آپ کیا کہتے ہیں؟

آج کا بلاگ کئی ایک اخبارکے تراشوں سے اخذ کیا ہے۔ دو دن قبل یہ خبر نظر سے گزری کہ جرمنی، دنیا میں آزادی  صحافت کی فہرست میں گیارہووں نمبر سے تیرہویں نمبر پر آگیا ہے۔

یورپ کے ایک جدید ترین ملک، آزاد معاشرے کے علم بردار، جمہوریت کے پرداخت ملک کی حیثیت سے گمان تو یہی ہوتا تھا کہ جرمنی میں آزادی صحافت کا پھریرا بہت اونچا لہرارہا ہوگا۔ مگر نہیں اب تک بھی اس کا نمبر دنیا میں گیارہواں تھا۔ اور اب بدقسمتی سے تیرہویں پر چلا گیا ہے۔ یہاں پر یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اسکنڈنیویا کے ممالک اس دفعہ پھر نمبر لے گئے ہیں اور تو اور کوسٹا ریکا  اور جمائیکا کے ممالک بھی جرمنی پرسبقت  لے گئے ہیں۔ وجہ کچھ بھی ہو افسوس کی بات ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا کی لہر نے آزادی صحافت کو تمام دنیا میں متاثر کیا ہے اور جرمنی میں کورونا کے لیے کیے جانے والے ”احتیاطی اقدامات“ کے خلاف جو آوازیں اٹھ رہی ہیں، انہیں دبانے کے لیے جرمنی کی حکومت اور پولیس سخت اقدامات کے آڑ میں اصل میں آزادی صحافت کا گلا بھی گھونٹ رہی ہے۔
جرمنی میں لاگو نیا قانون جس کے تحت مرکزی حکومت کے اختیارات میں اضافے پر بھی کافی شکوک و شبہات اٹھ رہے ہیں۔ ایک سیاست داں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ 1993 جیسے حالات کی نفی کے لیے ہی صوبائی خودمختاری کو جرمنی کے آئین میں خصوصی جگہ دی گئی تھی۔ اور اب پھر ایک بار مرکز کو مضبوط کرنا پرانے خدشات کو تقویت دینے کاسبب بن رہاہے۔ اس خبر کے ساتھ آج کی یہ خبر بھی کافی اہم ہے کہ جہاں کورونا کی مشکلات آزادی صحافت کی راہ کی رکاوٹ بنتی نظر آتی ہے وہیں حیرت کا مقام ہے کہ اسلحے کی دوڑ میں اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

کورونا وبا کے باوجود سویڈن کے امن کے ریسرچ انسٹیٹوٹ کے مطابق دنیا میں سامان حرب کی تجارت کلی طور پر غیر تبدیل شدہ رہی اوراس میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔  شمالی امریکہ ہمیشہ کی طرح اس تجارت کا بے تاج بادشاہ ہے۔ جبکہ چین اور روس کے اس تجارت میں کمی واقع ہوئی ہے وہیں جرمنی نے اس تجارت میں زیادہ حصہ لیا ہے اور۱کیس فیصد زیادہ منافع بھی کمایا ہے۔ جرمنی کے تناظر میں یہ بات عجیب لگتی ہے جو شام کے افراد کو اپنے یہاں پناہ دینے کے پردے میں اسلحے کی ترسیل میں اضافہ بھی کر رہاہے۔

یہ کیسا تضاد ہے۔  اسلحے کی اس تجارت کی یہ خبر اتنی اہم اور سنسنی خیز ہے کہ اس پر علیحدہ سے کوئی مضمون لکھا جا نا چاہیے۔ ممکن ہے اس مضمون کو پڑھ کر آپ میں سے کوئی اور اس پر قلم اٹھائے۔ تاہم میں اس وقت تو اپنے موضوع کو آگے بڑھاتا ہوں۔
آج کی ایک اوراہم خبر، جس نے بھی مجھے اسے اس کالم میں شامل کرنے پر اکسایا وہ ہے چین سے آنے والی خبر۔  پیکنگ میں منعقدہ کاروں کے میلے کی رپورٹ۔ جرمنی میں ایسے سینتیس کے قریب میلے ہوتے ہیں۔ کاروں کی صنعتیں جرمنی کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی مانی جاتی ہے۔ چین کے اس میلے میں پیش کردہ کاروں کی نئی اقسام یعنی برقی کاریں قابل غور بھی ہیں اور جرمنی کے لیے قابلِ فکر بھی۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ جرمنی اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کی تجارت ماند پڑی ہے۔ وبا کی وجہ سے شدید نقصانات کا سامنا ہے چین کی تیزی سے بڑھتی معیشت اور صنعتوں پر دست درازی یورپی ممالک کے لیے کوئی خاص خوش کن نہیں۔ چین نے برقی کاروں کی جدید طرز پیش کرکے میلے کے شریک ممالک کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
یقیناً صحافت کی آزادی کی گرتی صورتحال معاشی بحران، وفاق کے مضبوط ہاتھ اور اسلحے کی تجارت کے مابین کوئی نادیدہ قوت کارفرما ہوگی اور یہ محض اتفاق ہوگا۔ آپ کیا کہتے ہیں۔