ناروے کے دو بڑے ڈرامہ نگار: ہنرک ابسن اور بیورن ستیارنے بیورنسن

ناروے آبادی کے لحاظ سے بہت چھوٹا ملک ضرور ہے لیکن اس کی مٹی زرخیز ہے۔ مختصر سے آبادی والے چھوٹے سے ملک میں اعلی قسم کا ادب لکھا گیا۔ ابتدائی ادب لاطینی حروف تہجی میں لکھا گیا۔ گیارہویں صدی تک یہی مروج رہا۔ بتدریج یہ زبان اور اس کے حروف تہجی اپنی موت مر گئے اور نوردن کی اپنی زبان وجود میں آئی اور اسی زبان میں ادب لکھا گیا۔

 تیرہویں سے پندرہویں صدی تک ناروے ڈنمارک کے زیر تسلط تھا اور اسی لیے جو لکھا گیا وہ ڈینیش زبان میں لکھا گیا۔ ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے ناروے کی اپنی زبان وجود میں آئی۔ ناروے کے لوگ لکھنے پڑھنے کے بہت شوقین ہیں۔ کتابیں پڑھی بھی جاتی ہیں اور لکھی بھی۔ اکثر سے بھی بیشتر لوگ اپنی بایو گرافی لکھتے ہیں۔ نوشک ناروے کی سرکاری اور عوامی زبان ہے۔ اس میں ”آر“ ساکت ہے اس لیے اس کا تلفظ ”نوشک“ ہے۔ سترہویں صدی میں ناروے میں کچھ ڈینیش اور بعد میں اپنی زبان میں ادب لکھا جانے لگا۔ فکشن رایٹینگ میں دو دور بہت اہم تھے۔ ایک رومانویت اور دوسرا حقیقت نگاری۔

رومانویت اور حقیقت نگاری کا ایک درمیانی دور بھی تھا۔ یہ حقیقت کے اظہار کا دور تھا۔ اس میں زندگی کے تاریک پہلووں پر افلاس، بھوک، جنگ، بیماری، موت، کے ساتھ ساتھ طبقاتی فرق، سماجی نا انصافی، محبت اور محبت کی محرومی پر لکھا۔ ناروے نے اس دور میں کئی نامور مصنف پیدا کیے۔ دو بڑے نام ہیریک ابسن اور بیورن ستیارنے بیورنسن چمکتے دکھائی دیتے ہیں۔ دونوں لبرل تھے اور عورت کی حقوق کی بات کرتے تھے لیکن سوچ میں فرق تھا۔ ناروے میں تھیٹر ہمیشہ سے مقبول رہا ہے۔ اور آج بھی ہے۔ 1850 میں شہر برگن میں پہلا تھیٹر بنا اور اس میں ایبسن اور بیورسن دونوں کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔

ہنرک ابسن

 Henrik Ibsen (1828- 1906)

ہیرک ابسن مصنف بھی تھا اور ڈرامہ نگار بھی۔ ابسن بجا طور پر ماڈرن ڈرامہ کی بنیاد رکھنے والا سمجھا جاتا ہے۔ ابھی آٹھ سال کا ہی تھا کہ والد دیوالیہ ہو گئے اور ان سب کا بچپن غربت میں گزرا۔ تھیٹر سے دلچسپی تھی پہلے برگن کے اسٹیج پر کچھ عرصہ کام بھی کیا۔ اکیس سال کی عمر میں پہلا ڈرامہ لکھا۔ یہ ایک منظوم ڈرامہ تھا۔ اس کے بعد کئی اور ڈرامے لکھے اور وہ شہرہ آفاق ڈرامہ ”گڑیا گھر“ بھی۔1858 میں ایبسن نے سوزانہ تھورسن سے شادی کی۔ دونوں کا ایک بیٹا ہے۔ ابسن کا ماننا تھا کہ میاں بیوی صرف ساتھ ہی نہ رہیں بلکہ برابری کی سطح پر ساتھی بنیں اور آزاد رہ کر اپنی اپنی شخصیت برقرار رکھیں۔ اور یہی سوچ ابسن کے ڈرامہ ”گڑیا گھر“ میں نظر آتی ہے۔ ابسن کے نقادوں نے اسے نشانہ بنایا کہ وہ شادی کے ادارے کا احترام نہیں کر رہا۔

A doll’s house۔ Et dukkehjem

تین ایکٹ کا یہ ڈرامہ ”گڑیا گھر“ 1879میں لکھا گیا اور اس وقت سے لے کر آج تک یہ نارویجین ادب میں ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور موڈرن، حقیقی ادب میں اس کا شمار ہے۔ یہ کھیل مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر گیا۔ کئی زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا اور کئی ملکوں میں اسٹیج ہوا۔ کہانی کا مرکزی کردار نورا ہے جو بظاہر ایک خوش و خرم شادی شدہ زندگی گزار رہی ہے۔ اچھی بیوی اور اچھی ماں ہے وہ خوش نظر آتی ہے۔ نورا کئی طرح کے کرداروں میں بٹی دکھائی دیتی ہے۔ اپنے شوہر کی چھیڑ چھار کا ہنس کر جواب دیتی ہے۔ اس کے سامنے وہ ایک کم سن لڑؑکی کی طرح اٹھلاتی ہے۔ اور برابری کی سطح پر بات کرنے کے بجائے اس سے دب کر رہنا چاہتی ہے۔ دوستوں کی صحبت سے لطف اندوز ہوتی ہے۔ بچوں سے پیار کرتی ہے۔ کرسمس کی شاپنگ میں بے پناہ اصراف کرتی ہے۔ اس کا شوہر بھی کبھی اس پر بچوں کی طرح شفقت سے پیش آتا ہے۔ وہ کچھ میٹھی چیز کھاتی ہے تو اسے بچوں ہی طرح ڈانٹتا بھی ہے۔ کرسمس کی ضرورت سے زیادہ شاپنگ پر اس کی سرزنش بھی کرتا ہے۔ پھر یہ بھی کہتا ہے نورا جیسی بھی ہے اسے اس محبت ہے۔

نورا کی زندگی میں ایک راز ہے۔ اپنے شوہر توروالد کی بیماری کے علاج کی خاطر اسے رقم درکار ہوتی ہے۔ شوہر کو بتائے بغیر وہ اپنے باپ کے جعلی دستخط کر کے بنک سے رقم حاصل کرتی ہے۔ یوں وہ جعلسازی کی بھی مرتکب ہوتی ہے۔ ایک شخص اس کا یہ راز جانتا ہے۔  اور اس بنا پر اسے بلیک میل کرتا ہے۔ اس شرمندگی سے خود کو اور اپنے شوہر کو بچانے کی  خاطر نورا خودکشی کا بھی سوچتی ہے۔ راز کھلتا ہے تو توروالد طیش میں آ جاتا ہے وہ نورا کو منافق اور دروغ گو کہتا ہے اور یہ بھی کہ نورا نے اس کی خوشیوں کو برباد کر دیا اور وہ اسے اجازت نہیں دے گا کہ وہ بچوں کی پرورش کرے۔ اسی دوران توروالد کو علم ہوتا ہے کہ بلیک میلر نے وہ کاغذ واپس کر دیا جس پر نوارا نے جعلی دستخط کر کے رقم حاصل کی تھی توروالد کا رویہ بدل جاتا ہے وہ نورا کو تسلی دیتا ہے کہ جو ہوا اسے بھول جائے۔ نورا نے جو کیا وہ اس کی محبت میں کیا اور وہ اسے معاف کرنے کو تیار ہے۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ نورا کو اب اس پر پورا اعتماد کرنا چاہیے وہ اس کا نگران ہی نہیں اس کا استاد بھی ہے۔ اسے یہ بات بہت اچھی لگتی ہے کہ نورا اس کی اتنی محتاج ہے۔ وہ کہتا ہے اس نے نورا کو ایک نئی زندگی عطا کی اس لیے وہ اس کی بیوی ہی نہیں اس کی بچی بھی ہے۔

نورا جواب میں کہتی ہے کہ توروالد نے اسے کبھی سمجھا ہی نہیں اور آج سے پہلے وہ بھی اسے سمجھ نہیں پائی تھی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ان کی آٹھ سالہ شادی میں آج سے پہلے انہوں نے کوئی سنجیدہ گفتگو کبھی کی ہی نہیں۔ اس یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ اسے زندگی میں جو محبت ملی وہ اس رول کی ادائیگی میں ملی جو وہ پلے کرتی رہی ہے۔ اس پر نہیں جو وہ حقیقت میں ہے اور شوہر کے لیے اس کی حیثیت ڈرائنگ روم میں سجی گڑیا جیسی ہے کہ جب اس دل چاہے اس سے کھیلے اور پھر اسے طاق میں سجا دے۔ نورا کو شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی زندگی مصنوعی ہے اور یہ شادی بھی ایک دھوکا ہے وہ ایک سجاوٹی شے ہے۔ اس پر اگر کبھی برا وقت آیا تو اس کا شوہر اس کے ساتھ نہیں کھڑا ہوگا۔ وہ کہتی ہے کہ اب وہ ایک خودمختار عورت بن کر رہنا چاہتی ہے۔ وہ اپنی زندگی خود بنائے گی۔ اور کرسمس کے تیسرے دن نورا گھر بار، شوہر اور بچے سب کچھ چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔

ہ منظر بہت متنازع ہوا۔ اعتراض اٹھے کہ نورا نے شوہر کو تو چھوڑا لیکن اپنے بچوں کو کیوں چھوڑا؟ نقادوں نے ڈرامے کی اخلاقیات پر بھی سوال اٹھایا کہ کوئی ماں بھلا کیسے یہ کر سکتی ہے۔ جرمنی میں کہانی کا انجام بدلنے کو کہا گیا اور ابسن نے بادل نخواستہ ایسا کر لیا اور ایک مختلف اختتام لکھا جس میں نورا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی اور روتی رہی لیکن اس نے ٹھہرنے کا فیصلہ کیا، لیکن صرف اپنے بچوں کی خاطر۔ گو کہ ابسن اس بات سے انکار کرتا تھا لیکن یہ ڈرامہ فیمینیزم کا پہلو لیے ہوئے تھا کہ ایک عورت اس وقت کے پدرسری معاشرے میں کن کن دباؤ کا شکار ہوتی ہے۔ مرد اور عورت برابری کی سطح پر نہ ہوں تو شادی ایک ناگوار بندھن ہے اور اس ناگوار بندھن کو عورت ہی زبردستی نبھاتی ہے۔

بیورنستیارنے بیورن سن

 Bjørnstjerne Bjørnson ( 1832۔ 1910 )

بیورن سن کو صرف ناروے میں ہی نہیں بلکہ پورے یورپ میں ایک اہم ترین مقام حاصل ہے۔ شاعر، ڈرامہ نگار، ناول نگار، صحافی، عوامی لیڈر، تھیٹر ڈائریکٹر اور نمایاں سیاسی شخصیت۔ انہوں نے ناول بھی لکھے اور ڈرامے بھی۔ اس کے علاوہ شاعری بھی کی اور صحافت بھی۔ سیاسی بحث میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ہنریک ایبسن کے زمانے میں ہی پیدا ہوئے۔ دونوں میں دوستی بھی تھی اور رقابت بھی۔ ناروے میں ان کی بہت عزت و تکریم ہے۔ اس کی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے ناروے کے بارے میں ایک نغمہ لکھا ”ہاں ہمیں اس سر زمیں سے محبت ہے“ جو ناروے کا قومی ترانہ بن گیا۔ 1930 میں انہیں ادب کا نوبل انعام بھی ملا۔ یہ انعام انہیں ان کی شاعری پر ملا۔

A gauntlet – En hanske

ڈرامہ نگار کی حیثیت سے ان کا ڈرامہ ”دستانہ“ بہت مشہور بھی ہوا اور متنازع بھی رہا۔ 1890 میں لکھا جانے والا ڈرامہ بلاشبہ اس وقت کی ایک انقلابی تحریر تھی۔ مصنف کا واضح پیغام تھا کہ عورت بھی مرد سے وہی وفا اور وہی حرمت مانگ سکتی ہے جس کی مرد اس سے توقع رکھتا ہے۔ یہ دوہرا معیار نہیں چلے گا کہ مرد جو چاہے کرے لیکن عورت کو پاکباز ہی رہنا ہوگا۔ یہ تحریر اسی زمانے میں آئی جب ہنرک ابسن کی تحاریر سامنے آ رہی تھیں۔ لیکن ان دونوں کے اصل پیغام میں فرق تھا۔ ابسن کے ڈراموں میں ایک پیغام تو ضرور ہوتا تھا لیکن کہیں ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ پیغام دینے کے لیے لکھ رہا ہے۔ پڑھنے والے خود بعد میں نتیجہ اخذ کرتے۔ لیکن بیورنسن کے ڈرامہ دستانہ میں شروع ہی سے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ یہ ایک مضبوط قسم کا پیغام دینے کے لیے لکھا جا رہا ہے۔

یہ کہانی ایک لڑکی سواوا کی ہے جو اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہے۔ اس کی منگنی الف سے ہوئی ہے جو ایک اونچے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ دونوں اس منگنی سے خوش ہیں۔ ایک دن سواوا کا منگیتر اس کے سامنے یہ اعتراف کرتا ہے کہ اس کا ایک اور عورت سے بھی جنسی تعلق رہا ہے۔ سواوا جو اپنے منگیتر کی عزت کرتی تھی اس کے اس اعتراف سے بھر جاتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اسے اب اپنے منگیتر پر اعتبار نہیں رہا۔ مردوں کی منافق ذہنیت اور دوہرے معیار کو شدید ناپسند کرتے ہوئے منگنی توڑتی ہے اور ہاتھ سے ایک دستانہ اتار کر منگیتر کے منہ پر مار کر چلی جاتی ہے۔

وہ اپنی ماں کو ساری بات بتاتی ہے تو ماں کہتی ہے یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں، مرد تو ایسا کرتے ہی رہتے ہیں۔ ماں یہ بھی کہتی ہے کہ خود سواوا کے باپ کے بھی ایک اور عورت سے تعلقات رہے ہیں۔ یہ سن کر اسے اپنے باپ سے زیادہ اپنی ماں پر غصہ آتا ہے جس نے یہ بات برداشت کی اور اسی مرد کے ساتھ رہتی رہی جس نے اس کے اعتماد کو توڑا۔ سواوا ماں سے کہتی ہے کہ اس نے دوغلی زندگی گزاری اور دنیا کے سامنے اس کے باپ کی اصلیت چھپاتی رہی ہے

بیورن سن کا یہ ڈرامہ لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ عورتوں کو بھی مردوں سے توقع کرنی چاہیے کہ وہ پاکباز اور باوفا ہوں۔ دونوں میں مساوات ہو اور اخلاقیات کا اطلاق دونوں پر یکساں ہونا چاہیے۔ اس دور میں ناروے میں جنسی اخلاقیات پر بحث چل رہی تھی اور اخباروں رسالوں میں اس پر کھل کر لکھا جا رہا تھا۔ 1880 میں یہ بحث زور پکڑ گئی اور ڈراموں میں بھی یہ موضوع آ گیا۔ اس بات پر اعتراضات اٹھے کہ مرد کو اجازت ہے کہ وہ شادی کے بغیر بھی جنسی تعلقات رکھے اور عورت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ شادی کے وقت کنواری ہو۔ اسی دوہرے پن پر بیورن سن نے یہ ڈرامہ لکھا جس پر بے تحاشا تنقید ہوئی اور اسے اس میں کئی تبدیلیاں لانی پڑیں۔ ایک نئی بحث بھی شروع ہو گئی۔ ایک گروپ جس کا کہنا یہ تھا کہ شادی سے پہلے مرد کو بھی اپنا کنوارپن برقرار رکھنا ہو گا اس گروپ میں بیورن سن شامل تھے۔ دوسرے گروپ کا کہنا تھا مرد اور عورت دونوں اپنی مرضی سے جیئں اور جنسی عمل میں بھی دونوں کو برابر کی آزادی ملے۔ شادی سے پہلے جنسی ملاپ دونوں رکھ سکتے ہیں۔

دونوں مصنفین نے عورت کے حق میں آواز اٹھائی لیکن اپنے اپنے انداز میں۔