ریاست مخالف تقریر کے الزام میں لیگی رہنما جاوید لطیف کو گرفتار کرلیا گیا
- منگل 27 / اپریل / 2021
- 4760
مسلم لیگ (ن) کے رہنما و رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف کو ریاست مخالف تقریر کے کیس میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ عدالت نے ان کی عبوری ضمانت خارج کردی تھی۔
لاہور کی سیشن کورٹ میں ریاست مخالف بیان دینے کے مقدمے میں ایڈیشنل سیشن جج واجد منہاس نے جاوید لطیف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ دوران سماعت جاوید لطیف کے وکیل فرہاد علی شاہ نے دلائل دیے کہ جاوید لطیف کے خلاف جھوٹی اور بے بنیاد ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ جاوید لطیف کا تعلق مسلم لیگ (ن) اور اپوزیشن جماعت سے ہے، پولیس نے بدنیتی کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر پورا کلپ سنے بغیر جاوید لطیف پر مقدمہ بنایا گیا۔ سوشل میڈیا پر تو علما کے خلاف بھی فتوے آتے ہیں، جاوید لطیف بھاگے نہیں۔ انہوں نے اس عدالت کے سامنے سرنڈر کیا۔ وکیل نے کہا کہ مریم نواز کو قتل کرنے کے لیے ایک سازش تیار کی گئی۔ اس تناظر میں جاوید لطیف نے یہ بات کی۔ یہ تفتیش کا کیس ہے اینکر کے ساتھ جاوید لطیف کا آمنا سامنا کرانا ہے۔ پولیس کے پاس تو ان معاملات پر ایف آئی ار درج کرانے کا اختیار ہی نہیں ہے۔
وکیل فرہاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ جاوید لطیف کے کیس میں ایک سیکشن کے علاوہ باقی تمام قابل ضمانت سیکشن ہیں۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ جاوید لطیف تفتیش میں شامل ہوں گے ان کی ضمانت منظور کی جائے۔
اس موقع پر جج نے کمرہ عدالت میں سول کپڑوں میں موجود لوگوں کی شناخت پوچھی۔ ایک افسر نے بتایا کہ میں ڈی ایس پی سی آئی اے ہوں باقی انسپکٹر ہیں۔ اس پر جج نے سوال کیا کہ آپ کو تو عدالت نے بلایا ہی نہیں آپ کیوں آئے ہیں۔ ڈی ایس پی سی آئی اے نے بتایا کہ تفتیش کے سلسلے میں عدالت میں آئے ہیں۔
جاوید لطیف کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے جاوید لطیف کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا کی۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ جاوید لطیف کا متنازع بیان اپنے لیڈر کی محبت میں حدود کو تجاوز کرنے کے مترادف ہے۔ جاوید لطیف کے بیان کی سی ڈی کو فرانزک کے لیے بھجوا دیا گیا ہے، پروسیکیوشن کا کیس قانون کے تمام تقاضوں کے مطابق ہے، اس مرحلے پر جاوید لطیف کی ضمانت نہیں بنتی۔
انہوں نے کہا کہ جاوید لطیف کے کیس میں جو سیکشن لگائے گئے ہیں وہ قابل ضمانت نہیں ہیں، جاوید لطیف نے مقدمے کے اخراج کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا وہاں کیا ہوا سب کو پتا ہے۔ جاوید لطیف کی ضمانت خارج کی جائے تاکہ اس کیس میں تفتیش کو مکمل کیا جا سکے۔
وکیل نے دلائل میں کہا کہ ایک شخص کی محبت میں ریاست کو دھمکی دی گئی۔ میرا فرض ہے کہ متنازع بیان پر میں قانونی چارہ جوئی کر سکوں، 'پاکستان نہ کھپے' کہنے سے بڑا کوئی جرم نہیں ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کیس میں کہا کہ پاکستان کے خلاف بات کرنی ہے تو بنگلہ دیش چلے جائیں۔
عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد جاوید لطیف کی عبوری ضمانت خارج کردی۔ ضمانت منسوخ ہونے کے بعد جاوید لطیف کو سی آئی اے نے گرفتار کر لیا۔ خیال رہے کہ رہنما مسلم لیگ (ن) جاوید لطیف نے ایک ٹی وی پروگرام میں مریم نواز کو مبینہ دھمکی کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا تھا کہ 'اگر خدانخواستہ مریم نواز شریف کو کچھ ہوا تو ہم پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے'۔