انخلا کے بعد افغانستان میں خواتین اور اقلیتوں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں: زلمے خلیل زاد

  • بدھ 28 / اپریل / 2021
  • 8360

افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ افغانستان میں 20 سال تعینات رہنے کے بعد امریکی فوجیوں کے وہاں مزید تعینات رہنے کا کوئی جواز نہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے افغانستان سے یکم مئی کو امریکی فوج کے انخلا کا عمل شروع ہونے سے پہلے کابل کے امریکی سفارت خانے میں اپنے عملے میں واضح کمی کا اعلان کیا ہے۔ زلمے خلیل زاد نے منگل کے روز امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کو بتایا ہے کہ امریکی سفارت خانے کے عملے میں کمی ‘رائٹ سائزنگ' ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین باب میننڈیز کے اس سوال پر کہ کیا عملے میں کمی تشدد میں ممکنہ اضافے کے خدشے کی وجہ سے تو نہیں ہے؟، خلیل زاد کا کہنا تھا کہ عملے میں کمی کرنے میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں۔ خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق سفارت خانے کے چارج ڈی افیئرز راس ولسن کا کہنا تھا کہ عملے کو واپس بھیجنے کا حکم ، تشدد میں اضافے کے خطرات کی رپورٹوں کی وجہ سے دیا گیا ہے۔

اے پی کے مطابق خلیل زاد کا کہنا تھا کہ افغانستان میں 20 سال تک تعینات رہنے کے بعد اب فوج کے وہاں مزید قیام کا جواز نہیں بنتا۔ اس کے ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ وہ قانون سازوں کی اس تشویش سے اتفاق کرتے ہیں کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد وہاں خواتین اور اقلیتوں کے حقوق پامال ہو سکتے ہیں۔ خلیل زاد کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بارے میں تشویش ہونی چاہئیے کہ حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ کے پاس کوئی ایسی طاقت یا اختیار ہے جس سے وہ انخلا کے بعد بھی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنا سکے۔ اس کے جواب میں خلیل زاد نے بہت محتاط انداز اختیار کرتے ہوئے جواب دیا کہ اگر انہوں نے افغان خواتین اور دیگر کے حقوق کا احترام نہ کیا، تو پھر انہیں امداد اور دیگر سفارتی حمایت فراہم نہیں ہو گی۔

کمیٹی میں سماعت کے دوران، خلیل زاد نے صدر جو بائیڈن اور انتظامیہ کے دیگر عہدیداروں کے اس عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ امریکہ افغانستان کی ترقی اور انسانی حقوق کے شعبے میں حاصل کردہ ان کامیابیوں سے وابستہ رہے گا، جو سال دوہزار ایک کے بعد حاصل کی گئی ہیں۔

زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ انہیں ایسا نہیں لگتا کہ انخلا کے بعد افغان حکومت فوراً کسی انحطاط کا شکار ہو جائے گی یا ملک میں حاصل ہونے والی ترقی کا پہیہ واپس مڑ جائے گا۔  اس وقت افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 3 ہزار کے لگ بھگ ہے، اور افغان فوجیوں کی تعداد تقریباً 3 لاکھ ہے جبکہ طالبان کی تعداد اندازا 80 ہزار سے ایک لاکھ تک ہے۔