بھارت میں کورونا سے اموات دو لاکھ سے تجاوز کرگئیں
- بدھ 28 / اپریل / 2021
- 3210
بھارت میں کورونا وبا کی سنگینی بڑھتی جا رہی ہے اور یومیہ کیسز اور اموات میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بدھ کو بھارت میں وائرس سے مزید 3293 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ بھارت مین کورونا سے مرنےوالوں کی تعداد دو لاکھ سےتجاوز کرگئی ہے۔
ملک میں بدھ کو مزید تین لاکھ 60 ہزار کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ بھارت میں اب تک کورونا کے ایک کروڑ 79 لاکھ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ دارالحکومت نئی دہلی سمیت ملک کے مختلف اسپتالوں میں مریضوں کا دباؤ برقرار ہے جب کہ آکسیجن اور دواؤں کی بھی قلت ہے۔
بھارت میں بدھ کو مسلسل ساتویں روز تین لاکھ سے زائد یومیہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ بدھ کو ہونے والی ہلاکتوں کے بعد اب تک ملک بھر میں دو لاکھ سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ ریاست مہاراشٹرا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاستوں میں شامل ہے جہاں منگل کو 895 ہلاکتیں جب کہ 66 ہزار سے زائد نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں صورتِ حال بدستور تشویش ناک ہے۔ دہلی میں ایک ہی دن میں ریکارڈ 381 یومیہ اموات ہوئی ہیں جب کہ 24 ہزار سے زائد نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ نئی دہلی میں کورونا کے زیرِ اعلاج افراد کی تعداد 98 ہزار تک جا پہنچی ہے جب کہ کیسز مثبت آنے کی شرح 32 فی صد سے بڑھ گئی ہے۔
نئی دہلی کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے آکسیجن کا کوٹہ بڑھانے کے باوجود اس کی قلت برقرار ہے۔ لوگ آکسیجن سیلنڈرز کی مہنگے داموں فروخت کی بھی شکایات کر رہے ہیں۔ منئی دہلی کے شمشان گھاٹوں اور قبرستانوں پر بھی دباؤ برقرار ہے اور لوگوں کو اپنے پیاروں کی آخری رسومات کے لیے بھی انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر بھارت میں 18 سال سے زائد عمر کی افراد کی کورونا ویکسی نیشن کا یکم مئی سے آغاز ہو رہا ہے۔ اس عمر کے افراد کی رجسٹریشن کا بدھ سے آغاز کیا جا رہا ہے جو ویکسی نیشن کے لیے آن لائن رجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔ بھارت میں اب تک 45 سال سے زائد عمر کے افراد کی کورونا ویکسی نیشن کی جا رہی تھی۔
جمعرات کو ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے اور مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ خیال رہے کہ بھارت میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز اور اسپتالوں میں آکسیجن کی قلت کی وجہ سے مرکزی حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔
بعض ماہرین وبا کی پہلی لہر پر قابو پانے کے بعد انتخابی ریلیوں اور دیگر اجتماعات کی اجازت کو بھی دوسری لہر کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور یورپ سمیت کئی ممالک نے اس مشکل صورتِ حال میں بھارت کی مدد کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ میں وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ بھارت میں تیار کی جانے والی 'کو ویکسین' بھارت میں وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کا سبب بننے والی قسم B.1.617 کے خلاف بھی مؤثر ہے۔ منگل کو ایک بیان میں ڈاکٹر فاؤچی کا کہنا تھا کہ وہ بھارت میں کورونا کی صورتِ حال پر روزانہ کی بنیاد پر ڈیٹا حاصل کر رہے ہیں۔ تاہم اب تک کے نتائج کے مطابق 'کو ویکسین' وائرس کی نئی قسم کے خلاف بھی مؤثر ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ "ہم آج کل بھارت میں جو ابتر صورتِ حال دیکھ رہے ہیں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ویکسین ایک مؤثر ہتھیار ہے۔ لہٰذا اسے لگوانا بہت ضروری ہے۔"
'بھارت بائیو ٹیک' اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرلوجی کے اشتراک سے بننے والی 'کو ویکسین' کے ہنگامی استعمال کی اجازت تین جنوری کو دی گئی تھی جو وائرس کے خلاف 78 فی صد تک مؤثر قرار دی گئی تھی۔
ادھر کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بھارت کے 150 اضلاع میں لاک ڈاؤن لگانے کی تجویز دی گئی ہے جس کا حتمی فیصلہ مرکزی حکومت کرے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اضلاع میں لاک ڈاؤن کی تجویز دی گئی ہے جہاں کیسز مثبت آنے کی شرح 15 فی صد سے زائد ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران صرف ضروری اشیا کی دکانیں کھولنے کی اجازت ہو گی جب کہ ریستوران اور کاروباری مراکز بند رہیں گے۔