ڈی ایچ اے کیس میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی برہمی

لاہور ہائی کورٹ نے اراضی پر قبضے سے متعلق ایک مقدمے میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی  کے ایڈمنسٹریٹر کو تمام ریکارڈ کے ساتھ جمعرات کو طلب کر لیا ہے۔

عدالت نے ڈی ایچ اے کی وکیل الطاف الرحمان کو ہدایت کی کہ ڈی ایچ اے ایڈمنسٹریٹر بریگیڈئیر ستی کو کہیں کہ وہ اپنے سٹار اور ٹوپی اتار کر آئیں اگر ان کے خلاف قبضہ ثابت ہو گیا تو یہیں سے ہتھکڑی لگا کر جیل بھیجوں گا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے سرکاری وکیل کو مخاطب کیا اور کہا کہ سی سی پی او سے کہو کہ اگر وہ اس مقدمے میں پیش ہونے سے ڈرتے ہیں تو آئی جی کو بھیج دیں۔

اس سے قبل ڈی ایچ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بریگیڈیئر ستی اسلام آباد میں سپریم کورٹ میں ایک مقدمے میں پیش ہونے کے لیے گئے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے وکیل سے کہا وہ برگیڈیئر سے کہیں کہ وہ جمعرات کو مکمل ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوں۔  ڈی ایچ اے کے وکیل نے استدعا کی کہ آرڈر کی نقل مل جائے تو اچھا ہو گا جس پر چیف جسٹس نے باور کرایا کہ جو کہا ہے اس کو آرڈر ہی سمجھیں۔

خیال رہے کہ تین درخواست گزاروں، حافظ ذوالفقار، راحیل طفیل اور ذیشان محبوب، نے گزشتہ برس متروکہ وقف املاک سے بالترتیب 70 کنال، 50 کنال اور پانچ کنال اراضی حاصل کی تھی مگر ان کے مطابق ڈی ایچ اے نے انہیں کسی بھی قسم کی تعمیر سے یہ کہہ کر روک دیا کہ یہ زمین پہلے ہی ڈی ایچ اے کے استعمال میں ہے۔ عدالتی کی کارروائی کی کوریج کرنے والے صحافی عبادالحق کے مطابق دوران سماعت چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ فوج تو سب سے بڑا قبضہ گروپ بن چکی ہے۔ فوج نے لاہور ہائی کورٹ کی 50 کنال زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔

چیف جسٹس نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایسا تو کوئی بڑے رسہ گیر بھی نہیں کرتے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ وہ رجسٹرار سے کہیں گے کہ وہ آرمی چیف کو فوج کے زمین پر قبضے سے متعلق خط لکھے۔ ڈی ایچ اے کے خلاف درخواست پر آج کی سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیے کہ کیوں نہ ڈی ایچ اے کے اعلیٰ حکام کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے آبزرویشن دی کہ ’یہ سب صرف اس لیے کیا جا رہا ہے کہ فوج طویل اقتدار پر قابض رہی ہے اور اپنی مرضی کی قانون سازی کرتی رہی ہے۔‘ دوران سماعت چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ وردی والے جرم کریں تو وہ بچ نہیں سکتے۔

چیف جسٹس نے ڈی ایچ اے کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آرمی کی وردی پہننے کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں کی جائیدادوں پر آپ قابض ہو جائیں۔ جسٹس قاسم خان نے کہا کہ ملک کے ساتھ کھلواڑ چھوڑ دیں، کل ہی رجسٹرار کی مدعیت میں مقدمہ درج ہو گا۔ عدالت نے ڈی ایچ اے کے وکیل کو کہا کہ ’پراپرٹیز‘ پر قبضے چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں غریبوں کے لیے بیٹھے ہیں۔

چیف جسٹس قاسم خان نے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ سپاہیوں کی چار پانچ گاڑیاں بھریں اور قبضہ کرنے چلے جائیں۔ ان کے مطابق ’وردی والا جرم کرے تو وہ بھی جرم ہے، چاہے وہ فوجی وردی ہو یا پولیس کی وردی۔‘

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کمشنر لاہور اور ڈپٹی کمشنر کو ہائی کورٹ کی اراضی کی نشاندہی کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے لاہور پولیس کے سربراہ سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کو مخاطب کیا اور کہا کہ ڈی ایچ اے نے اندھیر نگری بنائی ہوئی، اگر ان سے ڈرنا ہی ہے تو نوکری چھوڑ دیں۔ جسٹس قاسم خان نے ہدایت کی کہ جیسے ہی ڈی ایچ اے کے خلاف کوئی درخواست آئے تو فوری طور پر مقدمہ درج کریں۔  چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’کوئی کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، قانون سب کے لیے برابر ہے، وردی والے کرائم کر کے بچ نہیں سکتے۔‘ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ انہوں نے کسی سے ڈر کے 11 سال نوکری نہیں کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عزت کے لیے یہاں بیٹھا ہوں، نہیں تو اور بھی بہت سے ذرائع تھے۔

سماعت کی دوران چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ آرمی کے ریٹائرڈ لوگوں کے لیے زیادہ ویلفیئر ہے، کیا انہوں نے قوم کی زیادہ خدمت کی ہے؟ جسٹس قاسم خان نے سوال اٹھایا کہ سول ملازمین کے لیے کوئی ویلفیئر کیوں نہیں؟ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں کالونیاں کیوں نہیں بنا کر دیتے؟

چیف جسٹس قاسم خان نے سوال اٹھایا کہ کیا آرمی کے ساتھ پولیس اور دیگر اداروں کے افراد نے قربانیاں نہیں دی ہیں۔