سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے اپنے ہی ایک جج جسٹس فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سمیت تمام فورمز پر اس سلسلے میں جاری قانونی کاروائی کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

صدارتی ریفرنس کے فیصلے میں دیے جانے والے حکم کے خلاف دائر کی گئیں نظر ثانی کی اپیلیں چار کے مقابلے میں چھ کی اکثریت سے منظور کی گئیں۔سپریم کورٹ کے مختصر فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کی مرتب کردہ رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل سمیت کسی عدالتی فورم پر استعمال نہیں ہو سکتی۔واضح رہے کہ جون 2020کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ کی اکثریت نے جسٹس قاضی عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس توکالعدم قرار ددے دیا تھا لیکن بینچ میں شامل سات ججوں نے جسٹس قاضی عیسی کی اہلیہ اور ان کے بچوں کا معاملہ ایف بی آر میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسی کے علاوہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، سندھ بار کونسل اور فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے بھی نظر ثانی کی اپیلیں دائر کی تھیں۔گے۔ نظر ثانی کیس کی سماعتوں کے دوران جسٹس فائز عیسی نے جذباتی انداز میں دلائل دیتے ہوئے نظر ثانی درخواست کی عدالتی کاروائی کو براہ راست نشر کرنے کی استدعا بھی کی تھی۔اس حوالے سے جسٹس فائز عیسی نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس مقدمے کی وجہ سے ان کی شہرت اورساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور عدالتی کاروائی براہ راست نشر ہونے سے عوام ان کا موقف زیادہ واضح انداز میں جان سکیں گے۔

اسی دوران ایک اور دلچسپ واقعہ یہ پیش آیا تھا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے انہیں وزیراعظم کے خلاف لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت سے روک دیا تھا۔وزیراعظم کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کو دیے گئے ترقیاتی فنڈزکی سماعت سے روکنے کے فیصلے پرقانونی ماہرین نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدلیہ کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس میں کسی جج کو کسی مقدمے کی سماعت سے روکا گیا ہو۔ اگرچہ جسٹس فائز عیسی کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس گذشتہ سال ہی خارج کر دیا گیاتھا لیکن صدارتی ریفرنس میں ہونے والی سماعتوں میں دس رکنی بینچ میں شامل ججز کے چند ریمارکس میں ریفرنس دائر ہونے کے اغراض ومقاصد کی کھل کر وضاحت ہو گئی تھی۔صدارتی ریفرنس کی ایک سماعت کے دوران جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے تھے کہ سابق وزیر اطلاعات نے اس ریفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ جج صاحب نے کریز سے باہر نکل کر شاٹ لگائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "لگتا ہے کہ ریفرنس صرف کریز سے باہر نکل کر شاٹ لگانے پر بنا۔ "

جسٹس فائز عیسی کے معاملے کا گہرائی میں  جائزہ لیا جائے تو یہ بات جاننا چنداں دشوار نہیں رہتاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس فائل ہونے کی سب سے بڑی وجہ کریز سے باہر نکل کر شاٹ لگانا ہی تھا لیکن ان کے عدالتی کیریئر کا عمیق جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے محض ایک بار (فیض آباد دھرنا کیس) کریز سے باہر نکل کرشاٹ نہیں لگائی۔تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما قاضی محمد عیسیٰ کے فرزند جسٹس فائز عیسیٰ اس سے پہلے بھی متعدد بار کریز سے باہر نکل کر شاٹس لگا چکے تھے۔35سال قبل بلوچستان ہائیکورٹ کے ایڈوکیٹ کی حیثیت سے کام کا آغاز کرنے والے جسٹس فائز عیسیٰ کو اب تک کئی بار  وکلا  برادری اور اداروں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔جسٹس فائز عیسیٰ نے پہلی بار کریز سے نکل کر شاٹ کھیلنے کی کوشش اس وقت کی جب سپریم کورٹ نے 2016 کے کوئٹہ سول ہسپتال خود کش حملے کی تحقیقات کے لئے ان کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا۔اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھانے کے ساتھ ساتھ کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔جسٹس فائز کی سربراہی میں قائم اس کمیشن نے اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار سے کالعدم تنظیم اہل سنت والجماعت کے سربراہ علامہ یوسف لدھیانوی سے ملاقات پر بھی سوال اٹھایا تھا۔

آپ کو یاد ہوگا کہ وزیر داخلہ چودھری نثارنے کمیشن کے الزامات کو ذاتی قرار دیا تھا جب کہ اس وقت کی حکومت نے کمیشن کی رپورٹ پر نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے اس وقت بھی کریز سے نکل کر شاٹ لگانے کی کوشش کی تھی جب انہوں نے 2015 میں چیف جسٹس ناصر  الملک  کی سربراہی میں فوجی عدالتوں کے حق میں سنائے جانے والے فیصلے کی مخالفت کی تھی۔جسٹس فائز عیسیٰ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے ہمراہ آرمی پبلک اسکول حملہ کیس کی ازخود سماعت کے دوران بھی کریز سے باہر نکل کر شاٹ لگا چکے ہیں۔دوران سماعت انہوں نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے ہیومین رائٹس سیل کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ درخواست کو از خود نوٹس میں تبدیل کیا جائے۔ اس سماعت کے دوران اس وقت کے چیف جسٹس نے اچانک عدالت برخاست کر دی تھی اور کچھ دیر بعد جب عدالت دوبارہ لگی تو بینچ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ شامل نہیں تھے۔کریز سے باہر نکل کر شاٹ لگانے کی آخری کوشش جسٹس فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنا کیس میں کی۔اس مشہور زمانہ کیس میں جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں مسلح افواج کے سربراہان کو وزارت خارجہ کے توسط سے حکم دیا کہ وہ اپنے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں جنہوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت یا گروہ کی حمایت کی۔

جسٹس فائز عیسی کا اس مقدمے میں سرخرو ہونا آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والے ہر فرد کے لئے طمانیت کا باعث ہے۔جسٹس فائزعیسی کیس میں سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اس حوالے سے بہت اہم ہے کہ اعلی عدلیہ نے اپنے جج کے معاملے میں کسی بھی قسم کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کیا۔اعلی عدلیہ کی جانب سے اپنے جج کے معاملے میں کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے انصاف کرنا نہایت ہی خوش آئند ہے لیکن عوام کی بڑی تعداداپنے مقدمات میں بھی عدالتوں سے ایسے ہی انصاف کی امید رکھے ہوئے ہے۔ حکومت اور عدلیہ کے بڑوں کو عوام کو انصاف کی فراہمی کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیں کہ ہمارے عدالتی نظام پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔

تلخ حقائق یہ ہیں کہ ہمارا عدالتی نظام انصاف کی فراہمی کے حوالے سے دنیا کے 128 ملکوں کی فہرست میں 120نمبر پر ہے۔پاکستانی عدالتوں میں انصاف کی فراہمی بارے لوگوں کا عمومی تاثر یہ ہے کہ یہاں حکمران اشرافیہ اور بااثر افراد کو تو فوری انصاف مل جاتا ہے لیکن غریب عوام کی کئی کئی نسلیں انصاف کا انتظار کرتے دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں۔