقت آئے جب عمران خان جائے گا، عمران خان اور اس سلیکٹڈ حکومت کے جانے سے بہتری آئے گی۔