مولانا وحید الدین خان: علم و دعوت کا پیکر بھی روانہ ہوا
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 24 / اپریل / 2021
- 9770
’میں جو کام کر رہا ہوں، اس کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ میں مسلمانوں کو یہ سبق دے رہا ہوں کہ یہ منفی سوچ سے اوپر اٹھیں اور مثبت سوچ کا طریقہ اختیار کریں‘:مولانا وحید الدین خان۔اس کام میں انہوں نے بلا شبہ ایک عالم کو متاثر کیا۔
ان کی تحریریں ہندوستان اور دنیا بھر میں پڑھی جاتی رہیں۔ وہ بنیادی طور پر امن پسند ی اور مذہبی رواداری کے علمبردار تھے۔ وہ نہ صرف بھارت کے ایک عظیم مسلم اسکالر تھے بلکہ ان کے علم و دعوت کے گرویدہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ مولانا وحید الدین خان گزشتہ ہفتے کرونا سے متاثر ہوئے اور رواں ہفتے نئی دہلی میں انتقال کر گئے۔ وہ 1925 میں مظفر گڑھ اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ بھرپور عملی زندگی گزار کر 96 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ دنیا بھر میں وہ اسلام کے منفرد، ا نتہائی بارسوخ عالم اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پرچارک کے طور پر جانے جاتے تھے۔2009 میں جارج ٹاؤن یونی ورسٹی نے انہیں دنیا بھر کے پانچ سو بااثر ترین مسلمانوں میں شمار کیا۔
انہوں نے عمر بھر اسلام کی تعلیم، تفہیم اور دعوت پر اپنی تمام توجہ مرکوز رکھی۔ ان کی پرتاثیر زبان اور سادہ اندازِ بیان نے ایک عالم کو متاثر کیا۔ دقیق مسائل پربھاری بھرکم علمی انداز اختیار کرنے کی بجائے انتہائی عام فہم اور سادہ انداز اختیار کرتے۔اسی طرح ان کا قلم بھی خوب رواں رہا۔ انہوں نے دو سو سے زائد کتابیں اور سینکڑوں مضامین تحریر کئے۔ دو جلدوں پر مشتمل قرآن مجید کی تفسیر بھی لکھی۔ ان کی مشہور کتابوں میں تعبیر کی غلطی، اسفار ہند اور بیرون ملک اسفار، اظہارِ دین سمیت بہت سی کتابیں اسلام کی تفہیم اور ان کی دعوت کا ایک مستقل حوالہ ہیں۔ اپنے پیغام کے مسلسل اور موثر ابلاغ کے لئے انہوں نے 1976 میں الرسالہ کے نام سے ایک ماہنامہ جاری کیا جو بعد ازاں انگریزی زبان میں بھی شائع ہوتا رہا۔
برِ صغیر میں وہ بلاشبہ عصرِ حاضر کے ایک عظیم اور بڑے عالم ِ دین تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے اسلام کی دعوت کو ایک تحریک اور جہدِ مسلسل کے طور پر اجاگر کیا۔ اسلام کی بنیادی فکر کو انہوں نے اپنے تئیں پوری شدومد سے سادہ انداز میں پیش کیا۔ تاہم وہ اسلام کی عمومی اور معروف سیاسی تعبیر سے قطعاٌ متفق نہ تھے، بلکہ ان کے خیال میں دین کی اصل حقیقت دعوت اور آخرت میں اللہ تعالی کے حضور پیش ہونے کی تیاری ہے۔ دورِ حاضر میں دعوت کے کام کی تکمیل کے لئے عقلی اور فکری بنیادوں پر انہوں نے دین کی دعوت کا ایک ضخیم لٹریچر پیش کیا۔ ان کے بقول دنیا کا ایک حصہ دار السلام اور دوسرا دار الدعوۃ ہے۔
ان کی دعوت کا مقصد مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا، اسلام کے متعلق غیر مسلموں میں غلط فہمیوں کو دور کرنا، مسلمانوں میں غیر مسلموں جنہیں وہ مدعو قوم کہتے کی ایذا اور تکلیف پر یک طرفہ صبر اور اعراض کے رویے کو عام کرنا تھا جو ان کی رائے میں دعوتِ دین کے لئے ضروری ہے۔ مولانا وحید الدین خان کے کئی خیالات اسلامی روایت کے جید علماء اور مسالک سے بالکل مختلف تھے مثلاٌ جہاد، دجال، امام مہدی کا نزول، ظلم کو برداشت کرنا اور جوابی کارروائی سے گریز کی تلقین، تقلید شخصی سے گریز اور اسلام کی سیاسی تعبیر سے انکار وغیرہ۔ اسی لئے بہت سے معروف اہل علم ان کے شدید مخالف اور نقاد رہے۔ اکثر اوقات ان پر اسی بناء پر شدید تنقید ہوئی اور کئی ایک مخالفین نے تو ان کے خیالات کو گمراہی سے تعبیر کیا۔ تاہم مولانا نے عمر بھر اپنی فکر کے مطابق دعوت کا عمل جاری رکھا اور ایک عالم کو متاثر کیا۔
ان کے سیاسی خیالات اور اسلام کی سیاسی تعبیر پر بھارت میں ان کے ناقدین کی کمی نہیں رہی۔ پاکستان میں بھی ان کی علمیت اور دعوت کے پیغام سے اتفاق کے باوجود ان کے سیاسی خیالات اور فکر سے ان کے قدردانوں کااختلاف ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ بھارت میں مسلمانوں کی حالت ِ زار، کشمیر اور فلسطین کے بارے میں ان کے خیالات پاکستان کی عمومی سیاسی اور فکری سوچ سے بالکل الٹ رہے ہیں۔ اسی لئے پاکستان میں ان کے بیشتر مداح ان کے ان خیالات سے برملا اختلاف اظہار کرتے رہے ہیں۔ تاہم اسلام کی دعوت اور بین المذاہب رواداری کے لئے ان کی کوششوں کا ایک زمانہ معترف رہا۔
قارئین کی دلچسپی کے لئے ان کے اسلوب اور فکر کی چند جھلکیاں ان کی ایک کتاب اسفارِ ہند سے پیش ہیں۔ اندرون ملک کے ان اسفار میں سے بیشتر بابری مسجد کے سانحے سے کچھ پہلے اور بعد کے زمانے کا احوال ہے۔
مدراس فروری 1993: انڈیا کے مسلمانوں میں سے جو لوگ مسائل تلاش کرنے میں الجھے رہتے ہیں، ان کے پاس شکایت اور احتجاج کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ مگر جو لوگ مسائل کو نظر انداز کرکے مواقع تلاش کرتے ہیں، ان کو یہاں ایسے مواقع مل جاتے ہیں جن کو استعمال کرکے وہ بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کر لیں۔
پونہ نومبر 1996: دعوت کا کام صحیح طور پر اس وقت انجام دیا جا سکتا ہے جب داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات ہوں۔ اس لئے داعی گروہ پر جس طرح دعوت دینا لازم ہے، اسی طرح یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنے اور مدعو کے درمیان تعلق کو بگڑنے نہ دے۔ وہ یکطرفہ کوشش کے ذریعہ دونوں کے درمیان تعلق کو برقرار رکھے، کیونکہ اس کے بغیر دعوت کے عمل کی بجا آوری ممکن ہی نہیں۔
ناگپور نومبر 1992 : میری کوشش یہ رہتی ہے کہ نوجوانوں میں زندگی کا حوصلہ پیدا کروں۔ البتہ حوصلہ مندی کو حقیقت کے ساتھ وابستہ رہنا چاہئے۔ حوصلہ مندی اگر حقیقت پسندی سے جڑی ہو تو وہ ترقی کی طرف لے جاتی ہے، حوصلہ مندی اگر حقیقت پسندی سے جدا ہو جائے تو وہ تباہی کے گڑھے میں گرا دیتی ہے۔
اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت کی توفیق عطا فرمائے اور مولانا کے درجات بلند فرمائے۔