عمران خان مہنگائی کے ذمہ دار ہیں، مستعفی ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
- اتوار 25 / اپریل / 2021
- 5470
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان کو ملک میں ہوشربا مہنگائی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
بلاول بھٹو نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان مہنگائی پر قابو نہ پانے کی ذمہ داری لیں اور استعفی دے کر گھر چلے جائیں۔ وزیراعظم کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم صاحب، ملک میں مہنگائی بلند ترین سطح کو چھورہی ہے، کیا اب ہم تھوڑا سا گھبرالیں۔ ادویات کی قیمتوں میں 100فیصد سے زائد اضافہ عام آدمی سے زندگی کا حق چھیننے کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل اسٹورز سے پیسے کم ہونے کی وجہ سے دوا خریدے بغیر واپس جانے والے غریب کی آواز بننا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہے۔ وزیراعظم ہاؤس کے ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر عمران خان کو ان والدین کی تکلیف کا کوئی احساس نہیں جو بچوں کے اسکول کی فیس تک ادا نہیں کرپا رہے۔ مہنگائی کے خاتمے کے دعوے کرنے والے عمران خان کرائے کے گھر میں رہنے والے ایک عام آدمی کا مہینے کا بجٹ بنا کر دکھا دیں۔
وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے وزیراعظم ہوتے ہوئے کوئی ایک عید ایسی نہیں گزرے گی جس میں مہنگائی کی وجہ سے نئے کپڑے بنانا بھی ایک گھرانے کے لیے آسان ہو۔ عمران خان نے کرپشن کے خلاف مہم کا جھانسہ دے کر عوام کو چینی کے حصول کے لیے لمبی قطار میں کھڑا کردیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے حکمران عوام کا فائدہ سوچتے ہیں جبکہ عمران خان چندہ لینے کی نئی ترکیبوں پر غور کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے سوال کیا کہ اگر تین سال تبدیلی کے لیےکم ہیں تو 8 برسوں میں خیبرپختونخوا میں سرکاری ہسپتالوں کے مہنگے علاج کے علاوہ اور کیا تبدیلی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم صاحب، لنگر خانے کھولنے سے غربت ختم نہیں ہوگی، آپ کو کچھ کرکے دکھانا ہوگا۔ عمران خان نے آٹے کے 20 کلو کے تھیلے پر 68 روپے زیادہ دینے والے عام آدمی کو روٹی کے نوالے تک سے محروم کرنے کی کوشش کی ہے۔ آئی ایم ایف کے حکم پر ٹیکسوں کا بوجھ لادنے والے سلیکٹڈ وزیراعظم کے جرائم کو عوام کبھی معاف نہیں کریں گے۔
پی پی پی کے چیئرمین نے کہا کہ جب حکمران خود چور ہوتا ہے تو ملک میں مافیا بے لگام ہوکر زیادہ منافعے کے حصول کے لیے ہر چیز مہنگی کردیتا ہے۔ عمران خان کی تبدیلی یہ ہے کہ اپنے سرمایہ دار دوستوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دے کر عام آدمی کو مہنگائی کے شکنجے میں کس دیا جائے۔