مذہب کے نام پر سیاست تباہی کا راستہ ہے
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 25 / اپریل / 2021
- 18230
خبر ہے کہ جمعہ کے روز حکمران جماعت کے بعض ارکان نے ’کالعدم تحریک لبیک‘ کے مطالبوں والے پلے کارڈ اٹھا کر قومی اسمبلی میں اسپیکر کی کرسی کے سامنے اپوزیشن کے ساتھ مل کر احتجاج کیا۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ایک ایم این اے نے جو پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا، اس میں فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ درج تھا۔ اجلاس کی صدارت کرنے والے ڈپٹی اسپیکر نے مجبوراً ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کردی۔
بدقسمتی سے ایوان کی کارروائی ملتوی کرنے سے اس آگ کو بجھایا نہیں جاسکے گا جو مذہبی شعائر پر عمل درآمد کے نام پر ملک میں بھڑکائی جاچکی ہے۔ اس وقت بھی سب عناصر حسب توفیق اس آگ کو ہوا دے کر یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اس سے ان کے آنگن میں تو روشنی ہوجائے گی، ہمسائے کا گھر راکھ ہوتا ہے تو انہیں اس سے کیا۔ اسی مزاج کی وجہ سے اجلاس ملتوی ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال میڈیا کے سامنے اس بات پر احتجاج کرتے دکھائی دیے کہ وہ تو ’ختم نبوت کی قرار داد‘ پر بحث کرنا چاہتے تھے لیکن حکومت اس معاملے پر بات کرنے سے بھاگ رہی ہے۔ حیرت ہے کہ ایک متفق علیہ معاملہ پر اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی قومی اسمبلی میں کیا بحث کرنا چاہتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس معاملہ کو لے کر وہ حکومت کو خود سے کم ’مذہب پرست‘ ثابت کرنے کی کوشش کرے گی۔ اسی معاملہ پر مسلم لیگی لیڈر شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ اجلاس میں اسپیکر کے بارے میں ایسے غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کئے تھے کہ ان کا شفاف سیاسی امیج دھندلا کر رہ گیا تھا۔
اجلاس میں ہنگامہ آرائی کا آغاز سوال جواب کے سیشن سے پہلے اپوزیشن ارکان کو بات کرنے کا موقع نہ دینے سے ہؤا۔ پیپلز پارٹی کے لیڈر راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ وہ کالعدم تحریک لبیک کے ساتھ حکومت کے معاہدہ کے بارے میں بات کرنا چاہتے تھے لیکن ڈپٹی اسپیکر کا کہنا تھا کہ سوال جواب کا سیشن ہوجائے پھر بات کرلی جائے۔ اس سے قبل پیپلزپارٹی قومی اسمبلی کے اس اجلاس کا بائیکاٹ کرچکی تھی جس میں اکثریت رائے سے قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کے معاملہ پر غور کی قرار دادمنظور کی گئی تھی ۔ اسی قرار داد کے مطابق یہ معاملہ اس وقت اسپیکر کے حوالے کیا گیا ہے تاکہ وہ پارلیمانی کمیٹی قائم کریں جو اس معاملہ پر غور کرکے اسے ایوان میں بحث کے لئے لے کر آئے۔
پیپلز پارٹی نے یہ قرار داد منظور ہونے کے دوران اسمبلی کی کارروائی کا حصہ نہ بن کر بظاہر سیاسی طور سے خود کو ایک ناپسندیدہ بحث سے دور رکھا تھا۔ بعد میں بلاول بھٹو زرداری نے ایک ٹوئٹ میں وزیر اعظم عمران خان سے کہا بھی تھا کہ ’یہ گند آپ نے ہی ڈالا ہے ، اسے آپ ہی کو صاف کرنا ہوگا‘۔ لیکن لگتا ہے کہ ’گندگی صاف کرنے‘ کے اس کھیل میں پیپلز پارٹی بھی اب اپنا حصہ لینا چاہتی ہے۔ حالانکہ تمام سیاسی جماعتوں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ تحریک لبیک کے مطالبہ اور فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کے معاملہ پر بحث کو جتنا طول دیا جائے گا ملک میں سیاسی ہیجان میں اسی قدر اضافہ ہوگا۔ کوئی بھی سیاسی جماعت مذہبی جذبات کی بنیاد پر پیدا کئے گئے بحران میں سرخرو نہیں ہوسکتی۔ عوام کو ابھی تک مذہبی جذبات اور سفارتی حساسیات کو علیحدہ کرکے دیکھنے کی تربیت نہیں دی گئی ۔ ان جذبات کو تسلیم کرکے اگر بیرونی دنیا سے تعلقات استوار کرنے کی روایت راسخ کی گئی تو قومی اسمبلی میں آج فرانسیسی سفیر کی جلاوطنی کے لئے ایک رکن قومی اسمبلی نے پلے کارڈ اٹھایا ہے تو آنے والے دنوں میں متعدد دوسرے ملکوں کے سفیروں کو نکالنے کا مطالبہ سامنے آئے گا۔ اسی کھینچا تانی میں بہت جلد وہ نوبت آسکتی ہے کہ دنیا کا ہر ملک اسلام آباد میں سفیر بھیجنے سے گریزاں ہو اور پاکستانی سفارت کار آدھی دنیا سے کٹ کر رہ جائیں۔
یہ کوئی تصوراتی بات نہیں ہے۔ حکومت اور اپوزیشن مل کر حالات کو جس طرف دھکیل رہے ہیں اور نہایت حساس موضوع پر پیدا ہونے والے ایک سنگین بحران کو حکومت نے جس طرح ایک غیر ذمہ دارانہ قرار داد کے ذریعے ’حل‘ کرنے کی کوشش کی ہے، اس کا منطقی نتیجہ یہی ہوگا کہ ہم اپنے ملک میں تو لوگوں کو رائے دینے اور بات کرنے کا موقع نہیں دیتے لیکن دوسرے ملکوں کے عوام اور میڈیا کا یہ حق بھی مسدود کرنے کی کوشش میں دنیا سے قطع تعلق کے راستے پر چل پڑیں گے۔ کیا پاکستان ایسی تنہائی میں زندہ رہنے کا تصور کرسکتا ہے؟ یا کیا دنیا ہماری اس ’بچگانہ خواہش‘ کو اتنی ہی سہولت سے قبول کرلے گی، جس آسانی سے ہم اپنا گھر خاکستر کرنے کا اہتمام کررہے ہیں؟ اس کا امکان نہیں ہے۔ آزادی رائے اور مذہبی تقدیس کا معاملہ ایک سنگین اور سنجیدہ معاملہ ہے جسے عالمی فورمز پر صرف اسی صورت میں پذیرائی حاصل ہوسکتی ہے اگر اسے مستقل مزاجی سے دلائل کے ذریعے تسلیم کروانے کی کوشش کی جائے۔
وزیر اعظم عمران خان یہ کریڈٹ لینے کے ازحد شوقین ہیں کہ وہ مغرب کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں لیکن ان کے انداز گفتگو سے ہرگز یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ مغرب میں جمہوری جد و جہد اور اس سے آزادی رائے کے تعلق کے بارے میں کوئی علم رکھتے ہیں۔ انہیں تو یہ خبر بھی نہیں ہے کہ اسلام کے بارے میں جتنا تحقیقی کام مغربی یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے ، وہ مسلمان ملکوں میں بھی نہیں ہورہا۔ عقیدے کی بنیاد پر دہشت گردی اور تشدد عام ہونے کے بعد سے مغرب میں خاص طور سے اسلام کے بارے میں جاننے اور تحقیق کا سلسلہ شروع ہؤا ہے۔ اہل مغرب اسلامی تعلیمات، مسلمانوں کے تضادات اور رسول پاک ﷺ سے ان کی محبت کی شدت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ لیکن عمران خان صرف یہ کہہ کر اہل پاکستان کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں کہ ’وہاں توہین کے واقعات اس لئے ہوتے ہیں کیوں کہ ہم یورپ کے لوگوں کو یہودیوں کی طرح یہ بتانے میں کامیاب نہیں ہوئے کہ مسلمانوں کو رسول پاکﷺ کی توہین پر کس قدر تکلیف ہوتی ہے‘۔ وہ اب بھی یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ یورپی ملکوں میں ہولوکوسٹ کے خلاف بات کرنا اس لئے قابل قبول نہیں ہے کیوں کہ یہودیوں نے اہل یورپ کو باور کروایا ہے کہ اس سے انہیں تکلیف ہوتی ہے۔ عمران خان یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ یہ لفظ ایک یورپی ملک میں ساٹھ لاکھ یہودیوں کی نسل کشی کے سانحہ کو بیان کرتا ہے۔ اسے یورپی نفسیات میں تشدد اور قتل و غارت گری کے خلاف علامت کی حیثیت حاصل ہے۔ اسی لئے اس واقعہ کی حقیقت سے انکار کو قبول نہیں کیا جاتا۔
مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے انہیں عمران خان جیسے کوتاہ نظر لیڈر ہی میسر آئے ہیں۔ توہین مذہب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مسلمانوں کی حساسیات کا خیال رکھنے کی بحث گزشتہ کئی دہائیوں سے ہو رہی ہے۔ یورپی دانشوروں کا ایک بہت بڑا طبقہ اس بارے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا بھی ہے اور اس کی تلقین بھی کی جاتی ہے۔ عمران خان کے سیاست میں وارد ہونے سے بھی پہلے سے یونیسکو اور اقوام متحدہ کے دیگر پلیٹ فارمز پر آزادی رائے اور مذہبی حساسیات کا معاملہ زیر غور رہا ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ گزشتہ بیس سال کے دوران مسلمان گروہوں نے یورپ اور امریکہ کو مذہب کا نعرہ لگا کر نشانہ بنانے کی کوشش کی ۔ دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً تمام مغربی ممالک میں لوگوں کو ہلاک کیا گیا۔ اب بھی ایسے گروہ موجود ہیں جو عقیدہ کی بنیاد پر لوگوں کو قتل کرنا جائز قرار دیتے ہیں۔ پاکستان میں ہی ’توہین کی سزا۔ سر تن سے جدا‘ جیسے نعروں سے جو مزاج پیدا کیا گیا ہے، وہ عالمی سطح پر بقائے باہمی کے بنیادی اصول سے متصادم ہے۔
فرانس میں ایک استاد کے بہیمانہ قتل کے بعد شروع ہونے والی بحث کو اگر تشدد کے رجحان اور اسلام کے نام پر بندوق اٹھانے کے مزاج سے علیحدہ کرکے دیکھا جائے گا تو دنیا کا کوئی بھی ملک اسے مکالمہ نہیں دھونس اور دباؤ سمجھے گا۔ یورپ کے ساتھ توہین مذہب اور آزادی رائے میں توازن کے معاملہ پر مکالمہ کے لئے ضروری ہے کہ پہلے مسلمان ممالک اپنے ہاں پر امن بقائے باہمی کے اصول کو مروج کریں۔ یہ یقین دلایا جائے کہ یہ معاملہ اظہار رائے اور اس کی حدود سے متعلق ہے، اس کا تشدد اور زور ذبردستی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن تحریک لبیک کے زیر انتظام جس قسم کے مظاہرے پاکستان میں دیکھے گئے ہیں اور حکومت نے شدید دباؤ کے ماحول میں جس طرح تحریک لبیک کا ایک ناجائز، ناقابل قبول اور ناقابل عمل مطالبہ مانتے ہوئے ایک ناجائز قرار داد قومی اسمبلی میں منظور کروائی ہے، وہ کسی ایسے ملک کی تصویر پیش نہیں کرتی جہاں لوگ پیغمبر اسلام کے خلاف ہونے والی گستاخی پر مغموم ہیں اور دنیا کو اپنے جذبات سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں بلکہ یہ ایک ایسی قوم کی شبیہ بن چکی ہے جو دلیل کی بجائے مار دو یا مرجاؤ کی تصویر ہے۔ بدقسمتی سے اب ارکان قومی اسمبلی بھی اس تصویر کا حصہ بن کر سامنے آئے ہیں۔
اپوزیشن پارٹیوں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ اس معاملہ کو حکومت وقت کو کمزور کرنے کی خواہش و کوشش سے پورا ملک ایک نئے فساد کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ اس وقت تمام سیاسی عناصر کو عقل کے ناخن لینے اور حکومت کے ساتھ مل کر اس مسئلہ کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم اس کے لئے ضروری ہوگا کہ حکومت بھی مذہب کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کا طریقہ ترک کرے اور تحریک لبیک کو درست قرار دینے کی دوڑ میں اپوزیشن کو نیچا دکھانے کی کوشش نہ کی بجائے۔ حزب اختلاف کو ساتھ ملا کر اس معاملہ کا باوقار پارلیمانی حل تلاش کیا جائے تاکہ پاکستان انجانے خوف اور غیر یقینی کی کیفیت سے باہر نکل سکے۔
اس مسئلہ کا اصل اور حتمی حل وہی ہے جو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد کیس کے فیصلے میں تحریر کردیا ہے۔ بہتر ہوگا کہ حکومت درست سمت میں پہلے قدم کے طور پر اس فیصلہ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے خلاف نظر ثانی کی اپیل واپس لے، جسٹس فائز عیسیٰ کو سپریم کورٹ سے علیحدہ کروانے کی کھلم کھلا اور درپردہ کوششیں ختم کی جائیں ۔ اور اس فیصلہ پر عمل درآمد کے ذریعے ملک میں مذہبی منافرت کے جن کو بوتل میں بند کرنے کے کام کا آغاز کیاجائے۔