یہ داغ داغ اُجالا

میں سڈنی شہر کے مرکزی اور کاروباری علاقے مارٹن پلیس کے زیرِ زمین اسٹیشن پر ٹرین سے اُترا۔ لفٹ کے ذریعے اُوپر آیا  جونہی اسٹیشن کی عمارت سے باہر نکلا ایک انوکھا منظر میرا منتظر تھا۔

مارٹن پلیس سڈنی شہر کے مرکز میں قدیم اور جدید عمارتوں کے درمیان گھرا ایک کھلا، سجا دھجااور حسین علاقہ ہے۔ سرخ اینٹوں سے مزین اس پختہ اور ڈھلوان میدان میں پھولوں سے سجے اسٹال، چوبی بنچ، نیوز اسٹینڈ اور سیاحوں کا جھمگھٹا لگارہتا ہے۔علاوہ ازیں دفتروں میں کام کرنے والے مرد و خواتین کافی کے کپ سنبھالے تیزی سے چلتے نظر آتے ہیں۔اسی مارٹن پلیس کے ایک حصے میں میرا دفتر تھا لہذا ہر روز اس اسٹیشن پر اتر کر ان سہانے مناظر سے لطف اندوز ہوتا ہوا، ڈھلوان  فرش پر چلتا چند منٹوں میں اپنی منزل پر پہنچ جاتا۔مگر اس دن منظر مختلف تھا۔ بلند بالا عمارتوں سے گھرے اس دلکش علاقے میں حدّ نظر تک لوگ ہی لوگ نظر آرہے تھے۔ایک جم غفیر تھا۔ ان میں عورتوں اور مردوں کا تناسب تقریباً مساوی تھا۔زیادہ تر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں تھے۔ ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈ، پملفٹ، بینر اور جھنڈے تھے۔

چند ایک نے مائیکروفون تھامے ہوئے تھے اور نعرے لگا رہے تھے۔ یہ احتجاجی مظاہرہ آسٹریلیا کے آبائی افراد جنہیں ایب اوریجنل کہا جاتا ہے سے ماضی میں کی گئی زیادتیوں کے خلاف تھا۔ انگریزوں نے ڈیڑھ دو سو برس قبل جب آسٹریلیا پر قبضہ کیا تھا تو انہوں نے مقامی لوگوں کی نسل کشی کرتے ہوئے بے شمار لوگوں کو تہہ تیغ کیا تھا۔ اس قتل عام کے اثرات ان لوگوں پر اب تک واضح ہیں اور وہ وہ اب تک سنبھل کر عام شہری نہیں بن سکے بلکہ مختلف قسم کے سماجی، ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی عورض میں مبتلا ہیں۔اب حکومت ان افراد کی بحالی کے مشن پر کاربند ہے۔ آسٹریلیا کی نسلِ نو اپنے آباؤاجداد کے اس بہیمانہ فعل پر شرمندہ ہے۔ چند برس قبل انہوں نے بحیثیت قوم اس بدنصیب نسل سے اپنے آباؤاجداد کی زیادتیوں پر باقاعدہ معافی بھی مانگی ہے۔

 متذکرہ مظاہرہ اسی معافی کے مطالبے کے لیے ہو رہاتھا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ سفید فام نسل کے خلاف اس مظاہرے میں اکثریت اسی سفید فام نسل کے افراد پر مشتمل تھی۔وہ اپنے ہی بزرگوں کے عمل کے خلاف نعرہ زن تھے اور اپنی ہی حکومت سے ماضی کی زیادتیوں کی تلافی چاہتے تھے۔ ان مظاہرین میں اصل ایب اوریجنل آٹے میں نمک کے برابر تھے۔ لیکن ان کی نمائندگی بھرپور طریقے سے ہو رہی تھے۔ یہ عوامی مطالبہ بالآخر کامیابی سے ہم کنار ہوا اور حکومتِ آسٹریلیا نے باقاعدہ معافی مانگی۔ یہ مشکل فیصلہ تھا لیکن آگے بڑھنے کے لیے  قومیں ماضی سے سبق سیکھتی ہیں۔

متذکرہ مظاہرے کی خاص بات یہ تھی(بلکہ آسٹریلیا میں ہونے والے مظاہروں کا خاصا ہے) کہ یہ انتہائی پرامن تھا۔ مظاہرین انتہائی خوش اخلاقی سے راہگیروں کو راستہ دے رہے تھے۔ چاروں اطراف میں سڑکوں پر ٹریفک معمول کے مطابق چل رہی تھی۔ پھولوں کے گملے، لکڑی کے بنچ اور دریوار اسی طرح سلامت تھے۔ حتی کہ فرش پر کوئی کچرا بھی نہیں پھینکا گیا۔ میں ان مظاہرین کے درمیان سے گزر کر جا رہا تھا۔ وہ مسکراتے ہوئے راستہ دیتے، کئی گڈ مارننگ بولتے، فلائر دیتے اور دن اچھا گزرنے کے دُعا دیتے۔ان مظاہرین نے انتظامیہ سے باقاعدہ اجازت لی ہوتی ہے جو جمہوری ملک ہونے کی وجہ سے بآسانی مل جاتی ہے۔اس اجازت نامے میں جگہ، وقت اور دیگر امور طے ہوتے ہیں۔

 مظاہرین کو اس دائرے تک محدود رکھنا منتظمینِ مظاہرین کا فریضہ ہوتا ہے۔ کسی ممکنہ نقصان کے ذمہ دار بھی وہی ہوتے ہیں۔ اگر اس تنظیم کو جرمانے اور پابندیوں سے بچنا ہے تووہ ہر ممکن قانون پر عمل کرتے ہیں حتٰی کہ مظاہرے کے بعد  صٖفائی بھی وہی کرتے ہیں۔ مظاہرین کے لیے سب سے مقبول اس علاقے میں برسوں کام کرنے وجہ سے میں ایسے مظاہرے دیکھنے کا عادی تھا۔ بلکہ فارغ اوقات میں کافی کا کپ لے کر باہر کھلی جگہ استادہ بنچ پر بیٹھ کے ایسے مظاہرے دیکھتا تھا۔ ان مظاہرین کی وجہ سے میں نے کبھی کسی راہ گیر یا پڑوسیوں کو کسی مشکل میں نہیں دیکھا۔ نہ کوئی گاڑی رکتے دیکھی۔ بلکہ ان مظاہرین کی وجہ سے ہمارے کاروبار پر مثبت اثرات ہوتے تھے۔جتنا بڑا مظاہرہ ہو صرف چند پولیس والے ایک کنارے پر کھڑے رہتے۔ مظاہرین کو ان سے اور انہیں مظاہرین سے کوئی شکایت نہیں ہوتی۔کیونکہ ہر شخص اپنے دائرہ اختیار میں رہتا ہے۔

دوسری جانب حکومت ان مظاہرین کے مطالبات کو انتہائی سنجیدگی سے سنتی ہے اس پر غور کرتی ہے اور حتی الامکان انہیں پورا کرتی ہے۔کیونکہ وہ عوام کے نمائندے ہوتے ہیں،انہی کی ووٹوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں ان کی مرضی اور منشا کے مطابق حکومتی امور انجام دیتے ہیں۔اگر وہ ایسا نہ کر سکیں تو عوام میں دوبارہ جانے کے قابل نہیں رہتے۔ ویسے بھی وہ چوبیس گھنٹے عوام کے لیے دستیاب رہتے ہیں۔

 حکومت، پارلیمنٹ، وزیر، سفیر، بیوروکریسی، سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ بدلتی رہتی ہے مگر عوای فلاح بہبود کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔

آسٹریلین جمہوری کلچر اور ان کے مظاہروں کی یہ جھلک دکھانے کا مقصد اپنے پاکستانی قارئین کو آگاہ کرنا ہے کہ قانون پر یقین رکھنے والے معاشروں میں احتجاج کیسے کیا جاتا ہے۔حال ہی میں وطنِ عزیز میں جو احتجاجی مظاہرے ہوئے وہ ہم سب کے سامنے ہیں۔ان پر تشدد مظاہروں کو دنیا بھر کے میڈیا نے کوریج دی ہے۔ انہیں دیکھ کرجب غیر ملکی ہم سے پوچھتے ہیں کہ یہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے تو ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔آخر یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں حکومت اور عوام ایک دوسرے کے خلاف ایسے نبر د آزما ہیں جیسے دو دشمن ملک برسرِ پیکار ہوں۔ جہاں سر پھاڑے جاتے ہیں۔ جہاں پولیس والوں پر تشدد کر کے ہلاک کر دیاجاتاہے۔ جہاں معصوم عوام کا ناطقہ بند کر دیا جاتا ہے۔ جہاں مزدور، طالب علم، مریض، خوانچہ فروش، دیہاڑی دار، رکشہ ڈرائیور اور خواتین کا راستہ مسدود کرکے ان کا جینا محال کر دیا جاتا ہے۔ جہاں ایمبولینس جس میں جاں بلب مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوتا ہے اسے اسپتال جانے سے روک دیا جاتا ہے۔ جہاں لوگوں کو گھروں میں محصور کر دیا جاتا ہے۔ جہاں قانون اور اس کے نفاذ کرنے والے بے بس نظر آتے ہیں۔ جہاں عوام مٹھی بھر مظاہرین کے آگے لاچار اور حکومت معذور نظر آتی ہے۔

 یہ کیسے مظاہرے اور احتجاج ہے۔ یہ کیسے لوگ ہیں جنہیں لاشیں گراکر، مریضوں کو محبوس کرکے او رعوام کو مجبور کر کے خوشی ہوتی ہے۔ یہ نہ جمہوریت ہے، نہ انسانیت ہے اور نہ مذہب اور اخلاق اس کی اجازت دیتا ہے۔

 دوسری جانب حکومت اور عوام کے درمیان جو بُعد ہے وہ حقیقی جمہوریت میں کبھی نہیں ہوتا۔ جمہوری حکومتیں عوام کی مرضی و منشا کی پابند اور ان کی نبض شنا س ہوتی ہیں۔ وہ کوئی کام عوامی امنگوں کے خلاف نہیں کرتیں۔ مگر ہمارے ملک میں حکومت ہر وہ کام کرتی ہے جو عوامی

 اُمنگوں اور خواہشات کے خلاف ہوتا ہے۔اس لیے نہ تو یہ جمہوریت ہے، نہ عوامی راج ہے اور نہ قانون کی عمل داری ہے بلکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاشرہ ہے۔یہاں عوام ستم زدہ ہیں اور قانون محض تماشائی ہے۔نہ جانے یہ تماشا کب تک جاری رہے گا۔