وزیر خارجہ کی خفیہ پاک بھارت مذاکرات کی تردید
- ہفتہ 24 / اپریل / 2021
- 4880
خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کسی بھی طرح کے 'امن مذاکرات' میں مصروف نہیں اور متحدہ عرب امارات کسی بھی طرح سے سہولت کار کا کردار ادا نہیں کررہا۔
ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کو انٹرویو دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں میزبان آندریا سانکے کے سوال کو درست کرنا چاہتا ہوں کہ کیا متحدہ عرب امارات افغانستان میں امن مذاکرات میں زیادہ دلچسپی لینے کے بجائے پاکستان اور بھارت کے مابین امن مذاکرات کے خفیہ دور میں سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اس وقت کوئی امن مذاکرات نہیں کر رہے ہیں اور متحدہ عرب امارات کسی بھی طرح کے سہولت کار کا کردار ادا نہیں کررہا۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق شاہ محمود قریشی پاکستان، ترکی اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیےدو روزہ سرکاری دورے پر جمعہ کو استنبول پہنچے تھے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہوں نے ثالثی کے کردار کے بارے میں کہانیاں دیکھی ہیں لیکن ایسا ہو نہیں رہا۔ متحدہ عرب امارات ایک دوست ملک ہے اور اس کے پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، تمام دوست ممالک مستقل یہ کہتے رہے ہیں کہ ایٹمی طاقت کے حامل دونوں ملکوں کو جنگ کی راہ نہیں اپنانی چاہیے اور مسائل کے حل کے لیے آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ مذاکرات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا لیکن بھارت پیچھے ہٹا ہے اور اس نے اس طرح کے کئی اقدامات اٹھائے جس سے ماحول خراب ہوا۔ آپ پاکستان کے بیانات کو دیکھیں، وزیر اعظم عمران خان کے انتخابات میں کامیابی کے بعد دیے گئے بیان کو دیکھیں: 'آپ امن کی طرف ایک قدم اٹھائیں گے، تو ہم دو اٹھائیں گے'۔
انہوں نے کہا کہ اگر بھارت پاکستان کو یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ وہ بات کرنے پر راضی ہے تو پھر اسے سازگار ماحول بنانا ہو گا جسے اس نے 5 اگست 2019 کو اٹھائے گئے اقدامات سے سبوتاژ کردیا۔ کشمیریوں سے ان کی ریاست کا حق چھین لیا گیا، انہیں اجنبی قرار دے کر حقوق سے محروم کردیا گیا اور وہ اب بھی 'ڈبل لاک ڈاؤن میں ہیں، ہم صرف کووڈ لاک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ کشمیریوں کو کووڈ لاک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ فوجی محاصرے کا بھی سامنا ہے۔