امریکہ اڑان بھرنے کو تیار ہے: صدر بائیڈن

  • جمعرات 29 / اپریل / 2021
  • 4280

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے اپنے پہلے خطاب میں ملک میں کورونا وبا سے بچاؤ کے لیے حکومتی اقدامات، معیشت کی بحالی، معاشی مساوات، گن وائلنس کے خاتمے سمیت کئی موضوعات پر بات کی۔

بدھ کو اپنے خطاب کے دوران صدر بائیڈن نے ملکی داخلی امور کے ساتھ ساتھ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا، موسمیاتی تغیر، چین کے ساتھ تعلقات جیسے خارجہ امور پر بھی بات کی۔ صدر بائیڈن نے بچوں کی کفالت میں ٹیکس چھوٹ دینے، کم از کم اجرت 15 ڈالر کرنے، خاندانوں کو 'افورڈ ایبل ہیلتھ کیئر ایکٹ' کے تحت صحت کی سہولتوں تک مزید بہتر رسائی دینے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے امریکی بچوں اور خاندانوں کی بحالی، 12 سال کی قومی سطح پر مفت تعلیم میں کمیونٹی کالجز کے دو سال کے پروگرامز کو شامل کرنے، امیر ترین امریکی طبقے سے ٹیکس وصولیوں کی شرح میں اضافے کا بھی اعادہ کیا۔ صدر بائیڈن نے کہا کہ اپنی حکومت کے ابتدائی 100 روز کے بعد وہ قوم کو بتا سکتے ہیں کہ امریکہ پھر سے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ان کے بقول خطرات کو امکانات میں، بحران کو مواقع میں اور رکاوٹ کو طاقت میں بدل دیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر اپنے پہلے 100 دنوں میں ہم نے اپنی جمہوریت پر لوگوں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ ہمیں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ جمہوریت اب بھی کار گر ہے۔ کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے اپنے پہلے خطاب میں صدر بائیڈن نے اپنی حکومت کے اولین 100 روز کی کارکردگی پیش کی اور خطاب کے شروع میں کورونا وائرس کی عالمی وبا اور اس سے نمٹنے کی حکومتی کوششوں کو بیان کیا۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ جب انہوں نے عہدۂ صدارت سنبھالا تو ملک کو کورونا جیسی وبا کا سامنا تھا، ملک معاشی بحران سے گزر رہا تھا اور ان کے بقول امریکہ کی جمہوریت کو خانہ جنگی کے بعد بدترین حملے کا سامنا تھا۔ انہوں نے امریکی شہریوں کو کورونا سے بچانے کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کر دیا ہے۔ ان کے بقول حکومت نے ابتدائی 100 روز میں 10 کروڑ افراد کو ویکسین لگانے کا وعدہ کیا تھا اور آج 20 کروڑ امریکی ویکسین لگوا چکے ہیں۔

صدر نے بتایا کہ اس وقت ملک کے ہر شہری کو اپنی رہائش سے پانچ میل کے اندر ویکسین دستیاب ہے۔ صدر بائیڈن نے کہا کہ ہم اپنی قوم کو ویکسین فراہم کر رہے ہیں اور سینکڑوں ہزاروں ملازمتیں فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم ایسے نتائج دے رہے ہیں جنہیں لوگ اپنی زندگیوں میں محسوس کر سکتے ہیں۔ ہم مواقع پیدا کرنے کے لیے دروازے کھول رہے ہیں۔ شفافیت اور انصاف کو یقینی بنا رہے ہیں۔

امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کورونا ریلیف پیکج کا بھی تفصیلی ذکر کیا اور بتایا کہ ملکی تاریخ کے سب سے بڑے ریلیف پیکج نے کس طرح مشکل حالات میں شہریوں کو ریلیف فراہم کیا ہے اور یقینی بنایا ہے کہ بچوں کے لیے کھانا دستیاب ہو۔ صدر بائیڈن نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی تاریخ میں کسی بھی صدر کے پہلے 100 دنوں میں معیشت میں اس قدر بہتری کے آثار نہیں آئے ہوں گے جو ان کے دور میں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

انہوں نے آئی ایم ایف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور گزشتہ چار دہائیوں میں شرحِ نمو سب سے زیادہ ہے۔ وہ ٹیکس چھوٹ ملکی خسارے کی قیمت پر نہیں دینا چاہیں گے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک کا ایک فی صد امیر ترین طبقہ اپنا 'جائز حصہ' ادا کرے۔

صدر بائیڈن نے ملک میں معیشت کی بحالی کے لیے 'کلین انرجی' کے منصوبوں پر تفصیل سے بات کی اور کہا کہ اس سے امریکہ نہ صرف موسمیاتی تغیر کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا بلکہ اس شعبوں میں بڑے پیمانے پر ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ وہ امریکہ کے دوسرے ملکوں کے ساتھ تجارتی معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کریں گے لیکن وہ چاہیں گے کہ امریکہ کے مفاد کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔  صدر جو بائیڈن نے چین کے صدر ژی جن پنگ کے ساتھ رابطوں کی بھی تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ چین کے ساتھ صحت مند مقابلے کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن وہ انٹلکچوئل پراپرٹی سمیت تمام اہم معاملات پر امریکی مفادات کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔

افغانستان سے متعلق صدر نے بتایا کہ وہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا اعلان کر چکے ہیں۔ دنیا کی اس طویل ترین جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کا وقت آ گیا ہے۔ ان کے بقول اس وقت افغانستان میں امریکہ کے ایسے فوجی اہلکار بھی خدمات انجام دے رہے ہیں جو 2001 میں نائن الیون کے دہشت گرد حملے کے وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کو نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور نائن الیون کے ذمہ دار اسامہ بن لادن کو بھی کیفرِ کردار تک پہنچا دیا گیا ہے۔ دہشت گردی آج بھی ایک چیلنج ہے لیکن افغانستان سے آگے نکل کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

صدر بائیڈن نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو ایک خطرہ قرار دیا اور کہا کہ وہ اس ضمن میں سفارتی اور دفاعی تمام چینلز استعمال کریں گے۔ انسانی حقوق پر گفتگو بھی صدر بائیڈن کے پہلے خطاب کا حصہ تھی۔

صدر بائیڈن کا کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے یہ پہلا خطاب ایک گھنٹے پانچ منٹ پر مشتمل تھا۔ امریکہ میں سیاسی روایت ہے کہ صدر کے کانگریس سے خطاب کے بعد اپوزیشن جماعت کی طرف سے بھی فوری طور پر ردِ عمل دیا جاتا ہے۔

بدھ کی شب صدر بائیڈن کے خطاب کے فوراً بعد ری پبلکن سینیٹر ٹم اسکاٹ نے پارٹی کی جانب سے ردِ عمل دیا جو ری پبلکن پارٹی کے واحد سیاہ فام سینیٹر ہیں۔ ٹم اسکاٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ صدر بائیڈن ایک بھلے انسان دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کی پالیسیاں تقسیم کرنے والی ہیں۔ صدر بائیڈن کی تقریر خوبصورت لفظوں سے بھرپور تھی۔ لیکن ہماری قوم کو خالی ہمددریوں کی نہیں پالیسیوں اور پیش رفت کی ضرورت ہے جو ہمیں قریب لا سکے۔