اسلام پر فرانسیسی صدر کا متضاد موقف اور مسلمان حکمران
نبی کریمﷺ کے خاکوں کے حوالے سے پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال پر تمام متعلقین نے کسی حد تک قابو پالیا ہے۔ لیکن اس کے اسباب اور فرانسیسی قانون کا جائزہ لینا ضروری یے۔
یہ دیکھنا اور سمجھنا بھی ضروری ہے کہ آیا فرانس اہنے قانون کی پاسداری کر رہا ہے اور کیا وہ ایک طرف اپنے شہریوں کے انفرادی عمل کو ان کا اظہار رائے کی آزادی کا حق اور دوسری طرف کسی مسلمان کے انفرادی رد عمل کے حق کو تمام مسلمانوں کا اجتماعی جرم قرار دینا کھلا تضاد نہیں؟
فرانس 1789 کے انسانی حقوق کے چارٹر کے مطابق اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے، جسے فرانسیسی اور اب یورپی یونین کا قانون بھی تحفظ دیتا ہے۔ لیکن فرانس اور یورپی یونین کے قوانین کی حدود و قیود اور آزادی کے ساتھ ساتھ کچھ اہم ذمہ داریاں بھی ہیں۔ اظہار رائے کی آزادی کے ساتھ ساتھ نسلی مذہبی اور انفرادی احترام بارے کچھ پابندیاں ہیں۔ کسی بھی فرد اور ادارے کو یہی نہیں کہ کسی کے خلاف تعصب اور امتیاز برتنے کا حق نہیں بلکہ ایسی تحریر اور تقریر کی بھی اجازت نہیں جو دوسروں کے جزبات کو مجروح کرے ، اشتعال دلائے یا امن و امان کی صورت حال پیدا کرے۔
اسی طرح جو افراد اور ادارے ہر چند سال بعد دانستہ طور پر نبی کریم کے خاکے شائع کرتے ہیں، یہ اسلام کی توہین ، مسلمانوں کو اشتعال دینے کے جرم کا ارتکاب اور یورپ کے اپنے ہی بنائے ہوئے قانون کی خلاف ورزی نہیں تو اور کیا ہے؟ فرانس کے صدر نے بھی گزشتہ سال اپنے ایک استاد کی طرف سے اپنی کلاس کو نبی کریمﷺ کے خاکے دکھانے کے عمل کو اس کا انفرادی حق قرار دیا مگر اس استاد ہر حملہ کرنے والے مسلمان کے ذاتی عمل کو اس کا انفرادی حق یا عمل قرار دینے کے بجائے کہا کہ اسلام بحران کا شکار اور بہت ساری برائیوں اور سیاسی بیماریوں کا ذمہ دار ہے۔ جو فرانسیسی صدر کا کھلا تضاد ہے ۔
سیاسی بیماریوں کی اصل وجہ اور مغرب اور اسلام کے درمیان اختلاف اور تنازعات کی اصل وجہ مغرب کا یہی تضاد ہے جس پر مغرب کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ کہاں کا اصول اور انصاف ہے کہ اپنے کسی فرد کے عمل کو اس کا ذاتی اور مسلمان فرد کے رد عمل کا ذمہ دار پوری مسلمان کمیونٹی کو قرار دے کر مسلمانوں کو اجتماعی سزا دی جائے۔ اور وہ بھی ایک ایسے عمل کے رد عمل میں جس عمل کی یورپ کا اپنا قانون اجازت نہیں دیتا۔
فرانس کے صدر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اسلام کی وہ خود اصلاح کرنا چاہتا یے۔ ایک غیر مسلم کی حیثیت سے اسے اسلام کی اصلاح کا کیا اختیار ہے؟ کیا وہ کسی مسلم ریاست کو فرانس میں اصلاحات کی اجازت دے گا؟ ہر گز نہیں۔ برحال الجزیرہ کے سنئیر سیاسی تجزیہ نگار مروان بشاری کا کہنا ہے کہ فرانس کے صدر نے الجزیرہ پر آ کر مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے لیے جو وضاحت کی ہے، وہ ایک اچھا اقدام ہے اور اب یورپ اور اسلام کے درمیان فضا بہتر ہونے کی توقع ہے۔ یورپ تو فرانس کی پشت پر کھڑا تھا اور فرانس اہنے شہریوں کی پشت پر مگر مسلمان عوام بھی یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ مسلمان ملکوں کے حکمران کہاں کھڑے ییں؟
کیا وجہ ہے کہ کسی غیر مسلم حکمران کی اسلام کے خلاف بد کلامی اور بد زبانی کا مسلمان حکمرانوں کے بجائے مسلمان عوام کو جواب دینا پڑتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ جب مسلمان عوام اپنے ہی ملکوں میں احتجاج کرتے ہیں تو ان کے اپنے حکمران انہیں گولیوں کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ فرانس کے خلاف سفارتی اقدام کا مطلب پورے یورپ کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کے مترادف ہے۔ اگر ایسا تھا یا ہے تو عمران خان بتائیں کہ مسلمان ممالک کا اتحاد کہاں یے؟ ترکی، ملیشیا اور ایران نے جب فرانس کے صدر کی اسلام پر لب کشائی پر سخت رد عمل کا اظہار کیا تو پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک کیوں خاموش رہے؟