کرونا کا عذاب اور صبر و صلوٰۃ

کتاب اللہ میں لکھا ہے:  خُشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ خُدا اُن کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے  عجب نہیں کہ وہ باز آئیں۔ الروم۔ ۱۴

وہ بعض اعمال کیا ہیں  جو خُشکی اور تری میں فساد کا سبب بن  رہے ہیں یا بنتے ہیں۔ تو اس سلسلہ میں کتاب اللہ میں واضح اشارات موجود ہیں: سورہ  بنی اسرائیل میں بتایا گیا ہے:

اور جب ہمارا ارادہ کسی بستی  کو ہلاک کرنے کا ہو تو  تو وہاں کے آسودہ لوگوں  کو مامور کردیتے ہیں  تو وہ نافرمانیاں کرتے ہیں  تو ہمارا حُکم ثابت ہوگیا اور ہم نے اُسے ہلاک کر ڈالا۔  اور ہم نے نوح کے بعد بہت سی اُمتوں کو ہلاک کر ڈالا  اور تمہارا رب اپنے بندوں کے گناہوں کو دیکھتا اور خوب جانتا ہے ۔ بنی اسرئیل۔  ۶۱، ۷۱۔

اور یہ اشارات اس لیے یاد آئے کہ پاکستان اور بھارت میں کرونا کے ہاتھوں  تقسیم ہوتی موت کے مناظر  بے حد اندوہناک ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ  اس زمین کے لوگ اپنے  اعمال کے سبب آزمائش میں مبتلا ہیں۔ یہ ایسا وقت ہے جب  ذی شعور لوگوں کو اپنے باہمی اختلافات بھلا کر  اپنی، اپنے عزیز و اقارب کی، اور اپنے معاشرے کی اور اپنے ملک اور قوم  کی فکر کرنا اور اپنے ہم مسلک، ہم ہذہب اور ہم نظریہ لوگوں  کی صحت و تندرستی کی بات کرنا چاہیے۔  ووٹ کی عزت  کا تصور دینے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر انتخابی حلقے کا صوبائی اور قومی اسمبلی کا نمائندہ اپنے حلقے کے لوگوں کا کفیل اور اُن کی ضرورتِ زندگی کا ضامن ہوتا ہے۔ ہر انتخابی حلقہ ایک خاندان کی طرح ہوتا ہے جس میں رہنے والے آئینی رشتے میں منسلک ہوتے ہیں  اور یہ آئینی رشتہ دینی رشتہ ہوتا ہے جہاں اخوت  کا رشتہ قانون کی طرح نافذ ہوتا ہے اور اخوت کے باب میں نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو اپنے لیے پسند کرتے ہو وہ اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرو۔ چنانچہ ایک انتخابی حلقے کا منتخب شخص  اپنے حلقے کے بہن بھائیوں کے درمیان اخوت اور بھائی چارے کا نگران اور  مہتمم ہوتا ہے۔ لیکن دنیا دیکھ رہی ہے کہ اس قوم کو جو عاشق، رسول ﷺ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، نبی ﷺ کے راستے پر نہیں چلتی اور یہاں لوگ ایک دوسرے کے بھائی نہیں دشمن ہیں۔  ایسے وقت میں جب کہ لوگ کرونا کے عذاب سے گزر رہے ہیں اور ذہنی دباؤ میں ہیں،  ملک کے ذمہ دار لوگوں کو  چاہیے کہ وہ اپنی زبانوں پو قابو رکھیں اور اپنی بدزبانیوں سے عام آدمی کو عذاب نہ دیں کیوں کہ یہ خُدا کا حکم ہے  کہ اپنی زبانوں کو کنٹرول میں رکھو۔ سورہ ء بنی اسرائیل میں رقم ہے:

اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ  لوگوں سے ایسی باتیں کیا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں  کیونکہ شیطان اُن میں فساد ڈلوا دیتا ہے ، کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔  بنی اسرائیل۔  ۴۵

لیکن جب بھی پاکستان کا کوئی ٹی وی چینل  کھولو تو یوں لگتا ہے جیسے سانپ اور بچھو کانوں اور آنکھوں کو ڈس رہے ہیں۔  اسلام آباد کے مکے سے خیر کی کوئی خبر نہیں آتی۔  تاجر حضرات مہنگائی کے  اژدہے لے کر خریداروں کو ڈستے ہیں اور مہنگائی کا سارا الزام  حزبِ اختلاف کے لوگ حکومتِ وقت پر ڈال کر  یہ بھول جاتے ہیں کہ حزبِ مخالف کے سیاسی گھرانے  چینی کے بیسیوں  کارخانوں کے مالک ہیں۔  اگر وہ ووٹ کے ساتھ ووٹر کی بھی عزت کرتے ہیں تو اُنہیں مہنگائی کو کم کرنے میں  تعاون کرنا چاہیے ۔ ملک کی  غربت کے پیشِ نظر اُنہیں  اپنی جیب سے   کرونا ویکسین خرید کر اپنے لوگوں کو لگوانی چاہیے اور  اپنے مسلمان بھائی بہنوں سے محبت کا عملی ثبوت دینا چاہیے۔  لیکن  نہ تو وہ لوگ اپنے خُدا کا حکم مان کر  لوگوں سے خوش اخلاقی سے  پیش آتے ہیں اور نہ ایک دوسرے کے بارے میں  کلمہ  خیر کہتے ہیں۔

تاہم اسی معاشرے میں ایسے دردمند لوگ بھی موجود ہیں جو بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں جس میں حکومت کی کارکردگی  برائے نام ہے۔  ایسی صورتِ حال میں اپنے اپنے ہسپتالوں کے لیے چندہ جمع کرنے والوں کو زکات اور صدقات کی رقم ویکیسن فنڈ میں دے دینی ط چاہیے تاکہ لوگوں کو موت سے بچایا جا سکے۔  لیکن ابھی تک ویکسین  فنڈ  نام  کا کوئی سراغ نہیں  جس میں چندہ جمع کرنے کے ماہر عام لوگوں کی فلاح کے لیے ویکسین کی خریداری  کے لیے  ہنگامی بنیادوں پر  منصوبہ بندی کریں اور بائیس کروڑ لوگوں کی ضرورت  کے مطابق ویکسین  کی فوری درامد کو یقینی بنائیں۔

 اس کارِ خیر کو نظر انداز کرکے  کرسی اور  کرپشن کی لڑائی پوری شدت سے لڑی جا رہی ہے۔  پاکستانی سیاست کے تناظر میں کرسی اور کرپشن ہم معنی الفاظ ہیں، مترادفات ہیں۔  اور کرسی کے ذریعے حقِ کرپشن  کا تحفظ پیشِ نظر ہے۔  سیاست دانوں کے پاس  اپنے اپنے لیڈروں کی قصیدہ گوئی کا ہنر ہے   اور ہر سیاست دان اپنی پارٹی کی ڈفلی پر یہ  قصیدہ راگ دن بھر گاتا ہے  اور کوئی یہ نہیں سوچتا کہ جتنی رقم وہ اپنے لیڈروں کے استقبال کی گل پاشی پر خرچ کرتے ہیں اُس سے کئی غریبوں اور محتاجوں کی مدد کی جا سکتی ہے جو پارٹی کے حق میں بہتر  پراپیگنڈا  مواد مہیا کر سکتی ہے۔  لیکن عام آدمی کی بہبود پاکستانی جمہوریت کا ایجنڈا ہے ہی نہیں۔ یہاں خاندانی جمہورتیں ہیں جو اپنے اپنے اثاثوں کو ضرب  دے  کر مسلسل بڑھاتی چلی جاتی ہیں اور پھر یہ اثاثے  اُن کا تحفظ ملکی  جمہوریت کا بنیادی  نظریہ بن  جاتے ہیں۔

 اور یہ پاکستان پر ہی موقوف نہیں بلکہ  چند ایک کو چھوڑ کر  سا رے مسلمان ممالک اسی راستے پر چل رہے ہیں۔  اور یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے ہمیں بطور عوام مایوس نہیں ہونا چاہیے  اور یاد رکھنا چاہیے کہ خُدا تعالیٰ جب کسی پر کوئی  آزمائش یا  عذاب آتا ہے  تو اس میں مصیبت زدوں کے لیے  بھلائی اور فلاح کا پہلو ہوتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ:

خُدا شرے بر انگیزد کی خیرِ ما در اں باشد

طبیبِ کائنات کی طرف سے کڑوی گولیاں اور تلخ  ادویات  اس لیے دی جاتی ہیں تاکہ مخلوق کو صحت عطا ہو۔  اور یہ مصائب، مشکلات اور تکالیف  بندوں کی بہتری اور اصلاح کے لیے بھیجی جاتی ہیں۔  اس لیے انسان پر جب کوئی مصیبت نازل ہو تو وہ گھبرائے نہیں  اور بے صبری اور نا شکری کے کلمات زبان پر نہ لائے  بلکہ یاد کرے  کہ اللہ نے اُس پر  کیا کیا مہربانیاں کی ہیں۔  اور اب ہماری اصلاح کے لیے  کوئی کڑوی گولی بھیج دی ہے تو اس میں بھی ہماری بہتری  پوشیدہ ہے۔  اگر خُدا تعالیٰ کی راہ میں  تکلیفیں آتی ہیں  تو یہ جہنم کی  تکلیف  کی مثال ہوتی ہیں۔  ان تکلیفوں کی آگ میں رب کی رحمت کا خیال  اُسے معاً جنت میں لے جاتا ہے۔ احادیث میں مرقوم ہے کہ  مومن اسی دنیا میں جہنم کی آگ میں سے پنا حصہ پالیتا ہے۔  ایک حدیث میں روایت کیا گیا ہے کہ  آگ کا ایک حصہ ہر بشر کے لیے مقدر کردیا گیا ہے۔ چاہے تو وہ اس  آگ کے اپنے حصے کو اپنے لیے اسی دنیا میں قبول کر لے یا  پھر اپنی عمر غفلت میں گزار کا آخرت میں دوزخ میں ڈالا جائے۔

 اس وقت دوزخ کی آگ زمین پر اتری ہوئی اور بھارت میں شمشان گھاٹ کی آگ اس کی واضح نشانی ہے۔  ایسے میں ہمیں سب انسانی برادری کے لیے  خیر و برکت کی دعا کرنی چاہیے اور بلا ٹخصیصِ  رنگ و نسل و مذہب و ملت سب  کے دکھوں میں شریک ہونا چاہیے۔ شمشان گھاٹ میں جلتی ہوئی لاش بھی اُسی خالق کی تخلیق ہے جس نے  قبر میں مدفون  اجسام بنائے ہیں۔ ہم سب ایک ہی خُدا کی مخلوق ہیں اور ایک ہی انسانی رشتے میں بندھے ہیں  اور یہی انسانی رشتہ ہماری پہچان ہے۔  کرونا کا دکھ سب کا سانجھا ہے اور ہمیں اسے علم اور ہوش و حواس سے کاٹنا ہے۔  تلسی داس کہہ گئے ہیں کہ دکھ تو سب کو ہوتا ہے مگر صاحبِ علم اس دکھ کو اپنے علم سے کاٹتا ہے اور بیوقف رو دھو کر کاٹتا ہے ۔  نانک دکھیا سب سنسار  اور کرونا کا  دُکھ عالمی دکھ ہے۔ دنیا کے سارے بر اعظم کرونا کی آگ میں جل رہے ہیں  اور ہمیں بطور مسلمان یہ حکم ہے کہ ہم دکھ کو صبر اور صلوٰۃ سے کاٹیں۔

ہر بلا کیں قوم را حق دادہ است ۔۔ زیرِ آن گنجِ کرم بنہادہ است